میرا نام نہ لینا

اگر اگلے سال ایونٹ نہیں کرایا تو 2 برس بعد بھی کیا گارنٹی ہے کہ بھارتی ٹیم آئے گی؟


Saleem Khaliq October 19, 2022
اگر اگلے سال ایونٹ نہیں کرایا تو 2 برس بعد بھی کیا گارنٹی ہے کہ بھارتی ٹیم آئے گی؟ فوٹو:فائل

''اگر اس نے ہماری بات نہ مانی تو اچھا نہ ہوگا، پھر دیکھو ہم اس کا کیا حال کرتے ہیں، چاہو تو اسے بتا دینا ہاں مگر میرا نام نہ لینا''

ہماری زندگی میں اکثر ایسے لمحات آتے ہیں جب لوگ کسی سے کچھ کہنا چاہتے ہیں مگر نتائج سے خوفزدہ ہو کر سامنے آتے نہیں، میڈیا ایسے معاملات میں خوب استعمال ہوتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی خبر دے رہا ہے حالانکہ ہمارے ذریعے سے اپنی فیس سیونگ ہو رہی ہوتی ہے یا کسی سے حساب چکتا کیا جا رہا ہوتا ہے، چھوٹے معاملات میں تو یہ سب کچھ چل جاتا ہے مگر کوئی بڑی بات ہو تو پھر چھپنے کی کوئی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

بھول جائیں کہ آپ کو بعد میں شاید کبھی بھارت جا کر کمنٹری کرنے کا موقع مل جائے یا آئی سی سی میں ملازمت کرنی ہے، جہاں ملک کی بات ہو اپنے مفاد کو چھوڑ دینا چاہیے، بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا، گذشتہ روز بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری اور ایشین کرکٹ کونسل کے صدر جے شاہ نے بیان داغ دیا کہ ''آئندہ برس ٹیم ایشیا کپ کیلیے پاکستان نہیں جائے گی، ایونٹ نیوٹرل وینیو پر ہوگا'' چند روز قبل ہی بھارتی میڈیا میں خبریں آئی تھیں کہ ٹیم کو بھیجنے پر غور ہو رہا ہے البتہ یہ حکومتی اجازت سے مشروط ہے۔

اب جے شاہ کے بیان نے امید بالکل ہی ختم کر دی، وہ اگر صرف بی سی سی آئی کے آفیشل ہوتے تو بیان کی اہمیت کم ہو سکتی تھی مگر اے سی سی کی ٹاپ پوزیشن پر جے شاہ براجمان ہیں، ایسے میں ان کے بیان کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ افسوس اس بات کا ہے کہ پی سی بی نے اتنے بڑے معاملے پر چند سطور کی میڈیا ریلیز جاری کرنا بھی مناسب نہ سمجھا، رائی کا پہاڑ بنانے میں ماہر میڈیا ڈپارٹمنٹ خاموش بیٹھا ہے۔

چیئرمین رمیز راجہ جو ٹویٹس کے خاصے شوقین ہیں وہ بھی سامنے نہیں آ رہے، البتہ چند صحافی دوستوں کو واٹس ایپ یا کال پر یہ پیغام ضرور ملا کہ خبریں چلا دو کہ ''ہم بھی ورلڈکپ کا میچ کھیلنے بھارت نہیں جائیں گے یا ''ہم ایشین کرکٹ کونسل کو چھوڑ دیں گے، ہاں مگر کسی کو بتانا نہیں کہ ہم نے ایسا کہا ہے سورسز سے چلا دو''۔ ہمیں اس معاملے کو ہلکا نہیں لینا چاہیے۔

پاکستان میں برسوں بعد انٹرنیشنل کرکٹ واپس آئی،آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسی بڑی ٹیمیں بھی یہاں کھیل کر ہنسی خوشی چلی گئیں، اب نیوزی لینڈ کو بھی آنا ہے، حالات ماضی کے اس دور کی طرح ہو گئے جب کرکٹ کو اہمیت دی جاتی تھی سیکیورٹی معاملات معمول کی کارروائی ہوتے تھے، ظاہر ہے بھارت یہ سب کچھ دیکھ کر جل بھن رہا ہوگا، پہلے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو جعلی ای میل بھیج کر ڈرایا گیا جس سے دورہ ملتوی ہوا۔

