بلوچستان: محکمہ خزانہ میں آسامیوں پر پہلی مکمل ڈیجیٹل، پیپر لیس اور میرٹ پر مبنی بھرتیاں

گڈ گورننس کا یہی ماڈل بلوچستان کو بدعنوانی سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر رہا ہے


سردار حمید خان January 19, 2026

بلوچستان کی تاریخ میں ایک اہم اور یادگار دن اس وقت رقم ہوا جب وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبے کی پہلی مکمل ڈیجیٹل اور پیپر لیس ریکروٹمنٹ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

یہ تقریب محکمہ خزانہ میں اسسٹنٹ اکاوٴنٹنٹ (گریڈ 14) کی 111 آسامیوں پر آن لائن ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے امیدواروں میں تقرری لیٹرز کی تقسیم کے سلسلے میں منعقد ہوئی، جو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے شفاف، جدید اور میرٹ پر مبنی بھرتی نظام کی ایک قابلِ تقلید مثال بن گئی ہے۔

ان 111 آسامیوں کے لیے صوبے بھر سے 5 ہزار 694 امیدواروں نے آن لائن امتحان میں حصہ لیا۔ جدید ڈیجیٹل نظام کے تحت ایک ہی دن میں آن لائن ٹیسٹ، نتائج کا اعلان اور کامیاب امیدواروں میں تقرر ناموں کی تقسیم مکمل کی گئی، جو صوبے کی انتظامی تاریخ میں ایک منفرد اور تاریخی پیش رفت ہے۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے خود کامیاب امیدواروں کو تقرری لیٹرز دیے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار محکمہ خزانہ میں سب اکاوٴنٹنٹ کی آسامیوں پر مکمل طور پر پیپر لیس، ڈیجیٹل اور آن لائن نظام کے تحت شفاف بھرتیوں کا عمل کامیابی سے مکمل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بلوچستان میں میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ انہوں نے صوبائی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں سرکاری نوکریوں کی خرید و فروخت کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا اور آج یہ عمل اسی وعدے کی عملی تعبیر ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اب بلوچستان میں نوجوانوں کو سفارش یا رشوت کی بنیاد پر نہیں بلکہ خالصتاً میرٹ پر روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب عوام میں یہ امید تقریباً ختم ہو چکی تھی کہ صوبے میں کبھی میرٹ نافذ ہو سکے گا، مگر آج عملی طور پر ثابت کر دیا گیا ہے کہ اگر نیت مضبوط اور نظام شفاف ہو تو میرٹ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آج ایک مزدور، استاد اور وزیر کا بیٹا ایک ہی امتحانی نظام اور یکساں ماحول میں امتحان دے رہا ہے اور کامیابی کا واحد معیار صرف میرٹ ہے، جو حقیقی مساوات اور انصاف کی واضح مثال ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومت آئندہ دنوں میں ڈویڑنل، ضلعی اور تحصیل سطح پر بھی اسی طرز کا جدید اور شفاف ڈیجیٹل بھرتی نظام متعارف کرائے گی تاکہ میرٹ ہر سطح پر نظر آئے اور عوام کا اعتماد مستقل بنیادوں پر بحال ہو۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ پبلک سروس کمیشن میں ہزاروں آسامیاں طویل عرصے سے زیر التوا ہیں، جس کے باعث صوبائی ادارے شدید افرادی قوت کی کمی کا شکار ہیں، اس لیے کمیشن کی تشکیل نو، اصلاحات اور مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی جائے گی تاکہ اسے ایک فعال اور ملک کا بہترین پبلک سروس کمیشن بنایا جا سکے۔

تقریب کے دوران، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے آن لائن ٹیسٹ میں کامیاب ہونے والے امیدواروں سے براہِ راست ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا اور انہیں کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے امیدواروں سے ٹیسٹنگ کے عمل اور شفافیت کے حوالے سے دریافت کیا، جس پر امیدواروں نے بتایا کہ بھرتی کا پورا عمل مکمل طور پر منصفانہ، شفاف اور میرٹ پر مبنی تھا۔

کامیاب امیدواروں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بغیر کسی سفارش اور رشوت کے سرکاری ملازمت ملنے پر یقین نہیں آ رہا، اور پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا ہے کہ بلوچستان میں بھی خالص میرٹ پر روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے نظام کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے اور سفارش و رشوت کے کلچر کا خاتمہ کیا جائے۔ نوجوانوں کا اعتماد بحال کرنا اور انہیں باعزت روزگار فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے محکمہ خزانہ میں آن لائن ٹیسٹ کے کامیاب انعقاد پر صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری خزانہ عمران زرکون اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئندہ بھی صوبے میں تمام بھرتیاں جدید ٹیکنالوجی اور خالص میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی، تاکہ نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو، اداروں کی کارکردگی بہتر بنے اور بلوچستان حقیقی معنوں میں ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

مقبول خبریں