جمہوریت عالمی کمزوری کا شکار کیوں

مہنگائی دنیا بھر میں معیار زندگی کو گرا رہی ہے


Editorial February 12, 2022
مہنگائی دنیا بھر میں معیار زندگی کو گرا رہی ہےَ فوٹو : فائل

NEW DELHI: اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) نے کہا ہے کہ 2021 میں عالمی وبا اور آمریت کی بڑھتی ہوئی حمایت کے باعث دنیا بھر میں ایک بار پھر جمہوری معیار میں کمی ہوئی ہے اور اب دنیا کی صرف 45فیصد آبادی جمہوریت میں رہ رہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق لندن کے تجزیہ کار گروپ نے کہا ہے کہ 2020میں دنیا کی نصف سے کم آبادی جمہوریت میں رہ رہی تھی، تاہم یہ رجحان مزید خراب ہو گیا ہے۔ ای آئی یو نے کہا کہ سالانہ جمہوریت انڈیکس کے مطابق دنیا بھر میں جمہوریت کو مسلسل چیلنجز درپیش ہیں جو کہ کورونا وائرس کی وبا اور آمریت کی بڑھتی ہوئی حمایت کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔

اس سالانہ انڈیکس نے، جو کہ عالمی جمہوریت کی حالت کی پیمائش فراہم کرتا ہے، 2010 کے بعد سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی ہے جو کہ 2006 میں شایع ہونے والے پہلے انڈیکس سے اب تک کا بدترین اسکور اور مایوس کن ہے۔ یورپ میں اسپین کی تنزلی کرکے ناقص جمہوریت کا درجہ دیا گیا ہے جس میں اس کی عدالتی آزادی کے اسکور کی گرتی صورتحال کو ظاہر کیا گیا ہے۔

ای آئی یو نے کہا کہ پارٹی فنانسنگ کے تنازعات اور اسکینڈلز کے سلسلے کے باعث لندن کی رینکنگ بھی گر گئی ہے، تاہم اس میں مکمل جمہوریت برقرار ہے۔ دنیا کی45.7 فیصد آبادی کسی طرح کی جمہوریت میں رہ رہی ہے تاہم2020 کے مقابلے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ 49.4 فیصد تھی۔

یونٹ نے کہا کہ چلی اور اسپین مکمل جمہوریت سے گر کر ناقص جمہوریت میں شامل ہونے کے باعث دنیا کی صرف 6.4 فیصد آبادی مکمل جمہوریت میں رہ رہی ہے۔ دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی آمریت میں رہ رہی ہے جس کا بڑا حصہ چین میں ہے۔ ای آئی یو نے کہا کہ چین، امیر ہونے کے باوجود جمہوری ملک نہیں بن سکا، اس کے برخلاف چین میں آزادی میں مزید کمی آئی ہے۔

انڈیکس میں سرفہرست تین ممالک میں ناروے، نیوزی لینڈ اور فن لینڈ شامل ہیں جب کہ شمالی کوریا، میانمار اور افغانستان آخری نمبروں پر موجود ہیں۔ تیونس کے ساتھ میانمار اور افغانستان میں فوجی بغاوت اور طالبان کے قبضے کے بعد انڈیکس میں سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

واضح رہے کچھ عرصہ قبل واشنگٹن میں ہونے والے ڈیموکریسی اجلاس میں غیر جمہوری قوتوں پر پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ اخبار میں شایع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان ان 110ممالک میں شامل ہے جنھیں9 سے 10دسمبر کے اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا لیکن اس کی جانب سے ابھی تک شرکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔ امریکی میڈیا کے مختلف پبلیکیشنز نے رپورٹ کیا تھا کہ امریکی محکمہ خزانہ آیندہ اجلاس کے موقع پر سلسلہ وار پابندیاں عائد کرے گا، جن میں ایسے لوگوں کو نشانہ بنایا جائے گا جو جمہوریت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

