عصرِحاضرکا طالب علم اور امتحان

دورجدیدمیں جبکہ بچہ بچہ کتابی باتوں اورزمینی حقائق میں فرق کرنےکی قابلیت پاچکا توان پرانےنظریات کی کوئی وقعت نہیں رہی۔



WAH CANTT: دس پندرہ سال پہلے جب سادگی کا دوردورہ تھا،طالب علم امتحانات میں پوری تیاری کے بعد، حفظ وماتقدم کے طور پر ایک آدھ پرچی کے ساتھ امتحان گاہ کا رخ کرتے جس میں اہم نکات لکھ لیے جاتے ،ضروری واقعات کی تاریخ درج کر لی جاتی یا ریاضیاتی کلیے تحریر کیے جاتے۔ اس پر بھی بعضوں کو ضمیر کے کچوکے سہنے پڑتے۔ اساتذہ بورڈ کے امتحانوں میں ناکامی سے طالب علموں کو ڈراتے تھے اورطلبا خوف کھاتے تھے ۔ نالائق سے نالائق طالب علم بھی کتابوں سے بنا کر رکھتا ۔ہر وقت باور کروایا جاتا آج نقل کر کے کامیاب ہو بھی جاؤ گے مگر عملی زندگی میں ہمیشہ ناکام رہو گے ۔ سادہ لوح طالب علم عملی زندگی کے رموزواسرار سے ناواقفیت کی وجہ سے اس بات کو وظیفہ حیات بنا لیتے۔

دور جدید میں جب کہ بچہ بچہ کتابی باتوں اور زمینی حقائق میں فرق کرنے کی قابلیت پاچکا تو ان پرانے نظریات کی کوئی وقعت نہیں رہی۔اب سالم کتاب امتحانی مرکز میں ہمراہ لے جانے کا رواج پڑا۔ پہلے پہل امتحانی مراکز میں موجود نگران عملے نے خوب مزاحمت کی ، مگر پھر حالات سے سمجھوتہ کرتے ہی بنی ۔

کچھ کی ایمانداری اپنی اولاد کے ہاتھوں یرغمال بنی ،کچھ نے چند روپوں کے لیے رہن رکھوا دی، اکثرکے سر اقتدار کے ایوانوں سے کی گئی فون کالز نے خم کر دیے ۔ اس سب کے باوجوکچھ ہی ایسے تھے جو امتحانی مرکز میں کتاب جیسی سہولت سے چھپتے چھپاتے مستفید ہو سکتے تھے ۔ جو والدین اپنے بچوں کو امتیازی نمبروں میں پاس کروانے کے خواہاں تھے انھیں امتحانی عملے تک رسائی کے لیے کئی طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے ۔ اشاروں کنایوں میں، محاوروں اور ضرب الا مثال میں ملفوف کر کے اپنا مدعا نگرانوں تک پہنچانا پڑتا،کہیں غنودہ ضمیر پرکوئی بات تازیانہ ثابت ہو اور وہ آنکھیں ملتا اٹھ کھڑا ہو ۔ بھاری بھرکم سفارشوں کے بعد ہر امتحاں کدے میں چند طالبعلم ہی ایسے ہوتے جنھیں تحفظ فراہم کیا جاتا ۔

اس امتیازی سلوک کے خلاف اندر ہی اندر لاوا پکتا رہا،وقت نے کروٹ کھائی اورغریب کا بچہ اپنے حق کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور اس امتیازی سلوک کے خلاف سراپا احتجاج بن گیا ۔ بات جب گریبان تک پہنچی تو نگرانوں کی آنکھیں کھلیں اور اس سہولت سے ہر عام و خاص کو مستفید ہونے کی اجازت دے دی گئی۔ ضخیم کتب ساتھ لے جانے سے مسئلہ یہ ہوا کہ جس طالب علم نے سارا سال کتاب کھولنے کا جوکھم نہیں اٹھایا تھا، اس کے لیے مطلوبہ جوابات کی تلاش جوئے شیر لانے کے مترادف تھی ۔ صفحات الٹنے پلٹنے میں ہی ایک تہائی وقت گزر جاتا ۔ کبھی کبھار پکڑ دھکڑ کا سلسہ بھی شروع ہوجاتا اور طالب علم یک لخت اپنے تمام اثاثے کھو بیٹھتا۔

چونکہ اس طرح کے طالب علم اکثریت میں تھے اس لیے بیرونی امداد کا سلسلہ شروع ہوا اس ضمن میں شروعات میں بہت مصیبتوں کا سامنا طلبہ اور ان کے ورثا کو رہا۔ امتحان سے پہلے امیدوار کے لواحقین کسی ماہرِ مضمون کی تلاش میں لگ جاتے۔ہر پرچے میں امتحان دینے والے کے ساتھ باہرکسی ہمدرد کی موجودگی لازمی قرار پاتی تاکہ جوابات کی ترسیل کا کام بخوبی سر انجام پا جائے ۔ سوالات کسی پرچی پر لکھ کر باہر پہنچائے جاتے۔چوکیدار کو رازداری سے چائے پانی کا خرچہ دے کر جوابات اندر پہنچائے جاتے ۔

