تھر میں گندم کی تقسیم میں تاخیر کو نظرانداز نہیں کرسکتےوزیراعلیٰ

اب تک48ہزار خاندانوں میں گندم تقسیم کردی ہے، باقی کو4سے پانچ دن میں کردی جائیگی


سندھ پولیس کراچی میں جرائم کو کنٹرول کرنے کی طرف گامزن ہے، گفتگو، پریس کانفرنس فوٹو: فائل

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے واضح کہا ہے کہ اب تھرپارکرکے متاثرہ علاقوں کے ریلیف میں جو بھی تاخیرکا سبب بنے گا۔

چاہے وہ وزیر اعلیٰ ہو، وزیر ہوں، مشیر ہوں، ایم این اے ہو، ایم پی اے ہو یا پھر افسران ہوں، ان کے خلاف رپورٹ آنے پر کارروائی ہو گی۔ مخدوم امین فہیم کی بہت عزت کرتا ہوں وہ ہمارے بڑے ہیں، لیکن وہ تھر نہیں آئے اب ان کو پتہ چل گیا ہوگیا کہ تھر میں ریلیف میں تاخیرکس کی غفلت ہے۔ متاثرین کو مفت گندم فراہم کرنے کے لیے 1998کی مردم شماری کی فہرست میں گروتھ ریٹ کے حساب سے اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے دربار حال مٹھی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چند گھنٹے قبل مشیر ریلیف بنائے جانے والے تاج حیدر، صوبائی وزیر دوست علی راہموں، اصغر جونیجو، علی مردان شاہ، جام خان شورو، ایم این اے فقیر شیر بلالانی، پیر نور محمد شاہ جیلانی، ایم پی اے ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، کمشنر میرپورخاص ساجدجمال ابڑو، و دیگر افسران بھی موجود تھے۔ قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک تھرپارکر آتے رہیں گے، جب تک یہاں کے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انھوں نے ایک بار پھر تسلیم کیا کہ تھر پارکر میں بچوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں اور مویشی بھی مرے ہیں، ایسے میں گندم کی تقسیم میں تاخیر بھی ہوئی ہے، جس کوکسی بھی طور نظر انداز نہیں کیاجا سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اب تک48 ہزار خاندانوں میں گندم کی بوریاں تقسیم کی جاچکی ہیں اور باقی کو بھی آئندہ4 یا 5 دن میں گندم تقسیم کردی جائے گی ہماری کوشش ہے کہ لوگوں کو پیٹ بھر کے کھانا ملے، جو ان کا حق ہمارا فرض ہے۔ جانوروں کے چارے کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے تھر آ کر سوکروڑ روپے دینے کا اعلان کرنے پر وزیراعظم نواز شریف، امدادی سامان بھیجنے پرکے پی کے اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا اورکہا کہ کراچی کے مخیر حضرات بھی امداد بھیج رہے ہیں۔قبل ازیں وزیر اعلیٰ کراچی سے بذریعہ ہیلی کاپٹر مٹھی پہنچے تو انھیں دربار ہال مٹھی میں بدھ کی صبح ہی مقرر ہونے والے وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر تاج حیدر نے بریفنگ دی۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ سندھ نے ڈیپلو کے مختلف دیہات مالیہار، ابڑائی، ویڑی جپ، واڈور میں 800 سے زائد خاندانوں میں گندم تقسیم کی، جبکہ کلوئی کے گاؤں میں گندم کے ساتھ راشن بھی تقسیم کیا۔ قائم علی شاہ نے ویڑی میں بنیادی صحت مرکز کا بھی دورہ کیا اور مریضوں سے ان کی خیریت دریافت کی۔ دریں اثنا کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ،پولیس کو جدید اسلحہ ، گاڑیاں ودیگر سہولتیں فراہم کرنے اورکراچی میں جرائم کوکنٹرول کرنے کی طرف کامیابی سے گامزن ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ رات ایوان صنعت و تجارت کراچی اورکراچی سائٹ ایسوسی ایشن کے وفود سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا ۔

وفود سیکیورٹی اقدامات اور چندروز قبل نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے معروف صنعت کارعبداللہ رئیس کے واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کرنے کیلیے آئے تھے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے صنعت کار عبداللہ رئیس کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کے بھائی احتشام رئیس سے واقعے کی مزید معلومات حاصل کیں اور وفد کو یقین دہانی کرائی کہ عبداللہ رئیس کے قاتلوں کوانصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، انھوں نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کا قیام وفاقی و صوبائی حکومتوں کی اولین ترجیح ہے ۔ سندھ پولیس اور رینجرز کی بر وقت قابل تعریف کارروائیوں کے سبب 180 دہشتگرد مارے گئے اور 393 مجرموں کو انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں چالان کیا گیا ہے،ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات نے بتایا کہ ٹارگٹڈ آپریشن کے بعد ٹارگٹ کلنگ کی شرح میں33 فیصد کمی رونما ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے تعلقہ اسپتال ڈیپلو، رورل ہیلتھ سینٹر اسلام کوٹ کا دورہ کیا اور وہاں علاج معالجے کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اسپتالوں کے دورے کے بعد وہ رات گئے مٹھی واپس پہنچ گئے اور ریسٹ ہاؤس میں قیام کیا۔

مقبول خبریں