نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے او آئی سی وزراء خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقاتیں کیں۔
وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔
یہ اجلاس وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے خطے ’’صومالی لینڈ‘‘ کو اسرائیل کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین مضمرات پر غور کے لیے منعقد کیا گیا۔
اپنے خطاب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو غیر قانونی طور پر تسلیم کرنے اور اسرائیلی اہلکار کے صومالی لینڈ کے بلاجواز اور انتہائی اشتعال انگیز دورے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
انہوں نے ان اقدامات کو سیاسی جارحیت اور صومالیہ کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی سے متعلق کسی بھی تجویز کو مسترد کیا اور 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کے قیام کے لیے پاکستان کے اصولی عزم کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
او آئی سی کی جانب سے مسئلۂ جموں و کشمیر کے حل کے لیے اصولی مؤقف اور مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے تنظیم پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی کوششوں میں مزید تیزی لائے۔
وزراء خارجہ کونسل کے اس غیر معمولی اجلاس کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے او آئی سی کے متعدد رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی کے سیکریٹری جنرل سے بھی ملاقاتیں کیں۔
اس غیر معمولی اجلاس کے انعقاد سے او آئی سی کے رکن ممالک کے اجتماعی عزم کا بھرپور اظہار ہوا ہے اور عالمی برادری کو ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کے احترام کی انتہائی اہمیت سے متعلق ایک واضح پیغام دیا گیا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کی اس غیر معمولی اجلاس میں شرکت صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کی ایک اور عملی مثال ہے۔