سعید جہاں گرد کی داستان 2

جہاں گردی اور مہم جوئی انسانوں کا شوق بھی رہی ہے اور مقدر بھی۔ عالمی ادب میں پہلا جہاں گرد ہمیں اوڈیسس ملتا ہے


Zahida Hina July 13, 2014
[email protected]

جہاں گردی اور مہم جوئی انسانوں کا شوق بھی رہی ہے اور مقدر بھی۔ عالمی ادب میں پہلا جہاں گرد ہمیں اوڈیسس ملتا ہے جو ٹرائے کی جنگ کے خاتمے پر گھر واپس جانے کے سفر پر نکلا تھا اور پھر اس کی مہم جوئی کے قصے 'اوڈیسی' میں بیان ہوئے۔

بریلی کے سعید حسن خان ایک خواب کے تعاقب میں لاہور آئے تھے۔ سیاست ان کے خون میں شامل تھی۔ باپ کانگریس میں رہے' بیٹے نے مسلم لیگ کا انتخاب کیا لیکن پھر پاکستان کے سیاسی ماحول نے انھیں مایوس کرنا شروع کیا۔ وہ جمہوریت کو ملکی مسائل کا حل سمجھتے تھے لیکن زمین داروں کے ساتھ مل کر سول اور خاکی اشرافیہ نے ایک ایسا کھیل شروع کر دیا تھا، سعید صاحب جس کے کھلاڑی نہیں تھے۔

اسی زمانے میں کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار اور مشہور ٹریڈ یونین لیڈر مرزا محمد ابراہیم جس دھاندلی سے ریلوے ورکرز یونین کے انتخابات میں ہرائے گئے وہ اس کی تفصیل چشم دید گواہ کے طور پر لکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی یہ موازنہ بھی کرتے ہیں کہ تقسیم سے پہلے مرزا ابراہیم آل انڈیا ریلوے مینز فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری تھے اور وی وی گری اس فیڈریشن کے صدر۔ تقسیم کے بعد مرزا ابراہیم جعل سازی سے پاکستان میں ہرا دیے گئے اور ان کی باقی عمر جیل خانوں میں اور نہایت عسرت کی زندگی گزارتے بسر ہوئی جب کہ وی وی گری ہندوستانی جمہوریہ کے صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔

وہ مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے احساس محرومی کو تلخی اور نفرت میں بدلتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ انھیں سندھیوں' بلوچوں' پٹھانوں اور اردو بولنے والوں کے درمیان کشاکش کا بھی شدت سے احساس تھا۔ ان ہی دنوں ایک ماہ رخ نے، جو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد لندن چلی گئی تھی، انھیں وہاں بلایا اور وہ کچے دھاگے سے بندھے چلے گئے اور یہیں سے ان کی زندگی کا دھارا بدل گیا۔ 1960ء اور اس کے بعد کا زمانہ سرد جنگ کے عروج کا دور تھا اور یورپ کی وہ نوجوان نسل جو دوسری جنگ عظیم کی عذاب ناک جہنمی یادوں کے ساتھ پروان چڑھی تھی' وہ ایک ایسی دنیا کے خواب دیکھتی تھی جہاں نیوکلیائی جنگ کا خوف نہ ہو' جہاں غربت اور نسلی امتیاز کی ذلت نہ ہو اور جہاں انسان برابری کی بنیادوں پر زندگی بسر کر سکیں۔

سعید صاحب لندن' پیرس بون' ویانا کے سوشلسٹ نوجوانوں کے دانشور حلقے میں شامل ہو گئے اور پھر ان ہی کا ایک حصہ بن گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب افرو ایشیا کے روشن خیال اور سوشلسٹ نوجوانوں کی دوست داری اپنے عروج پر تھی اور یورپی ملکوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے جتھے مختلف تنظیموں کے تحت جرمنی' سویڈن اور دوسرے ملکوں میں بڑے بڑے سیمیناروں میں حصہ لے رہے تھے اور سوشلسٹ بنیادوں پر ایک بہتر دنیا کے خواب دیکھ رہے تھے۔

