اعلیٰ تعلیمی کمیشن کا این ٹی ایس کیساتھ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان

ایچ ای سی نے فیصلہ لاہورہائیکورٹ کے این ٹی ایس کی قانونی حیثیت کے تعین کے احکام پر کیا ہے


Safdar Rizvi June 18, 2014
جامعات اور انسٹی ٹیوٹس اپنے اداروں اور این ٹی ایس کے مابین کیے گئے معاہدوں پر غور کرسکتے ہیں،چیئرمین ایچ ای سی فوٹو: فائل

لاہورہائی کورٹ کی جانب سے این ٹی ایس کی قانونی حیثیت کے تعین کے احکام کے بعد نیشنل ٹیسٹنگ سروس کامستقبل داؤپر لگ گیاہے۔

اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان نے اسکالر شپ اور ایم فل پی ایچ ڈی کے تحریری ٹیسٹ کے سلسلے میں این ٹی ایس(نیشنل ٹیسٹنگ سروس) کے ساتھ گزشتہ 11سال سے جاری معاہدہ ختم کردیا، ملک بھرکی سرکاری جامعات اور انسٹی ٹیوٹس کوبھی داخلہ ٹیسٹ کے سلسلے میں این ٹی ایس کی خدمات پرازسرنوغورکرنے کے احکام جاری کردیے، ایچ ای سی کی جانب سے مذکورہ فیصلہ لاہورہائی کورٹ کی جانب سے این ٹی ایس کی قانونی حیثیت کے تعین کے سلسلے میں جاری کیے گئے احکام کے تناظرمیں کیاگیاہے ۔

قانونی حیثیت کے تعین تک این ٹی ایس کی خدمات نہ لینے کا فیصلہ کیاہے، ایچ ای سی کے سربراہ ڈاکٹر مختاراحمد نے ''ایکسپریس''کوبتایا کہ ایچ ای سی جلد اس سلسلے میں پیش رفت کریگی،جامعات کواپنا تعلیمی معیاربرقراررکھنے کے لیے ایم فل ؍پی ایچ ڈی کے داخلے ٹیسٹ کے بغیرنہ دینے کے احکام بھی دیے گئے ہیں،اس سلسلے میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے باقاعدہ نوٹیفکیشن اورسرکاری جامعات وانسٹی ٹیوٹس کے سربراہوں کو ایک تفصیلی خط بھی جاری کردیا ہے،ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹرمختاراحمد کی جانب سے جاری کیے گئے اس خط میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے سربراہوں سے کہاگیاہے کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن این ٹی ایس کے کسی آرڈیننس کے تحت منظورشدہ نہ ہونے کے باعث اس کی مزید سرپرستی جاری نہیں رکھ سکتا۔

ایچ ای سی سے منظورشدہ جامعات اور دیگر تعلیمی ادارے این ٹی ایس سے مزید ٹیسٹ کروانے کے لیے قانونی طور پر پابند نہیں ہیں اور نہ ہی داخلوں اوراسکالرشپ کے ضمن میں این ٹی ایس کے نتائج کے پابند ہیں ،جامعات کے سربراہوں کوجاری کیے گئے خط میں کہاگیاہے کہ ایچ ای سی این ٹی ایس کی قانونی حیثیت کے تعین کے لیے قوانین اور ترمیمی ایکٹ تجویز کرے گی ، این ٹی ایس اس اثنا میں قانونی دائرے میں نجی حیثیت میں توکام کرسکتی ہے ۔

اسے ایچ ای سی سے منظورشدہ ادارے کی حیثیت نہیں دی جاسکتی ، ایچ ای سی کے چیئرمین کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں مزیدکہا گیا ہے کہ اس حکم نامے کے تناظر میں متعلقہ جامعات اور انسٹی ٹیوٹس اپنے اداروں اور این ٹی ایس کے مابین کیے گئے معاہدے جاری بھی رکھ سکتے ہیں اوراس پراز سرنوغوربھی کرسکتے ہیں، ایچ ای سی اوراین ٹی ایس کے مابین موجودہ معاہدہ 30مئی کوختم تصورکیا گیا ہے۔

مقررہ تاریخ کے بعد ایچ ای سی این ٹی ایس کے ساتھ معاہدہ نہیں کریگی ، خط میں مزیدکہا گیاہے کہ جامعات کی انتظامیہ پر اپنے اداروں میں ایم فل،پی ایچ ڈی اوردیگر پروگرام کے معیارکو برقراررکھنے کے لیے ٹیسٹ کے عمل کوجاری رکھنالازمی ہے اس سلسلے میں جامعات اپنے قوانین کے تحت این ٹی ایس سے ایک نجی ادارے کے طورپرمعاہدہ کرسکتی ہیں جبکہ کسی دوسرے معروف ٹیسٹنگ سروس سے بھی معاہدہ کیا جاسکتا ہے، جامعات از خود بھی ٹیسٹ کرواسکتی ہیں۔

مقبول خبریں