بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے طالب علم محمد سرفراز کی تحقیق کو عالمی سطح پر نمایاں اعزاز حاصل ہوا ہے۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان محقق کے کیلے کے تنے سے فائبر تیار کرنے کے تحقیقی منصوبے کو ماحول دوست فائبرز کے فروغ کے لیے سرگرم عالمی ادارے ڈسکور نیچرل فائبر انیشیٹو (DNFI) نے ماحولیاتی فائبرز پر ہونے والے عالمی تحقیقی مقابلے میں فاتح قرار دیا۔
اس مقابلے میں دنیا بھر کے 100 سے زائد تحقیقی اداروں، کمپنیوں اور تعلیمی اداروں نے شرکت کی۔ ایوارڈ کا اعلان جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں جاری ہوم ٹیکسٹائل کی عالمی نمائش ہیم ٹیکسٹائل کے موقع پر کیا گیا۔
ایوارڈ حاصل کرنے پر محمد سرفراز نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ اعزاز اپنے اساتذہ اور بلوچستان کے باصلاحیت نوجوانوں کے نام کیا۔
انہوں نے ایکسپریس سے گفتگو میں بتایا کہ کیلے کے تنے سے اعلیٰ معیار کا فائبر تیار کرنے کے لیے چار سال تک تحقیق کی، جسے دنیا کے مختلف اہم پلیٹ فارمز پر بھی پذیرائی ملی، تاہم یورپی تحقیقی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں پاکستانی پراجیکٹ کی کامیابی ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
پراجیکٹ کے نگران اور بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے شعبہ ٹیکسٹائل انجینئرنگ کے سربراہ ڈاکٹر محمد قاسم نے کہا کہ عالمی سطح پر بلوچستان کے طالب علم کی تحقیق کی پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے کے نوجوان صلاحیتوں میں دنیا کے کسی بھی ملک سے کم نہیں اور مناسب مواقع ملنے پر پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
اس منصوبے میں صنعتی معاونت فراہم کرنے والی نیچرل فائبر کمپنی کے ڈائریکٹر محمد فؤاد فاروق نے کہا کہ عالمی ایوارڈ ملنا پاکستان کے لیے اعزاز ہے۔
ان کے مطابق ہیم ٹیکسٹائل نمائش میں شریک یورپی کمپنیوں نے اس پراجیکٹ میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے اور جلد جرمن کمپنی کے اشتراک سے جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں پاکستانی کیلے کے ویسٹ سے تیار فائبر کی مصنوعات فروخت کی جائیں گی، جس کے لیے شراکت داری کا معاہدہ طے پا چکا ہے۔
محمد فؤاد فاروق کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ سندھ اور بلوچستان میں غربت کے خاتمے اور روزگار کی فراہمی کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ان کے مطابق اس پراجیکٹ کے تحت سکھر اور لسبیلہ میں کیلے کے تنے سے فائبر تیار کرنے کا کام شروع ہو چکا ہے، جبکہ اگلے مرحلے میں پیداواری صلاحیت بڑھا کر 4 ہزار گھرانوں کو اس منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے خصوصی مشینیں بھی محمد سرفراز نے مقامی سطح پر تیار کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دو مشینوں پر مشتمل ایک یونٹ کی لاگت 7 سے 8 لاکھ روپے ہوگی، جس کے ذریعے ایک ایکڑ رقبے سے حاصل کیلے کے ویسٹ سے ایک ہزار کلوگرام فائبر تیار کیا جا سکے گا۔
اس فائبر سے سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے ہنرمند دستکاروں کے ذریعے ہینڈی کرافٹس اور روایتی مصنوعات تیار کی جائیں گی۔
فؤاد فاروق کے مطابق پاکستان اپنی مکمل صلاحیت استعمال کرتے ہوئے سالانہ 50 کروڑ کلوگرام کیلے کے فضلے سے نیچرل فائبر تیار کر سکتا ہے، جس کی عالمی مارکیٹ میں مالیت ایک ارب ڈالر تک ہے، جبکہ اس فائبر سے تیار مصنوعات کے ذریعے کئی گنا زیادہ زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کیلے کی کاشت کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، جہاں ہر سال کیلے کے باغات سے نکلنے والا لاکھوں ٹن فضلہ یا تو جلا دیا جاتا ہے یا دریاؤں میں پھینک دیا جاتا ہے، جس سے فضائی اور آبی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
بلوچستان کے طالب علم کی اس کاوش سے نہ صرف غربت میں کمی اور معاشی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ ماحولیاتی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