امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے معروف پروفیسر جیفری سیکس نے ایران میں حالیہ فسادات کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران میں جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے وہ کسی داخلی ناکامی کا نتیجہ نہیں بلکہ بیرونی مداخلت کا شاخسانہ ہے۔
پروفیسر جیفری سیکس نے کہا کہ ایران میں ایک غیر معمولی، پُرتشدد اور سفاک کھیل جاری ہے، جبکہ امریکی مین اسٹریم میڈیا اس حقیقت کو نظر انداز کر رہا ہے۔
ان کے مطابق مغربی میڈیا یہ تاثر دیتا ہے کہ ایرانی حکومت نے معیشت پر کنٹرول کھو دیا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ دراصل ایرانی معیشت کو شدید نقصان امریکی پابندیوں نے پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح عوام کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے عوام پر ظلم کر رہی ہے، جبکہ اصل حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران میں عوامی مشکلات کی بنیادی وجہ بیرونی دباؤ اور معاشی پابندیاں ہیں۔
پروفیسر جیفری سیکس کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کا اصل مقصد ایرانی عوام کی زندگی کو بدترین بنانا ہے تاکہ ملک میں رجیم چینج کی راہ ہموار کی جا سکے۔
دوسری جانب بین الاقوامی امور کے ماہر اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے پروفیسر جیفری سیکس کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ایران کے حوالے سے مغربی میڈیا اتنا کمزور، جانبدار اور خریدا ہوا ہو چکا ہے کہ وہ سچ سامنے لانے سے انکار کر رہا ہے۔