ایران مذاکرات پر آمادہ ہوگیا، امریکا کے ایرانی ڈرون مار گرانے پر کشیدگی برقرار

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ مذاکرات ابتدا میں بالواسطہ ہوں گے اور صرف جوہری معاملات تک محدود رہیں گے


ویب ڈیسک February 04, 2026

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ امریکا کے ساتھ “منصفانہ اور مساوی بنیادوں” پر مذاکرات کی کوشش کی جائے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں فوجی واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

ایرانی صدر کا یہ بیان اس بات کا پہلا واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ تہران ترکی کی ثالثی میں ممکنہ مذاکرات میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق، امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف رواں ہفتے ترکی میں ایرانی حکام سے بات چیت کی تیاری کر رہے ہیں، تاہم مذاکرات کی حتمی تفصیلات ابھی طے نہیں ہوئیں۔

اسی دوران امریکی بحریہ نے بتایا کہ ایک امریکی جنگی طیارے نے ایرانی ڈرون کو اس وقت مار گرایا جب وہ ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے قریب پہنچا۔

امریکی حکام کے مطابق ڈرون کا رویہ جارحانہ تھا اور اس کی نیت واضح نہیں تھی۔ ایران کی جانب سے اس واقعے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایک اور واقعے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی تیز رفتار کشتیوں اور ایک ڈرون نے آبنائے ہرمز میں امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز کو روکنے کی کوشش کی، جس پر امریکی جنگی جہاز نے مداخلت کرتے ہوئے اسے بحفاظت نکال لیا۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی ایلچی سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایران پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی معاہدے میں اس کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں اور علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا ضروری ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ مذاکرات ابتدا میں بالواسطہ ہوں گے اور صرف جوہری معاملات تک محدود رہیں گے۔ ایران نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم اس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی چاہتا ہے۔

مقبول خبریں