پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف

سنرجی کو اور حیسکول کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور جرمانے کی مد میں 14 ارب سے زائد کے واجبات کی عدم ادائیگی کا انکشاف


ویب ڈیسک January 27, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس نوید قمر کی سربراہی میں شروع، کمیٹی ممبران نے متفقہ طور پر نوید قمر کو اجلاس کی صدارت کے لیے تجویز کیا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں آج وزارت پیٹرولیم کے 20 ارب روپے زائد کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔

عوام کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچانے جانے کے انکشاف پر آڈٹ حکم نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی وصول نہ کرنے کی ایک لمبی فہرست ہے۔

ڈی جی آئل کی جانب سے پیٹرولیم لیوی وصول کرنے کے طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ انفورسمنٹ میکانزم موجود نہیں ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے یعنی جو دے اس کا بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا، اتنے اہم سیکٹر میں ٹیکسیشن کا نظام کیسے چلایا جا رہا ہے؟

شازیہ مری نے کہا کہ اتنی بڑی رقم عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل کی جاتی ہے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی رقم عوام سے حاصل کر کے حکومت کو ادائیگی نہیں کی جاتی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کو قانون سازی میں بہتری کی سفارش کر دی۔

اجلاس کے دوران، سنرجی کو اور حیسکول کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور جرمانے کی مد میں 14 ارب 63 کروڑ روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی کا انکشاف بھی ہوا۔

چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ یہ تو بہت پرانا کیس ہے، اب تک کتنی ریکوری کی گئی۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ اب تک صرف 19 کروڑ روپے وصول کیے گئے ہیں۔

سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ حیسکول کی جانب سے رقم ادا کی گئی تھی لیکن غلط اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی۔آڈیٹر جنرل نے کہا کہ اکاؤنٹ اب کلوز ہو چکا ہے، ریکارڈ میں درستگی نہیں ہو سکتی۔

پی اے سی نے حیسکول کی حد تک آڈٹ اعتراض نمٹا دیا۔

سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ سنرجی کو 48 اقساط میں چار سال کے دوران 47 ارب روپے ادا کرے گی، سنرجی کو 21 ارب روپے کا لیٹ پیمنٹ سرچارج بھی ادا کرے گی اور لیٹ پیمنٹ سرچارج کی ادائیگی کے لیے بات چیت چل رہی ہے۔

چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ یہ ڈیل ایس آئی ایف سی نے کروائی ہے۔ سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ سنرجی کو نے اقساط کی ادائیگی شروع کر دی ہے۔

پی اے سی نے لیٹ پیمنٹ سرچارج کے حوالے سے دو ہفتوں میں سیکریٹری پیٹرولیم سے جواب طلب کر لیا۔

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تکنیکی ڈیٹا کی فروخت سے حاصل ہونے والے 1 ارب روپے کو استعمال نہ کرنے کا آڈٹ پیرا کا جائزہ ہوا۔ آڈٹ حکام کا مؤقف تھا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے یہ فنڈز غیر مجاز اکاؤنٹ میں رکھے۔

چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ جہاں پیسہ رکھا جانا چاہیے تھا وہاں نہیں رکھا گیا۔ سیکریٹری پیٹرولیم نے کہا کہ قواعد بننے کے فوری بعد رقم مجاز اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جائے گی۔

پی اے سی نے استفسار کیا کہ قومی خزانے کے بجائے کمرشل بینک میں پیسے کیوں رکھے گئے؟ پیٹرولیم ڈویژن حکام نے بتایا کہ یہ کمرشل اکاؤنٹ بھی فنانس ڈویژن کی اجازت سے کھلا تھا۔

چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ پیسہ کمرشل بینک میں رکھنے میں بھی کسی کا مفاد پوشیدہ تھا۔ سیکریٹری پیٹرولیم نے اجازت کے بغیر رقم کمرشل اکاؤنٹ میں رکھنے کو غلطی تسلیم کر لیا۔

سید نوید قمر نے کہا کہ فنانس ڈویژن کی تنبیہ کے باوجود 2017 سے 2026 تک رقم کمرشل بینک اکاؤنٹ میں رکھا گیا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو دو ہفتے میں ذمہ داری عائد کرنے اور ایک روز میں تمام رقم نیشنل بینک سے قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

مقبول خبریں