بسنتی خواب

کیسے بڑے بڑے نام جو ہتھیاروں پر لکھے جاتے ہیں اور عوام جن لوگوں کو ہتھیارا سمجھتے ہیں۔۔۔


Zahida Hina March 22, 2014
[email protected]

کیسا چمن؟ کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے

چاکِ قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا

یہ شعر دو صدی پہلے میر صاحب کہہ گئے تھے : یہ ہماری بدبختی تھی کہ ہم آزادی کے بعد بھی اسیر بلا رہے اور چاکِ قفس سے باغ کی دیوار دیکھنے کی حسرت ہی رہی۔ ہماری اس بدبختی پر جوانی ضیا شاہی دور میں آئی اور جمہوری دور شروع ہونے کے بعد بھی یہ پچھل پائی ہمارے گھر سے نہیں گئی۔

ایک ایسے عالم میں گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اڑتا ہوا کوئی جگنو کیسے افق تا افق روشنی کی لکیر کھینچ دیتا ہے اور ناامیدی کے جنگل میں امید کی سرخ کونج کیسے اڑان بھرتی ہے، یہ منظر دیکھنے ہوں تو 80 کی دہائی کے دنوں پر نظر کیجیے جب کچھ نوجوانوں نے ذاتی خوشیوں کو طاق نسیاں پر رکھ کر سیاست، علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کے میدان میں خواب دیکھے اور دکھائے۔ یہ نوجوان اب اپنی زندگیوں کا نصف حصہ گزار چکے لیکن انھوں نے اپنی ڈگر نہیں چھوڑی۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہر طرف دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ پرستی اور عدم برداشت کے اژدھے پھنکارتے ہیں۔

ان دنوں کراچی میں ''ناپا'' کا تھیٹر فیسٹیول چل رہا ہے جس میں شرکت کے لیے ''اجو کا تھیٹر'' کی مدیحہ گوہر اور شاہد محمود ندیم اپنے دو ڈرامے، ''میرا رنگ دے بسنتی'' اور ''لو پھر بسنت آئی'' لے کر آئے۔ یہ تھیٹر گروپ انھوں نے 1984ء میں قائم کیا تھا اور اب 2014ء میں ''اجوکا'' 30 برس کا ہوا۔ تمام مخالفتوں اور مشکلوں کے باوجود ان دونوں نے کس استقامت سے وہ کھیل لکھے اور پیش کیے جو براہ راست ان لوگوں کے خلاف تھے جنھوں نے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کیا اور ہماری تہذیبی اور ثقافتی اقدار پر ہل چلا کر اس پر عدم برداشت اور دہشت گردی کا نمک چھڑک دیا۔ ''اجوکا تھیٹر'' کے ڈرامے پنجاب کی ثقافت اور علم و ادب کی روایات سے پھوٹے ہیں۔ تب ہی انھوں نے ''مرا رنگ دے بسنتی'' بھگت سنگھ کے حوالے سے پیش کیا۔ افسوس کہ میں اسے دیکھ نہیں سکی لیکن بھگت سنگھ کی زندگی اور آزادی کی راہ میں دی جانے والی قربانی کا جشن اجوکا نے جس شان سے منایا، وہ قابل داد ہے۔

یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ بھگت سنگھ نے مٹھی بھر نوجوانوں کو اکٹھا کرکے جس طرح برطانوی راج کو دہشت زدہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان لوگوںنے ابتدا سے ہی ادیبوں اور شاعروں کو متاثر کیا۔ بھگت سنگھ کی پھانسی کے بعد اردو، ہندی، مراٹھی، بنگلہ، تیلگو، گجراتی، تامل، سندھی اور پنجابی میں مضامین، کہانیاں اور شعر لکھے گئے۔ اردو میں سید سبط حسن کی کتاب ''بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی'' بہت مقبول ہوئی۔ اپنے افسانے ''چھٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا'' میں قرۃ العین حیدر بھگت سنگھ اور دوسرے انقلابیوں کا ذکر کرتی ہیں۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی خفیہ سرگرمیوں کو بہت تفصیل سے میں نے اپنے طویل افسانے ''آخری بوند کی خوشبو'' میں لکھا ہے۔ شیخ ایاز نے سندھی میں بھگت سنگھ کی پھانسی پر ایک ناٹک لکھا جو احمد سلیم نے پنجابی میں ترجمہ کیا۔ یہ ترجمہ ''جو بیجل نے آکھیا'' میں شامل ہے اور اس کا نام ''آزادی'' ہے۔ کے کے کھلر نے اس نظم کا حوالہ اپنی ہندی کتاب ''شہید بھگت سنگھ'' میں دیا ہے۔

