کراچی میں پولیس کی فائرنگ سے دبئی پلٹ شہری قتل اہل خانہ کا لاش کے ساتھ احتجاج

نوجوان پر فائرنگ کرنے والے اہلکار کی شناخت ہوگئی، منگھوپیر تھانے میں مقدمہ درج


Staff Reporter July 12, 2023
مقتول ہاشم 14 سال کی عمر سے دبئی میں مقیم تھا

دبئی سے 16 سال کے بعد شادی کے لیے آنے والا نوجوان شادی کے ایک ماہ بعد پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہوگیا، مقتول پر فائرنگ کرنے والے اہلکار کی شناخت ہوگئی جبکہ لواحقین نے ملوث افراد کی گرفتاری تک لاش کے ساتھ دھرنا دے کر گرفتاری تک تدفین نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

منگھوپیر تھانے کی حدود میں چونگی موڑکے قریب فائرنگ کر کے نوجوان 30 سالہ ہاشم ولد سکندر کو قتل اور اس کے دوست شہزاد ولد فدا کو زخمی کرنے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق واقعے میں اے وی ایل سی سینٹرل کی ٹیم کے ملوث ہونے کے شواہد مل گئے ۔

پولیس حکام کے مطابق اے وی ایل سی سینٹرل کی ٹیم نے ڈی ایس پی سینٹرل اے وی ایل سی کی سربراہی میں بغیرکسی اطلاع کے منگھوپیر تھانے کی حدود میں چونگی موڑکے قریب ناکا لگایا ہوا تھا اور نوجوانوں پر فائرنگ اے وی ایل سی سینٹرل کی ٹیم میں شامل ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر(اے ایس آئی ) نے کی ہے، جو کہ موقع سے فرار ہوگیا، جس کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اے وی ایل سی کی ٹیم مبینہ رشوت خوری کے لیے منگھوپیر کی حدود میں اسنیپ چیکنگ کررہی تھی کیوں کہ چوری کی موٹرسائیکلوں کی اسمگلنگ اسی راستے سے کی جاتی ہے اور پولیس ایسے چوروں کو پکڑ کر رشوت لے کر چھوڑ دیتی ہے۔ اہل کاروں نے اندھیرے میں رکنے کا اشارہ کیا تو موٹرسائیکل سوار ہاشم اور شہزاد نہیں رُکے۔

اے وی ایل سی پولیس کے اہلکاروں نے فائرنگ کرنے کے بعد اپنی موبائل میں کپڑے تبدیل کیے اور پھر جائے وقوع سے فرار ہوگئے۔ واقعے میں ملوث اہل کاروں کی تلاش جاری ہے۔

ایس ایس پی اے وی ایل سی نے واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔ دوسری جانب نوجوان ہاشم اوراس کے دوست شہزاد کوفائرنگ کرکے زخمی کرنے کے واقعے کامقدمہ الزام نمبر23/45 بجرم دفعہ 34/302 کے تحت مقتول نوجوان ہاشم کے بھائی سکندرکی مدعیت میں منگھوپیر تھانے میں درج کرلیا گیا۔

مقدمے کے مطابق مقتول نوجوان ہاشم اوراس کا دوست منگل کو نورانی مزارپرحاضری دینے گئے تھے اورواپس آتے ہوئے منگھوپیر تھانے کی حدود چونگی موڑ کے قریب کھڑی نامعلوم پولیس موبائل نے انہیں رکنے کااشارہ کیا اور اندھیرا ہونے کی وجہ سے نوجوان نہ رکے تو نامعلوم پولیس موبائل میں سوار نامعلوم اہلکاروں نے جان سے مارنے کی نیت سے فائرنگ کی، جن کی ایک گولی ہاشم کوکمر پر لگی اور سینے سے نکل گئی اوراس کا دوست شہزاد بھی اسی گولی سے زخمی ہوا ۔

گولی لگنے سے نوجوان ہاشم موقع پر جاں بحق ہو گیا ۔ پولیس کو جائے وقوع سے ایک خول بھی ملا ہے۔ مقدمے میں نامعلوم پولیس موبائل میں موجود نامعلوم اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پولیس اہلکار کی شناخت

ڈی آئی جی سی آئی اے شرجیل کھرل نے بتایا کہ پولیس اہلکار کی شناخت مختیار پٹھان کے نام سے کی گئی جو کہ اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل ڈسٹرکٹ سینٹرل میں تعینات ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈی ایس پی اے وی ایل سی سینٹرل قمر کی سربراہی میں ناکہ لگایا گیا تھا جبکہ ان کے پاس ڈسٹرکٹ ویسٹ کا بھی اضافی چارج تھا تاہم فائرنگ میں ملوث پولیس اہلکار کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں جبکہ منگھوپیر پولیس نے واقعہ کا مقدمہ بھی درج کرلیا ہے اور اس حوالے سے انویسٹی گیشن پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے ۔

اہل خانہ کا احتجاج

مقتول کے اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے قلندریہ چوک پر لاش کے ہمراہ دھرنا دیا اور انصاف ملنے تک احتجاج جاری رکھنے اور قاتلوں کی گرفتاری تک نوجوان کی تدفین نہ کرنے کا اعلان کیا۔

مقبول خبریں