ہرایک بیرونی مددگار اپنے امیدوار کو فوقیت دیتا ، اس سے لڑائی جھگڑے تک بات پہنچ جاتی۔انسان کی فطرت ایسی ہے کہ ہر لمحہ اپنی زندگی سہل بنانے میں جتا رہتا ہے ، نفع کا سودا کرتا ہے ،نقصان سے بچنے کی سعی کرتا ہے۔کوئی جدت کار تھا جو فوٹو اسٹیٹ کی دکان کا مالک تھا ۔ دکان امتحانی مرکز کے قریب تھی۔ امتحانات کے دوران قوم کی یہ ناگفتہ بہ حالت اس سے دیکھی نہ گئی۔ اس نے اس سب کا حل یہ نکالا کہ امور نقل میں ایک ماہر کی خدمات حاصل کیں اور امتحان شروع ہوتے ہی دکان میں بیٹھا لیا ۔ممتحن جو نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن کی عملی تصویر بنا ہوا تھا کہ خطیر رقم دے کر اپنے ساتھ ملایا اور اس سے یہ چاہا کہ پرچہ شروع ہوتے ہی اس تک پہنچ جائے۔دکان پر بیٹھے تجربہ کار نے جو کہ یقیناً شعبہ درس و تدریس سے منسلک ہو گا ، پرچہ ملنے کے بعد دس سے پندرہ منٹوں میں مطلوبہ جوابات کتاب سے نکال کر دکاندار کے ہاتھ میں رکھ دیے جنھیں ترتیب سے رکھ کر ان کی نقول تیار کی گئیں ۔

مبلغ 300 روپے فی حل ضرورت مندوں سے وصول کیا گیا ۔ چوکیدار نے اندر پہنچانے کے لیے متعلقین سے 200 روپے فی حل وصول کیے۔ اس کے لیے عملے کی رضا مندی کی ضرورت تھی ۔ جس کے لیے ان کو امتحانات میں بہترین مرغن کھانا بمع پرتکلف چائے چوکیدار کی جانب سے پیش کی جاتی رہی۔ سہولت سے لبریز وہ وقت بھی آیا جب یہ جاننا بھی ضروری نہ رہا کہ پرچہ کس مضمون کا ہے، طلبہ چوکیدار کو پیسے دے کر رول نمبر لکھوا دیتے اور حل ان کے پاس پہنچ جاتا ۔ طلبہ کے سرپرستوں نے بھی سکھ کا سانس لیا۔ یوں معاشی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئیں ۔ جس میں ہر شراکت دار کو فائدہ تھا۔یہاں کچھ کاٹھ کے الوئوں نے ہوشیاری کی ۔ مہنگے داموں ایک حل خرید کر کسی دوسری دکان سے سستے داموں نقول تیارکروا کر پیسہ بچانے کی سعی کی ۔ کچھ نا عاقبت اندیشوں نے چوکیدار کی روزی پر لات مارنے کی کوشش کی اور باہر سے حل منگوانے کی بجائے کتابوں پر اکتفا کیا۔

جلد ہی ان کی غیر اخلاقی حرکات کا سدباب کر لیا گیا ۔ حل شدہ پرچے کی نقول رنگین صفحات پر نکالی جانے لگیں ۔کتابوں کا داخلہ امتحانی مرکز کے اندر سختی سے ممنوع قرار پایا دلیل یہ دی گئی کی یہ ان طلبہ کی حق تلفی ہے جو کتابیں نہیں لاتے اور بیرونی مدد کے لیے آدھا گھنٹہ انتظار کرتے ہیں ۔اس سب سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ امتحان گاہیں مچھلی بازار ہوچکے۔ یہاں طلبہ کو ایک آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے ۔ پہلا آدھا گھنٹہ جانکاہ ثابت ہوتا ہے۔ گھڑیال کی ٹک ٹک سماعتوں پرگراں ہوتی ہے ہرگزرتا منٹ فشار خون کو بڑھانے کا موجب ہوتا ہے۔ جم غفیر میں معدودے چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے بل بوتے پر پرچہ حل کرنے کی بیکارکوشش میں مگن ہوتے ہیں ۔

باہر سے کمک ملتے ہی طلبا کے ہاتھ برق رفتاری سے چلنے لگتے ہیں ۔ ان کے پاس فقط دو گھنٹے ہوتے ہیں۔آخری آدھے گھنٹے میں اسٹیج پر براجمان نگران عملہ چائے سے فراغت پانے کے بعد اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور چھپائی کے تمام راستے مسدودکردیتا ہے ۔ بیچ کے دو گھنٹوں میں بورڈ، یونیورسٹی کے حکام کی جانب سے چھاپے کا ڈر بھی ہوتا ہے۔ اس معاملے میں نگران عملہ طلبہ سے معاونت کرتا ہے جسے کوسوں دور سے کسی بھی چھاپہ مار ٹیم کی آمد کی اطلاع مل جاتی ہے۔ اس صورت حال پرتدریس سے وابستہ ایک طبقے میں گہر ی تشویش پائی جاتی ہے ، بقول ان کے تعلیم میں عدم دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے ۔

دلیل کے طور پر اپنے ٹیوشن سینٹرز کی مثال دیتے ہیں جہاں کبھی تل دھرنے کو جگہ نہ ملتی اور اب عمارت کا ہر کمرہ کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے ۔پچھلے کچھ عرصے سے سی ۔ایس۔ایس کے امتحانات کے نتائج پر تنقید کی جا رہی ہے ۔ 15 ہزار امیدواروں میں سے تین چار سو ہی کامیاب ہو پاتے ہیں۔ اتنی سی بات ہمارے بڑوں کو کیوں سمجھ نہیں آرہی؟ جب بغیر اسلحے کے کوئی فوج میدان جنگ میں اترے تو یہی حال ہوتا ہے ۔ چند سپاہی بچ بچا کر لوٹ آئیں تو اسے خوش نصیبی سمجھنا چاہیے۔

مقبول خبریں