تہران:
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں پر ریاستی کریک ڈاؤن مزید سخت ہو گیا ہے۔ ایران کے قومی پولیس چیف احمد رضا رادان نے مظاہروں میں شریک افراد کو تین دن کے اندر خود کو حکام کے حوالے کرنے کا الٹی میٹم جاری کر دیا ہے، بصورت دیگر سخت کارروائی کی وارننگ دے دی گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق سرکاری ٹی وی سے خطاب میں پولیس چیف کا کہنا تھا کہ وہ نوجوان جو دھوکے میں آ کر مظاہروں میں شامل ہوئے انہیں دشمن نہیں بلکہ گمراہ افراد سمجھا جائے گا اور اگر وہ مقررہ وقت کے اندر سرنڈر کر دیں تو نرمی برتی جائے گی۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مہلت ختم ہونے کے بعد قانون پوری سختی سے حرکت میں آئے گا۔
واضح رہے کہ دسمبر کے آخر میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے جلد ہی ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہو گئے، جنہیں مبصرین نے ایرانی قیادت کے لیے حالیہ برسوں کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے پرتشدد کریک ڈاؤن میں ہزاروں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، جبکہ سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اب تک 3 ہزار افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب حقوق انسانی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ گرفتار افراد کی تعداد 20 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ مظاہرے ابتدا میں پُرامن تھے مگر بعد میں انہیں امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے فسادات میں تبدیل کیا گیا، جن کا مقصد اسلامی جمہوریہ کو عدم استحکام کا شکار کرنا تھا۔
ادھر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ فتنہ پرور عناصر کی کمر توڑ دی جائے گی اور ملکی و غیر ملکی جرائم پیشہ عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