ان پابندیوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بدعنوانی میں ملوث افراد کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ واشنگٹن میں ایک ترجمان نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'محکمہ خزانہ ایسے افراد کو نامزد کرنے کے لیے متعدد کارروائیاں کرے گا جو دنیا بھر میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے والی بدنیتی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جس میں بدعنوانی، جبر، منظم جرائم، اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ محکمہ خزانہ بدعنوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے والی خامیوں کو دور کرنے کے سلسلے میں بھی اقدامات کا اعلان کرے گا۔ واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک 'کانیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس' نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے اجلاس میں حکومتوں کو مدعو کرتے ہوئے سب کی شمولیت کے نقطہ نظر کا انتخاب کیا۔ جن کو مدعو کیا گیا۔

ان میں لبرل جمہوریتیں، کمزور جمہوریتیں اور آمرانہ خصوصیات والی ریاستیں بھی شامل ہیں۔ یو ایس فریڈم ہاؤس انڈیکس فار ڈیموکریسیز نے مدعو کیے گئے77 ممالک کو آزاد یا مکمل جمہوری ریاست قرار دیا جب کہ3 کو جزوی آزاد قرار دیا گیا جب کہ انگولا، کانگو اور عراق کو غیر آزاد کے درجے میں رکھا گیا۔ دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والی جمہوریت بھارت، پاکستان کے ساتھ2021 میں آزاد حیثیت سے جزوی طور پر آزاد کے درجے پر گر گیا ہے۔

کارنیگی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس کے مدعو کیے گئے 8 ممالک جمہوریت کی درجہ بندی میں غیر معمولی طور پر نیچے گر گئے ہیں جب کہ 4 بشمول برازیل اور بھارت گزشتہ 10سالوں میں جمہوریت کی بلند ترین سطح سے نیچے آگئے ہیں۔ فہرست میں یورپ مدعو کیے گئے 29 ممالک کے ساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد مغربی نصف کرہ کے 27ممالک ہیں، اس کے ساتھ ایشیا پیسفک اور سب صحارا افریقہ کے بالترتیب 21 اور 17 ممالک شامل ہیں۔

اس کے برعکس مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، جنوبی اور وسطی ایشیا کے چند ممالک ہیں جنھیں مدعو کیا گیا۔ مشرق وسطیٰ میں صرف عراق اور اسرائیل، کو دعوت دی گئی جب کہ جنوبی اور وسطی ایشیا سے صرف 4ممالک، بھارت، مالدیپ، نیپال اور پاکستان کو مدعو کیا ۔

اقتصادی مبصرین اور جمہوریت کے اضمحلال پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جمہوریت کو شدید خطرات کا سامنا ہے، ان کا کہنا ہے کہ معاشی عوامل میں جمہوریت، انتشار، دہشت گردی، اور ناقص گورننس کو بھی اس ابتر صورتحال میں شامل رکھا گیا ہے، بہر حال اس بات کا خیال رکھا جائے کہ مغرب میں جمہوریت، گڈ گورننس اور مثالی معاشی صورتحال کے اشاریے بھی طاقتور جمہوریتوں کو سوالیہ نشان کے طور پر اپنی رپورٹوں میں تاریخ دانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رہے ہیں۔

بعض مغربی جرائد اور اخبارات بھی کافی عرصہ سے ڈارک ڈیموکریسی کے ابھرتے اشاریوں میں خبردار کرتے رہے ہیں کہ جمہوریت کو لاحق خطرات بین الاقوامی نوعیت کے ہیں، دنیا رفتہ رفتہ آمریت اور جمہوریت کے مسئلہ پر انتخاب اور فیصلے کی جانب عملی طور پر کچھ کرنے کا سوچ رہی ہے، یہ ان ایشیائی ممالک کے لیے ایک اشارہ ہے کہ ان کی جمہوریتیں فعالیت اور کارکردگی کے نازک سوالیہ نشان پر ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق جمہوریت اور مہنگائی کے دلچسپ تناظر نے پاکستان سمیت پوری دنیا میں معیار زندگی کو نقصان پہنچایا ہے، پاکستان سے لے کر امریکا، آسٹریلیا سے جرمنی تک، بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور نئی مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق پاکستانی روپے کی قدر میں تیزی سے کمی کے ساتھ مہنگائی کی شرح 13فیصد ہے، خوراک کی قیمتوں میں17فیصد اضافہ ہوا ہے، کم اور متوسط آمدنی والے اس سے نمٹنے کی جد و جہد کر رہے ہیں جو پہلے ہی اپنی نصف آمدنی خوراک پر خرچ کر چکے ہیں۔

