سات افراد کے قتل کا کیس: پیپلز پارٹی کے رہنما محمد اسماعیل کی ضمانت منظور

وزیر داخلہ نے ملزم پر جھوٹی پندرہ ایف آئی آرز کروائیں، وکیل کا عدالت میں موقف


ویب ڈیسک January 13, 2026

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اعلیٰ سندھ کے سابق مشیر محمد اسماعیل کی ضمانت منظور کرلی۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس میں کہا کہ ملزم کے بارے میں بار بار پاور فل کا لفظ استعمال کیا گیا ہے؟ کہا گیا ہے کہ ملزم بہت پاور فل ہے یہ ہے کون؟۔

ملزم کے وکیل فرہاد ابڑو نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور سابق مشیر بھی رہے ہیں، ملزم کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسایا گیا ہے، وزیر داخلہ نے ملزم پر جھوٹی پندرہ ایف آئی آرز کروائیں۔

سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس پر سماعت کو ملتوی کیا جائے، وکیل کے مقدمے کا ریکارڈ ابھی تک نہیں آیا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے سرکاری وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ منگوانا آپ کی ذمہ داری تھی، مذاق بنایا ہوا ہے، فائل کیوں نہیں منگوائی؟۔

مدعی کے وکیل نے عدالت میں بتایا کہ ملزم نے شکایت کنندہ کی بیٹی کواپنی حراست میں رکھا جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ہمارے ساتھ موجودہ کیس کی بات کریں، جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ ملزم تو آپکی اپنی پارٹی کا بندہ ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے وکلا کو ہدایت دی کہ بار بار ملزم کیلئے بااثر ہونے کا لفظ استعمال نہ کریں، ملزم اتنا ہی نامور تھا تو پہلے روز ہی مقدمے میں نام ہونا چاہئے تھا، بائیس افراد کو نامزد کیا لیکن ملزم کو نہیں۔

مدعی کے وکیل نے کہا کہ سارا وقوعہ محمد اسماعیل کی ایما پر ہوا، واقعے میں سات افراد قتل ہوئے جبکہ ملزم کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم کو شامل تفتیش صرف ایک پراسکیوشن گواہ کے بیان پر کیا گیا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سات افراد قتل ہوئے تو ملزم کا نام پہلے روز ہی مقدمہ میں ہونا چاہیے تھا، عدالت نے ایک لاکھ کے مچلکوں کے عوض ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔

مقبول خبریں