انگلینڈ نے بھی ٹور سے انکار کر دیا،اس وقت پھر پاکستان کرکٹ کے تنہائی کا شکار ہونے کا خدشہ سامنے آ گیا تھا مگر انگلش میڈیا اور کرکٹرز نے ہی اپنے بورڈ پر تنقید کی جس سے اس کی آنکھیں کھل گئیں، کیویز کو بھی غلطی کا احساس ہو گیا، یوں میدان بدستور آباد رہے، اب پاکستان کا مقصد آئی سی سی اور اے سی سی ایونٹس کا انعقاد ہے، اگر آئندہ برس ایشیا کپ کو منتقل کیا گیا تو کرکٹ کی مکمل واپسی کی کوششوں کو سخت ضرب لگے گی، اگر بھارتی ٹیم یہ ایونٹ کھیلنے نہیں آ رہی تو چیمپئنز ٹرافی کیلیے ٹور سے بھی انکار کر دے گی تو کیا اسے بھی نیوٹرل وینیو پر منتقل کر دیں گے؟آئندہ برس بھارت میں ورلڈکپ ہونا ہے۔

ہم نے ایسا سوچا بھی نہیں کہ ٹیم کو نہیں بھیجیں گے کیونکہ پاکستانی تنگ نظر نہیں ہوتے لیکن بھارت ہمارے خلاف سب کچھ کرنے کیلیے تیار رہتا ہے، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو کب تک پاکستان مفاہمتی پالیسی اپناتا رہے گا، کبھی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہوگا مگر اس کا نقصان کرکٹ کو ہی ہوگا، کھیل ملکوں کے تعلقات بہتر بناتے ہیں، کوہلی کیلیے بابر کی ٹویٹ ، پھر بابر کیلیے کوہلی کے ستائشی کلمات، روہت اور بابر کی ہنستے ہوئے تصاویر اور مثبت بیان، گاوسکر کی پاکستانی کرکٹرز سے ملاقات، ایسی باتوں سے اچھا تاثر سامنے آیا اور دونوں ملکوں کے شائقین نے اسے سراہا بھی تھا، مگر جے شاہ نے اس پر پانی پھیر دیا، وہ بی جے پی کے امیت شاہ کے بیٹے ہیں۔

ظاہر ہے ان کے منہ سے پھول تو نہیں جڑیں گے، منافقت کی انتہا یہ ہے کہ آئی سی سی یا اے سی سی ایونٹس سے چونکہ بہت زیادہ ڈالرز آ رہے ہوتے ہیں تو ان میں پاکستان سے مقابلے پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، ہاں مگر باہمی سیریز نہیں کھیلنی، ٹیم کو ایشیا کپ تک کیلیے پاکستان نہیں بھیجنا، یہ رویہ ناقابل قبول ہے، کب تک ایسا چلے گا، ہمارا بورڈ تو اتنا بزدل ہے کہ ایک مذمتی بیان تک نہیں دے سکتا۔

کاش کوئی تگڑا چیئرمین ہوتا جو سخت اسٹانس تو اپنانا،اب تو حکومت کو ہی اس حوالے سے کوئی پالیسی بنا کر دینی چاہیے تاکہ مسئلہ حل تو ہو، پہلے جب آئی پی ایل کیلیے سالانہ ڈھائی ماہ کی ونڈو فیوچر ٹور پروگرام میں رکھنے کی باتیں سامنے آئیں تب بھی کہا گیا کہ پی سی بی یہ کر دے گا وہ کر دے گا مگر کچھ نہ ہوا، بھارت نے اپنی بات آسانی سے منوا لی،چار ملکی ٹورنامنٹ کا شوشا چھوڑا گیا تب بھی بھارت نے ہنسی میں اسے اڑا دیا،ہم کب تک ایونٹس کی میزبانی کھوتے رہیں گے، اب تو یو اے ای سے بھی تعلقات اچھے نہیں رہے۔

ان کی لیگ کیلیے پاکستان نے کسی کھلاڑی کو این او سی جاری نہیں کیا،پہلے ہی میڈیا میں اس حوالے سے خبریں سامنے آ چکی تھیں اس لیے صرف ایک کرکٹر اعظم خان کا ہی معاہدہ ہو سکا، انھیں بھی روک دیا گیا، اب ایسے میں اگر ایشیا کپ بھارتی دباؤ پر منتقل کیا تو کہاں کرائیں گے؟ ویسے پاکستان کو کسی صورت میزبانی سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔

اگر اگلے سال ایونٹ نہیں کرایا تو 2 برس بعد بھی کیا گارنٹی ہے کہ بھارتی ٹیم آئے گی؟ کیا تب بھی میزبانی نہیں کریں گے؟ نیوٹرل وینیو کا باب اب بند ہو چکا اسے نہ کھولیں ورنہ پھر بڑی ٹیمیں بھی کوئی بہانہ بنا کر دوبارہ سے دورہ کرنے سے انکار کرنے لگیں گی، یہ پی سی بی کا امتحان ہے کہ کیسے صورتحال سے نبردآزما ہوتا ہے، پیچھے رہ کر خبریں نہ چلائیں سامنے آ کر بات کریں، یقین مانیں پاکستانی اس پر خوش ہی ہوں گے،ورنہ یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے مگر میرا نام نہ لینا والی پالیسی زیادہ عرصے چلنے والی نہیں ہے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

مقبول خبریں