آپریشن سندور میں بھارتی فتح محض اسٹیج شدہ بیانیہ تھی، عالمی جریدے کی چونکا دینے والی رپورٹ آگئی

مودی حکومت کا پیش کردہ “شائننگ انڈیا” دراصل دعوؤں اور اقلیتوں کے خلاف انتہا پسند پالیسیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے


ویب ڈیسک January 14, 2026

بین الاقوامی جریدے نیویارک ریویو آف بکس میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں بھارت کی موجودہ حکومتی پالیسیوں، سرکاری بیانیے اور اعداد و شمار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

معروف مصنف کرسٹوفر ڈی بیلیگ کے مضمون Hype and Fraud in India میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مودی حکومت ترقی، معیشت، جنگ اور جمہوریت جیسے حساس معاملات میں مبالغہ آمیز دعوؤں اور مسخ شدہ اعداد و شمار پر انحصار کر رہی ہے۔

مضمون کے مطابق بھارت میں معاشی اور انتخابی شفافیت کمزور ہو چکی ہے اور عوام کو ریاستی بیانیے کے ذریعے ایک مختلف تصویر دکھائی جا رہی ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کا پیش کردہ “شائننگ انڈیا” دراصل دعوؤں، تشہیر اور اقلیتوں کے خلاف انتہا پسند پالیسیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

مضمون میں جنگ کے پہلو کو سب سے زیادہ چونکا دینے والا قرار دیا گیا ہے، جہاں آپریشن سندور میں بھارت کی مبینہ فتح کو محض ایک اسٹیج شدہ بیانیہ قرار دیا گیا۔ نیویارک ریویو آف بکس کے مطابق گزشتہ برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے دوران متعدد بھارتی طیارے گرائے گئے، جسے ماہرین نے پاکستان کی حالیہ دہائیوں کی “سب سے بڑی علامتی کامیابی” قرار دیا۔

مصنف کے مطابق بھارتی عوام کو ایک منظم شو کے ذریعے کامیابی کا تاثر دیا گیا اور یوں جنگ کو بھی ایک سیاسی تھیٹر میں تبدیل کر دیا گیا۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ریاست نے ترقی، غربت کے خاتمے، روزگار اور جمہوریت جیسے بنیادی معاملات میں حقائق کے بجائے بیانیوں اور منتخب اعداد و شمار کو مرکزی حیثیت دے دی ہے۔

نیویارک ریویو آف بکس کے مطابق معاشی ترقی کے سرکاری دعوؤں کے باوجود بھارت میں بے روزگاری، عدم مساوات اور غیر رسمی معیشت جیسے مسائل بدستور موجود ہیں۔ اسی طرح انتخابی عمل میں شفافیت اور احتساب کے نظام اس حد تک محدود ہو چکے ہیں کہ جمہوریت محض ایک رسمی عمل بن کر رہ گئی ہے۔

مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2014 کے بعد بھارتی حکومت نے غربت اور بے روزگاری کی پیمائش کے پیمانے تبدیل کر دیے، جبکہ آزاد ڈیٹا اور حقائق جانچنے والے اداروں کو کمزور کیا گیا۔ اپریل 2025 میں عالمی بینک سے منسوب غربت میں نمایاں کمی کے دعوے کو بھی جھوٹا قرار دیا گیا، جس پر متعدد آزاد محققین نے شدید اعتراضات اٹھائے۔

مضمون کے مطابق جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کا خاتمہ اور شہریت سے متعلق قوانین میں مذہبی جھکاؤ مسلمانوں کو قومی دھارے سے باہر دھکیلنے کی کوشش ہے۔ بھارت کے سابق چیف اکنامک ایڈوائزر اروِند سبرامنیم کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ڈیٹا چھپانے کی وجہ سے معیشت کی اصل تصویر سامنے نہیں آ رہی۔

نیویارک ریویو آف بکس کے مطابق معروف جریدہ دی اکانومسٹ بھی بھارت کو اب “جمہوریت سے آمریت کی طرف بڑھتی ہوئی ریاست” قرار دے چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ جو ریاست غربت، روزگار، انتخابات اور اقلیتوں سے متعلق حقائق مسخ کر سکتی ہے، وہ جنگ کے حوالے سے بھی غلط بیانی سے کام لے سکتی ہے۔

مقبول خبریں