سعید صاحب ہمیں اس دنیا کی سیر کراتے ہیں جو اب ایک خواب بن چکی ہے۔ جس وقت میں یہ سطریں لکھ رہی ہوں اس سے چند گھنٹوں پہلے کراچی کے گورنر ہاؤس میں وزیر اعظم' وزیر اعلیٰ اور گورنر سندھ کے گرد کا حفاظتی حصار دیکھ کر پلٹی ہوں اور چند اعلیٰ افسران اور اخباری صنعت سے وابستہ بعض لوگوں کی وہ گاڑیاں دیکھی ہیں جو کروڑوں مالیت کی ہیں اور جن میں سے چند شاید بلٹ پروف بھی ہیں' ایسے میں جب سعید صاحب کے یہ جملے پڑھتی ہوں کہ وہ سویڈن کے وزیر اعظم TAGE ERLANDER کے ساتھ بس اسٹینڈ پر کھڑے تھے اور وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے بس کا انتظار کر رہے تھے' یا یہ کہ مسٹر ایر لانڈر عوامی فلیٹوں کے کمپلیکس کے ایک فلیٹ میں رہتے تھے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کسی اور دنیا کی باتیں ہیں۔

اسی زمانے میں ان کی دوستی سویڈن کے ایک نوجوان سوشلسٹ لیڈر اولف پامے کے ساتھ ہوئی جو سالہا سال پر محیط رہی یہاں تک کہ پامے اپنے ملک کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ ایک رات وہ پکچر ہاؤس سے فلم دیکھ کر نکلے تو اسٹاک ہام کی ایک سڑک پر معمول کے مطابق پیدل چلے رہے تھے کہ قتل ہو گئے۔ پامے کی ایک دستخط شدہ تصویر سعید صاحب کے گھر میں ایک بک کیس پر 'ڈاکٹر ژواگو' کی ہیروئن جولی کرسٹی کی تصویر کے برابر میں رکھی ہوئی ہے جس میں وہ ملکہ الزبتھ سے باتیں کر رہی ہے۔ ایسی کئی تصویریں ان کے یہاں نظر آتی ہیں جنھیں وقت نے دھندلا دیا ہے لیکن جن کی یاد سعید صاحب کے ذہن میں پہلے دن کی طرح روشن ہے۔

پاکستان کے معروف اور محترم دانشور حمزہ علوی ہمیں اس کتاب کے صفحوں پر نظر آتے ہیں اور پاکستان کے دو لخت ہونے سے پہلے کمیٹی فار ریسٹوریشن آف ڈیمو کریسی کے ان جلسوں کا ذکر ملتا ہے جن میں شریک ہونے والوں کی اکثریت مشرقی پاکستان کے بنگالی نوجوانوں کی ہوتی تھی۔ یہ وہ جلسے تھے جن کے بارے میں پاکستان میں خبریں چھپتیں کہ اس میں شرکت کرنے والے پاکستان مخالف ہیں۔ ایسے ہی ایک جلسے میں فوجی حکومت کے حمایتی زیڈ اے سلہری سے ان نوجوانوں کی ہاتھا پائی کا قصہ ہے اور نوائے وقت کے مجید نظامی کے جملے بھی جو انھوں نے اس موقعے پر کہے تھے۔ اسی تسلسل میں وہ ان کتابچوں کا بھی ذکر کرتے ہیں جو ایوب حکومت کی مخالفت اور 'ناخوش مشرقی پاکستان' کے عنوان سے لکھے گئے۔

اس پمفلٹ میں مشرقی پاکستان کے معاشی مسائل اور فوجی حکومت کی بد عنوانیوں کا احاطہ کیا گیا تھا۔ وہ ہمیں سویڈن' فن لینڈ' ڈنمارک' جرمنی اور انگلینڈ میں نوجوانوں کی جمہوری تحریکوں میں شریک نظر آتے ہیں۔ کہیں پمفلٹ لکھ رہے ہیں' کہیں تقریریں کر رہے ہیں اور کہیں کسی اوپیرا ہاؤس میں کلاسیکی مغربی موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ وہ ہمیں افریقی آزادی کے رہنماؤں سے ملتے اور ان کے شانہ بہ شانہ جلسوں میں شرکت کرتے نظر آتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بعد میں اپنے ملک کا صدر یا وزیر اعظم ہوا' کسی نے پیٹرک لوممبا کی طرح آزادی کی خاطر جان دے دی۔ وہ رابرٹ کینیڈی اور مارٹن لوتھر کنگ سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہیں۔

