ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کو روکنے کیلئے ترکی متحرک، عباس عراقچی انقرہ پہنچ گئے

ترک صدر نے امریکا کے صدر ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ویڈیو کانفرنس کی تجویز بھی دی ہے


ویب ڈیسک January 30, 2026

انقرہ: ایران نے امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں، اسی سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات کے لیے ترکی کے دارالحکومت انقرہ پہنچ رہے ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ترکی اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ترک حکام ایرانی قیادت کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کچھ رعایتیں دے تاکہ خطے کو ایک بڑے اور تباہ کن تنازع سے بچایا جا سکے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ویڈیو کانفرنس کی تجویز بھی دی ہے، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان گزشتہ ایک دہائی سے براہِ راست مذاکرات نہیں ہو سکے۔

یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب دونوں ممالک کی جانب سے بیانات سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے فوجی کارروائی کا حکم دیا تو امریکی فوج اس پر عملدرآمد کے لیے تیار ہے۔

صدر ٹرمپ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کے پاس معاہدے کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایران سے بات چیت کے خواہاں ہیں اور جنگ سے بچنا بہتر ہوگا۔

دوسری جانب ایران نے بھی دفاعی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایرانی فوج کے سربراہ کے مطابق جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد ایران نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے ایک ہزار نئے زمینی اور بحری ڈرونز تیار کیے ہیں، جبکہ بیلسٹک میزائل صلاحیت بھی برقرار ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ایک طرف ممکنہ فوجی تصادم کے لیے تیار ہے تو دوسری جانب سفارتی راستے بھی استعمال کر رہا ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فدان نے کہا ہے کہ ایران پر حملہ خطے کے لیے خطرناک ہوگا اور مسئلے کا حل صرف مذاکرات میں ہے۔ ان کے مطابق ایران کو خطے میں اعتماد بحال کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔

علاقائی صورتحال کے پیش نظر خلیجی ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے کے لیے اپنی فضائی حدود یا زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مقبول خبریں