8 گرلز کالجز کی چار دیواری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے باعث طالبات غیر محفوظ

کالجوں کی چار دیواری ہنگامی بنیادوں پر کم از کم 5 فٹ تک اونچی کی جائیں اورٹوٹی ہوئی دیواروں کی مرمت کی جائے۔


Safdar Rizvi February 09, 2015
سرکاری کالجوں کے پرنسپلزنے کئی باریہ شکایات کرچکے ہیں کہ ڈائریکٹرجنرل کالجزکاان کے معاملات میں دلچسپی نہیں لیتے ہیں۔ فوٹو: راشد اجمیری/ایکسپریس/فائل

ISLAMABAD: کراچی کے سرکاری 8 گرلز کالجوں میں چاردیواری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے باعث ہزاروں طالبات غیرمحفوظ ہوگئیں۔

محکمہ تعلیم سندھ نے گرلزکالجوں میں فوری طور پر چاردیوار کی تعمیرومرمت اوراسے مزید اونچا کرنے کے سلسلے میں محکمہ ورکس اینڈ سروسزسندھ کو آگاہ کردیاہے تاہم محکمہ ورکس اینڈسروسزکی جانب سے تاحال چاردیواری تعمیراوراونچی کرنے کیلیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے محکمہ ورکس اینڈ سروسز کولکھے گئے ایک خط میں بتایا گیا ہے کہ گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج قصبہ کالونی،گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج پاک کالونی،لیاقت گورنمنٹ گرلز کالج ملیر،عبداللہ گورنمنٹ گرلز کالج برائے خواتین،گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج سائٹ، رعنا لیاقت علی خان گورنمنٹ کالج آف ہوم اکنامکس، گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج آصف آباد اورگورنمنٹ کالج برائے خواتین کورنگی نمبر6کی پرنسپلز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ان کے کالجوں میں چاردیواری ٹوٹ پھوٹ کاشکارہیں یاان کی اونچائی انتہائی کم ہے جس کے سبب کالج میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔

کالجوں کی چار دیواری ہنگامی بنیادوں پر کم از کم 5 فٹ تک اونچی کی جائیں اورٹوٹی ہوئی دیواروں کی مرمت کی جائے،گورنمنٹ کالج برائے خواتین ناظم آباد،گورنمنٹ ڈگری سائنس اینڈ کامرس کالج فیڈرل بی ایریابلاک 16 اور گورنمنٹ گرلزکالج لیاقت آبادکی پرنسپلز کے خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے محکمہ تعلیم نے محکمہ ورکس اینڈ سروسز سے کہاہے کہ یہ تینوں سرکاری کالج حساس علاقوں میں قائم ہیں، تین سرکاری کالجوں کی چاردیواری فوری طورپراونچی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ محکمہ تعلیم کے ماتحت نارتھ ناظم آباد میں قائم عبداللہ گورنمنٹ گرلز کالج کی انتظامیہ کوپہلے ہی گزشتہ ماہ دھمکی آمیز خط موصول ہوچکاہے جس کے بعد کالج پرنسپل کی جانب سے باضابطہ طورپراس معاملے پر محکمہ تعلیم کوآگاہ کیا جا چکاہے جبکہ چاردیواری کے سلسلے میں محکمہ ورکس اینڈ سروسز کو لکھے گئے خط میں بھی عبداللہ گورنمنٹ گرلز کالج کانام موجود ہے، کالج انتظامیہ کودھمکی آمیزخط موصول ہونے کے باوجود اب تک کالج میں سیکیورٹی کاکوئی خاطرخواہ انتظام نھیں کیا جاسکا ہے۔

حد تو یہ ہے کہ ڈائریکٹر جنرل کالج سندھ پروفیسر ناصر انصار اور ریجنل ڈائریکٹر کالجز کراچی پروفیسرانعام احمدسمیت اب تک کسی متعلقہ تعلیمی افسرنے عبداللہ گورنمٹ گرلزکالج کادورہ کرکے کالج میں سیکیورٹی انتظامات کاجائزہ تک نھیں لیاہے ،واضح رہے کہ کراچی کے سرکاری کالجوں کے پرنسپلزنے کئی باریہ شکایات کرچکے ہیں کہ ڈائریکٹرجنرل کالجزکاان کے معاملات میں دلچسپی نہیں لیتے اوران کازیادہ تروقت اپنے دفترمیں ہی گزرتاہے۔

مقبول خبریں