حال ہی میں آلو کی قیمت میں 5 فیصد، چکن کی قیمت میں 4.5فیصد اور کیلے کی قیمت میں 2.5فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں کوکنگ آئل کی قیمت میں27 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چینی کی قیمت ایندھن سے زیادہ رہی۔ جنوری میں، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار، پٹرول کی قیمت150روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جو کہ تقریباً 40فیصد اضافہ ہے۔

مقامی پالیسی کے فیصلوں نے عالمی دباؤ کو بڑھا دیا ہے۔ حکومت نے6 ارب ڈالر کا بیل آؤٹ حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ لاگت میں کمی کے اقدامات پر اتفاق کیا ہے، جس میں پٹرول اور توانائی کے زیادہ ٹیرف اور زیادہ ٹیکسز پر لیوی شامل ہیں۔

پاکستان میں بجلی کی قیمت پہلے ہی اپنے ہمسایہ ممالک بھارت اور بنگلہ دیش سے دو گنا ہے۔ ضروریات زندگی کی ناقابل برداشت قیمتوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر عدم اطمینان اور غصہ پایا جاتا ہے، وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں کہا تھا کہ مہنگائی کے اثرات نے مجھے راتوں کو جگایا لیکن اصرار کیا کہ یہ ایک عالمی رجحان ہے۔ سیاسی اپوزیشن کی جانب سے اب مہنگائی کے خلاف احتجاجی مارچ کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ برطانوی اخبار نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ کئی دہائیوں کے سائے میں رہنے کے بعد، مہنگائی واپس آ گئی ہے۔

قیمتوں میں اضافہ بہت سے امریکیوں کے لیے ایک حقیقی خوف بنا ہوا ہے۔ بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق مہنگائی میں ساڑھے سات فیصد اضافہ ہوا، جو 1980 کی دہائی کے بعد سے دیکھا گیا۔

پچھلے سال قیمتوں میں 5.4 فیصد اضافے کے ساتھ برطانیہ بھی پیچھے نہیں ہے۔ یورو زون میں یورو استعمال کرنے والے 19 ممالک میں مہنگائی 5.1 فیصد تک پہنچ گئی، جو 1997 کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔ مہنگائی دنیا بھر میں معیار زندگی کو گرا رہی ہے۔ امریکی افراط زر جنوری میں 1982 کے بعد اپنی تیز ترین رفتار پر پہنچ گیا، جس نے قیمتوں کو 7.5 فیصد سالانہ شرح سے بڑھایا، یہ مسلسل تیسرا مہینہ ہے جس میں مہنگائی 6 فی صد کی سالانہ شرح سے تجاوز کر گئی۔ قیمتوں میں اضافے نے سب کو متاثر کیا ہے لیکن افراط زر نے غریب امریکیوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جمہوریت، استقامت یا معاشیات کا معتدل راستہ کب سامنے آئیگا، کیا مسئلہ یہ نہیں کہ سیاست اور حکمرانی پیچیدہ تر ہوگئے ہیں، جمہوریت کو آج آمریت نہیں خود جمہوری تہذیب سے ڈر لگ رہا ہے دوسری طرف تہذیب شہریوں سے نہیں افراد سے خوفزدہ ہے؟

مقبول خبریں