سیف علی خان ہزاروں کروڑ کی جائیداد کا مقدمہ جیت گئے

تقریباً پچیس سال تک جاری رہنے والی اس عدالتی جنگ کا اختتام پٹودی خاندان کے حق میں فیصلے پر ہوا


ویب ڈیسک January 14, 2026

بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان اور ان کے خاندان کو بھوپال میں واقع اپنی موروثی زمین سے متعلق ایک طویل اور پیچیدہ قانونی تنازع میں بالآخر بڑی کامیابی حاصل ہوگئی۔

تقریباً پچیس سال تک جاری رہنے والی اس عدالتی جنگ کا اختتام پٹودی خاندان کے حق میں فیصلے پر ہوا، جس کے بعد یہ پرانا تنازع اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جس جائیداد پر یہ مقدمہ چل رہا تھا، اس کی مجموعی مالیت تقریباً سولہ ہزار بھارتی کروڑ روپے، یعنی ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ یہ زمین مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے علاقے نیاپورہ میں واقع ہے اور اس کا کل رقبہ سولہ اعشاریہ باسٹھ ایکڑ ہے۔

ضلعی عدالت مدھیہ پردیش نے اپنے فیصلے میں اس اراضی پر پٹودی خاندان کی ملکیت کو بحال کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ زمین قانونی طور پر سیف علی خان، ان کی والدہ اور سینئر اداکارہ شرمیلا ٹیگور اور ان کی بہنوں کی ہی ملکیت ہے۔ اس فیصلے کو خاندان کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ تنازع پہلی بار 1998 میں سامنے آیا تھا، جب عقیل احمد اور چند دیگر افراد نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ زمین پٹودی خاندان کی نہیں بلکہ ان کے آبا و اجداد کی ملکیت ہے۔ مدعیان کا کہنا تھا کہ سابق ریاست بھوپال کے نواب حمید اللہ خان نے 1936 میں یہ جائیداد ان کے بزرگوں کو بطور تحفہ دی تھی، جس کی بنیاد پر وہ خود کو اس کے جائز مالک سمجھتے ہیں۔

تاہم طویل عدالتی کارروائی کے دوران مدعیان اپنے دعوے کے حق میں کوئی مضبوط یا قابلِ اعتبار دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ عدالت نے کیس کے تمام ریکارڈ اور دلائل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ قرار دیا کہ زمین کی منتقلی یا تحفے سے متعلق کوئی مستند شواہد موجود نہیں ہیں۔ شواہد کی کمی اور قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی بنیاد پر عدالت نے دعویٰ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

عدالتی فیصلے کے بعد اب نیاپورہ بھوپال میں واقع سولہ اعشاریہ باسٹھ ایکڑ زمین پر پٹودی خاندان کی ملکیت ایک بار پھر قانونی طور پر تسلیم کرلی گئی ہے، جس کے ساتھ ہی ایک طویل اور تاریخی قانونی تنازع ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔

مقبول خبریں