شیخ ایاز کا منظوم ناٹک لاہور سینٹرل جیل سے شروع ہوتا ہے لیکن اس میں جیل جانے سے پہلے کی جھلکیاں بھی ہیں۔ لاہور کا ایک تہ خانہ ہے رات ہوگئی ہے۔ میز پر ایک لالٹین جل رہی ہے۔ دیوار پر ہندوستان کا نقشہ ہے اس کے ساتھ ہی جھانسی کی رانی، تانیتا ٹوپے اور نانا فرنویس کی فریم شدہ تصویریں آویزاں ہیں۔ میز کے ارد گرد بھگت سنگھ، ڈاکٹر گیا پرشاد اور کشوری لال بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف چندر شیکھر آزاد، راج گرو اور سکھ دیو ہیں۔ میز پر ایک اخبار رکھا ہے جس کے صفحہ اول پر سیاہ حاشیے میں شیر پنجاب لالہ لجپت رائے کے انتقال کی خبر چھپی ہوئی ہے۔ لالہ لجپت رائے کو چند دنوں پہلے ایک پرامن جلوس کی قیادت کرنے کے جرم میں لاہور کی سڑکوں پر پولیس نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور وہ زخموںکی تاب نہ لاکر ہلاک ہوچکے ہیں۔

تاریخی اعتبار سے اس میٹنگ کی نہایت اہمیت ہے۔ اسی لیے شیخ ایاز نے اپنے ناٹک میں اسے تفصیل سے دکھایا ہے۔ یہیں لاہور کے ایس پی پولیس کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس موقع پر بھگت سنگھ ہمیں یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ سارا دیش جہالت کی زندگی بسر کررہا ہے۔ ان پڑھ لوگ سنیاسیوں، جوگیوں، نام نہاد فقیروں اور درویشوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ تعلیم یافتہ لوگ خان بہادر اور رائے بہادر کے خطابات کے لیے سرکار کی منتیںکر رہے ہیں۔ انگریزوں اور ان کے قائم کیے ہوئے اداروں نے ہم لوگوں کی سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی قوت سلب کرلی ہے۔ اس ناٹک کا آخری منظر وہ ہے جب کھولی پر پڑے ہوئے تالے میں چابی گھومنے کی آواز آتی ہے۔ جیل کے حکام اندر آتے ہیں اوربھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو پھانسی گھاٹ تک لے جاتے ہیں۔ یوں ایک جدوجہد بظاہر ختم ہوجاتی ہے لیکن اس شہادت کی روشنی دور تک جاتی ہے اور آج پون صدی گزر جانے کے بعد بھی لوگوں کے سینوں کو منور کرتی ہے۔

اسی روشنی میں یاد آتا ہے کہ دو دن پہلے نوروز کا تہوار گزرا ہے جو اب سے چند برس پہلے تک دلی اور لکھنو سے پشاور تک، افغانستان، ایران اور وسطیٰ ایشیا کے مختلف ملکوں میں دھوم دھام سے منایا جاتا تھا۔ یہ ''نوروز'' کہیں بسنت اور کہیں ''پھاگن'' کہلاتا۔ ''لو پھر بسنت آئی'' ایک عوامی تہوار کے قتل کا قصہ ہے۔ وہ بسنت جو لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں دھوم دھام سے منائی جاتی۔ آسمان لال، پیلی، نیلی، دھانی اور پیازی پتنگوں سے ڈھک جاتا، اس عوامی تہوار کو بدعت سمجھنے والوں نے دھاتی ڈور اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کو بہانہ بناکر اس تہوار پر ہی پابندی لگوا دی اور عوامی خوشیوں کا گلا گھونٹ دیا گیا، ہر موسمی تہوار لوگوں کو اپنی سیکڑوں برس پرانی روایتوں کی یاد دلاتا ہے۔ ڈھول اور مجیرے، نفیری اور تاشے کی آواز بدعت ہے۔ ایسی ہر آواز کا گلا گھونٹ دیا جائے۔ ''محلہ پتنگ سازاں'' ڈھا دیا جائے، بوڑھا پتنگ ساز استاد موجو اور اس کی بنائی ہوئی پتنگوں کے پَر کتر دیے جائیں۔ ''شاہنامۂ اسلام'' لکھنے والے حفیظ جالندھری جو اسے اپنا عظیم کارنامہ سمجھتے تھے، وہ بھلایا جاچکا لیکن ان ہی کا لکھا ہوا گیت لو پھر بسنت آئی... پھولوں میں رنگ لائی بجے جل ترنگ... من پر امنگ چھائی، لو پھر بسنت آئی... دھرتی پہ بیل بوٹے، اندازِ نو سے پھوٹے... کہیں دل میں درد کہیں آہ سرد، کہیں رنگ زرد ...ملکہ پکھراج کی آواز میں زندہ ہے اور ناپا کے آڈیٹوریم میں گونج رہا ہے۔

