بلدیہ ٹاون یوسی 3 بنیادی مسائل کا گڑھ بن گیا ہے۔ قائم خانی کالونی اورنواب کالونی کی گلیاں کھنڈربن گئیں جبکہ جگہ جگہ کھلے مین ہول اور کچرے کے ڈھیر کی وجہ سے مکینوں کا جینا محال ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ترقیاتی فنڈز ملنے کے باوجود مقامی نمائندے مسائل حل نہیں کررہے ہیں ۔عوامی مسائل حل ہونے میں ناکامی پر یوسی 3 کے کونسلر بھی اپنے ہی ٹاون چیئرمین اور یوسی چئیرمینوں کے خلاف بول پڑے۔
تفصیلات کے مطابق بلدیہ اتحاد ٹاون قائم خانی کالونی کی مرکزی سڑک جو 20 نمبربس اڈا سے شروع ہوکربلدیہ ٹاون کواورنگی ٹاون سے ملاتی ہے وہ مکمل طورپرتباہ ہوچکی ہے۔
ناقص میٹریل سے بنائی گئی سڑک مون سون بارشوں میں بہہ گئی تھی جس کی ازسرنو تعمیر یا مرمت نہ ہوسکی جس کی وجہ سے سڑک پر کئی جگہ پر بڑے بڑے گڑھے بن گئے ہیں۔
یوسی تھری اتحاد ٹاون قائم خانی کالونی کی اندورنی گلیوں کا بھی برا حال ہے۔ کئی برسوں سے گلیوں کو پکا کیا گیا نہ ہی گلیوں میں موجود کچرے گندگی اورغلاظت کے ڈھیر ختم کرکے گلیوں کو ہموار کیا گیا۔ جس سےان گلیوں میں گاڑی خصوصا ایمبولنسس بھی نہیں آسکتی ہیں۔
قائم خانی کالونی کے گلیوں اور محلوں میں جگہ جگہ کھلے مین ہولزہیں جوآئے روز حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ کھلے مین ہولز نے گلی میں کھیلتے اوراسکول آتے جاتے بچوں کی زندگیوں کوخطرہ لاحق کردیا ہے۔
اس حوالے سے یوسی 3 کے کونسلر سکندر حیات خان کا کہنا ہے کہ ترقیاتی فنڈز منظور تو ہوتے ہیں لیکن نچلی سطح تک نہیں پہنچ پاتے۔ اس لیے شہریوں کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹاون کی سطح پر ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مشاورت میں بھی نہیں شامل کیا جاتا ہے۔ کاغذوں میں ترقیاتی منصوبے موجود ہیں لیکن زمین پر کوئی کام نہیں ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ گلیوں اور سڑکوں کی تعمیر اور واٹراینڈ سیوریج کے مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے اہل علاقہ مسلسل دباوڈال رہے ہیں لیکن جن کے ہاتھوں میں اختیار ہے ان کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی ہے۔