یہ وہ زمانہ تھا جب تیسری دنیا کے نو آزاد افریقی اور لاطینی امریکی ملکوں کے نوجوانواں میں انقلاب کا اور دنیا کو بدل دینے کا وفور تھا۔ تمام انسانوں کے لیے سنہرے مستقبل کے خواب دیکھے جا رہے تھے۔ یہ وہ دن تھے جب معروف ادبی اور علمی رسالے 'ان کاؤنٹر' کی ادارت مشہور امریکی شاعر سٹیفن سپنڈر کر رہے تھے۔ یہ کراچی میں بھی دستیاب تھا۔ میں اسے خریدتی تھی 'پڑھتی تھی اور یہ سرگوشیاں سنتی تھی کہ اس رسالے کو سی آئی اے کی سرپرستی حاصل ہے۔ یہی بات سعید صاحب نے لندن کی ایک محفل میں سٹیفن سپنڈر کی بیگم کی موجودگی میں کہہ دی جو ان کی اس بات پر بے حد مشتعل ہوئیں۔ چھ مہینے بعد ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ سپنڈر کا معاون میلون لاسکی تھا جو سی آئی اے سے رابطے میں تھا۔ یہ جاننے کے فوراً بعد سپنڈر نے' ان کاؤنٹر' کی ادارت سے استعفیٰ دے دیا اور ' انڈیکس آن سنسر شپ' نکالا جو سنسر شپ کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ایک نہایت موقر جریدہ بن گیا۔ سعید صاحب کے پاس یہ رسالہ اسٹیفن سپنڈر کے اس دنیا سے رخصت کے باوجود آتا رہا اور میں بھی ان ہی کے توسط سے اس رسالے کی خریدار ہوئی ۔

وہ ایٹمی دھماکوں کے مخالف رہے اور ان تنظیموں سے وابستہ رہے جنھوں نے انگلینڈ اور یورپ میں ایٹمی اسلحے کی مخالفت میں ہزاروں کے جلسے اور لاکھوں افراد پر مشتمل لانگ مارچ کیے۔ ان تنظیموں سے وابستگی کی بنیاد پر وہ جاپان بلائے گئے۔ انھوں نے ہیرو شیما میں نیوکلیائی تباہی کے آثار اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ ویتنام میں چند ہفتے گزارے جہاں ہر طرف امریکی مظالم کی داستان بکھری ہوئی تھی۔ اس بارے میں دو مضامین لکھے۔ آج ہمارے یہاں شاید ہی کوئی ایسا فرد موجود ہو جس نے ویتنام کا سفر اس مقصد سے کیا ہو کہ وہاں کے لوگوں کی داستان ستم اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اس کے بارے میں لکھے۔

انھوں نے ایک بین الاقوامی شہری کے طور پر جو زندگی گزاری اس میں ہم مشہور عرب دانشور ایڈورڈ سعید سے ملتے ہیں جو پیدائشی اعتبار سے کرسچین تھا لیکن جس کی ساری زندگی فلسطینیوں کے حقوق کے لیے لڑتے ہوئے گزری۔ حقوق انسانی کی لڑائی لڑنے والی سوزان سونٹاگ ہے جو 1990ء کی دہائی میں سرائیوو کے مسلمانوں کے انسانی حقوق کی لڑائی لڑنے محاذ جنگ پر چلی گئی تھی اور سربوں کے محاصرے کے خلاف کھنڈر بنا دیے جانے والے شہر میں ڈرامے اسٹیج کرتی رہی تھی۔ یہ سونٹاگ کی کوششیں تھیں جنھوں نے سرائیوو کے محصورین کی طرف دنیا کی توجہ منعطف کرائی تھی۔ 273 صفحوں کی اس کتاب میں گزشتہ نصف صدی کے اتنے مشہور لوگوں سے ملاقاتیں اور باتیں' خوشگوار اور نا خوشگوار واقعات یکجا ہیں کہ شاید و باید۔ ان صفحوں پر ہمارا ہیرو برٹرینڈ رسل' ژاں پال سارتر' اسیمون دی بووار نظر آتے ہیں۔ شمالی ویتنام کے عظیم رہنما ہوچی منہ سے ملتے ہیں۔

انھوں نے اپنی خود نوشت میں ایک باب'1968ء' کے عنوان سے قائم کیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں یہ ایک ایسا تلاطم خیز سال تھا جس نے عالمی سیاست کو ایک نیا رنگ دیا۔ یہ نوجوان انقلابیوں اور پُر شور طلبہ کا سال تھا جس میں وہ اپنے مظاہروں' دھرنو ں اور تقریروں سے دنیا کی تقدیر بدلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہی وہ سال تھا جب پاکستان کے مشہور سوشلسٹ دانشور اور 'ویو ِپوائنٹ' کے مدیر مظہر علی خان اور ان کی شریک حیات طاہرہ مظہر کے بیٹے طارق علی پہلی مرتبہ منظر عام پر آئے۔ وہ اس جنگ مخالف جلسے میں شرکت کے لیے آکسفورڈ سے آئے تھے۔

(جاری ہے)

مقبول خبریں