استاد موجو ذلیل کیا جا رہا ہے۔ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی زندگی عذاب ہوچکی۔ خان ٹھیکیدار کی گلیوں اور بازاروں پر، اسکولوں اور کالجوں پر اجارہ داری ہے۔ پروفیسر ذلیل کیے جاتے ہیں، ادب خرافات ہے، کتابیں جلادو۔فلسفہ حرام ہے، اس کی کتابیں پھاڑی جاتی ہیں، موسیقی حرام ہے، ساز توڑ دیے جاتے ہیں، استاد نوجوانوں کو امیر خسرو اور ان مسلمان موسیقاروں کے بارے میں بتاتا ہے جنھوں نے کمالات دکھائے اور برصغیر کی موسیقی کو دنیا کی عظیم موسیقی کے درجے پر فائز کیا لیکن سب حرام، امیر خسرو اور نظام الدین اولیاء کے حوالے سے ''سکل بن پھول رہی سرسوں'' گائی جائے تو اس آواز کا بھی گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ لیکن کہیں آوازوں کا سفر بھی رک سکا ہے۔ سرحدیں ہیں، ان سرحدوں پر خار دار تاروں کی باڑیں ہیں لیکن پتنگیں اور آوازیں پَر لگا کر اُڑتی ہیں اور لوگوں کی سماعتوں میں گُل بوٹے کاشت کرتی ہیں۔ لتا منگیشکر اور محمد رفیع کا دُگانا ہال میں گونجتا ہے چلی چلی رے، پتنگ میری چلی رے... شنکر جے کشن کی موسیقی۔ کراچی کی نوجوان اور بوڑھی نسل کی ہتھیلیاں تالیاں بجاتے ہوئے سرخ ہوجاتی ہیں۔

ہمارے شہروں اور بستیوں پر لشکر لے کر چڑھ آنے والے، کھیتوں کھلیانوں کو، باغ بغیچوں، مردوں اور عورتوں کو صدیوں روندتے رہے۔ کیسے بڑے بڑے نام جو ہتھیاروں پر لکھے جاتے ہیں اور عوام جن لوگوں کو ہتھیارا سمجھتے ہیں۔ تاریخ پر جھوٹ کی کتنی قلعی کی جائے گی، سچ آخر کار سر بلند ٹھہرے گا۔ بھگت سنگھ کا بسنتی چولا محترم ٹھہرے گا اور ہماری بستیوں میں بسنت منائی جائے گی، سکل بن پھول رہی سرسوں کا گیت گایا جائے گا۔ خسرو کے مزار پر منتیں ماننے والے خستہ حال، خستہ تن لوگوں کی قطاریں رہیںگی، کوئی دن جاتا ہے کہ مادھو لال حسین کا میلہ چراغاں دلوں کو منور کرے گا۔ پتنگیں پھر اڑیں گی اور استاد موجو کی پھر موجیں ہوں گی۔ مدیحہ اور ندیم خوش رہیں کہ وہ 30 برس سے برے دنوں میں اچھے دنوں کی نوید دیتے رہے ہیں اور لوگوں کی آنکھوں میں انھوں نے سنہرے روپہلے دھانی گلابی اور بستی خواب رکھ دیے ہیں۔ خواب کس کے روکے سے رکے ہیں، وہ سرسوں کے پھول کی طرح یا گیہوں کے دانے کی طرح ہیں، کسی بھی پتھریلی درز سے اگ آتے ہیں۔

مقبول خبریں