افغانستان میں انصاف دفن؟ طالبان کا نیا حراستی قانون سامنے آگیا

اس فیصلے کے بعد افغان شہریوں کو طویل حراست، بلاجواز گرفتاریوں اور قانونی تحفظ سے محرومی کے سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں


ویب ڈیسک January 08, 2026

افغانستان میں افغان طالبان رجیم کی جانب سے عدالتی اور حراستی نظام سے متعلق نئے حکم نامے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

افغان جریدے آمو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے حراست کے قوانین میں سخت تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں، جن کے تحت مشتبہ افراد کو عدالت کے حکم کے بغیر طویل عرصے تک قید میں رکھا جا سکے گا۔

رپورٹ کے مطابق نئے فرمان کے تحت مشتبہ افراد کی حراست کی مدت 72 گھنٹوں سے بڑھا کر 10 دن کر دی گئی ہے۔ اس قانون کے بعد قیدیوں کو عدالت کے حکم کے بغیر رہائی کا حق حاصل نہیں رہے گا، جبکہ حراستی اختیارات مکمل طور پر افغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔

آمو ٹی وی کے مطابق سابقہ قوانین کو ختم کرتے ہوئے رہائی کا اختیار صرف افغان طالبان کی عدالتوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد افغان شہریوں کو طویل حراست، بلاجواز گرفتاریوں اور قانونی تحفظ سے محرومی کے سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عدالتی فیصلے سے قبل رہائی پر پابندی بے گناہ افراد کو مہینوں قید میں رکھنے کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نیا فرمان منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور انصاف کے عالمی اصولوں سے متصادم ہے۔

اقوام متحدہ بھی 2021 کے بعد افغان طالبان رجیم کی جانب سے کی جانے والی متعدد گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی سخت گیر اور انتہا پسند پالیسیاں افغانستان کو بتدریج ایک کھلی جیل میں تبدیل کر رہی ہیں اور یہ فیصلے انسانی حقوق کے لیے شدید دھچکا ثابت ہو رہے ہیں۔

مقبول خبریں