اوفا ایک جرأت مندانہ پیش قدمی
ایس سی او کی رکنیت ملنے کے بعد پاکستان اور ہندوستان کی ذمے داریاں بڑھ گئی ہیں۔
نیلگوں آسمان، بہتے ہوئے دریا اور پھولوں پھلو ں سے لدی ہوئی بستی ''اوفا'' کے بارے میں بھلا کس نے سوچا تھا کہ کچھ دن گزرتے ہیں جب یہ امن کی نگری بن کر ابھرے گی۔ وہ بستی جسے اب سے 440 برس پہلے روسی تاریخ کے ظالم ترین بادشاہ آئیوان دی ٹریبل نے بسایا تھا، اور جہاں صرف ساڑھے دس لاکھ لوگ آباد ہیں، وہاں خطے کے طاقت ور ترین ملکوں کے حکمران، جمہوریاؤں قازقستان، ازبکستان، کرغزستان اور تاجکستان کے علاوہ پاکستان اور ہندوستان روس اور چین کے ساتھ ایک ہی میز پر سرجوڑ کر بیٹھیں گے اور خطے کے امکانی مستقبل کے بارے میں نہایت اہم فیصلے کریں گے۔
ہمارے یہاں کچھ لوگ نواز۔ مودی ملاقات پر ماتم کررہے ہیں۔دونوں ملکوں میں وہ حلقہ موجود ہے جو انھیں 'غدار' نہیں تو کم سے کم 'نااہل' اور'بزدل' ضرور قرار دیتا ہے ۔پاکستان میں کچھ لوگ یہ دور کی کوڑی لائے کہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے اس اہم ملاقات کے لیے کوئی تیاری نہیں کی تھی ۔ اگر کی تھی تو اس حد تک کہ میاں نواز شریف اس کانفرنس میں اپنے شاندار اور قیمتی سوٹ لوگوں کو دکھاتے رہے یہ رویہ مخالفت برائے مخالفت کی ایک بدترین مثال کے سوااور کیا ہے ۔
ان معترضین نے اس کانفرنس کے حاشیوں پر ہونے والی پاک ہند وزرائے اعظم کی ایک گھنٹے کی ملاقات کے خلاف فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیے لیکن ان میں سے کسی نے یہ زحمت نہیں کہ کہ عوام کو' ایس سی او ' شنگھائی کو آپریشن آرگنائزیشن کے بارے میں بتائیں اور یہ بات ان کے علم میں لائیں کہ روس اور چین جو کچھ دنوں پہلے تک ایک دوسرے کا نام سننے کے لیے تیار نہیں تھے، وہی اب شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے سرپرست اورسرخیل ہیں۔
یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو گذشتہ 14برس سے قائم ہے اور اس کے جنرل سیکریٹری کے مطابق : ''اس تنظیم نے اپنے کسی رکن ملک کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کی البتہ ان معاملات کا مطالعہ ضرور کرتی رہی ہے ... شنگھائی تعاون تنظیم میں خطے کی سلامتی اوراستحکام کو یقینی بنانے کے بہت متوازن میکانزم موجود ہیں۔ ان میں انتہا پسندی ، علیحدگی پسندی ،دہشت گردی ، منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ ،سرحدوں کے آر پار منظم جرائم اورغیر قانونی ترک وطن (انسانی اسمگلنگ) کے خلاف لڑائی کے میکانزم شامل ہیں''۔
پاکستان عرصے سے اس علاقائی تنظیم کی رکنیت کا خواہش مند تھا لیکن اس کی خارجہ پالیسی اور دہشت گردوں نے اس کی سرزمین کو جس طرح دنیا کے مختلف ملکوں میں لشکر کشی کے لیے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کیا ، وہ روس اور چین دونوں کے لیے گوارا نہیں تھیں۔ اس کے باوجود زمینی حقائق کو نظر میں رکھتے ہوئے روس اور چین دونوں نے تدبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا اور اوفا میں پاکستان اور ہندوستان کو شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی رکنیت دے دی ۔
ٹیلی ویژن اسکرینوں پر جنون طاری کردینے والے میزبانوں اور مہمانوں کی اکثریت نے عوام کو یہ نہیں بتایا کہ پاکستان اگر اوفا میں پیٹھ موڑ کر بیٹھا رہتا تو وہ اپنے اہم ترین دوست چین کو اس نازک مرحلے پر ناراض کردیتا جب وہ پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے اوراس حوالے سے اس نے اپنے معاشی اہداف بنا لیے ہیں۔ دوسری طرف خطے کا دوسرا اہم ترین ملک خارجہ تعلقات اورمستحکم بنیاددوں پر اسے دنیا کی برادری کارکن بنارہا ہے تو ہمارے لیے لازم ہے کہ ہمسایہ ملکوں اورخطے کے اہم اورطاقتور ممالک سے ہمارے روابط بہترین ہوں اور ہم تجارت اورسفارت کی بنیاد پر خودکو شنگھائی تنظیم کا ایک اہم اور ذمے دار رکن ثابت کریں۔
ایس سی او کی رکنیت ملنے کے بعد پاکستان اور ہندوستان کی ذمے داریاں بڑھ گئی ہیں۔ اب ان کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں ناپسندیدہ عناصر کی پرورش کریں اور ان کے ذریعے دوسرے کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف رہیں۔ ہمارے یہاں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ جنرل مشرف کی رخصت کے بعد یہ جنرل (ر) پرویز اشفاق کیانی تھے جنہوں نے پہلی مرتبہ یہ بات کہی تھی کہ پاکستان کی سلامتی کو بیرونی عناصر سے نہیں بلکہ اندرونی عناصر سے خطرہ ہے ۔
ان کا اشارہ ان دہشت گردوں کی طرف تھا جن کی اس سے پہلے زورشور سے سرپرستی کی جاتی تھی اوران کے ذریعے ایک مخصوص فلسفہ دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی تھی ۔جنرل (ر) اشفاق کیانی کا بیان دراصل ہماری پرانی سیکیورٹی ڈاکٹرائن سے جان چھڑانے کا اعلان تھا ۔
اس تبدیلی کے بطن سے' ضرب عضب 'نے جنم لیا اور دہشت گردوں کے ستھراؤ کی ایک ایسی مہم شروع ہوئی جس کے بارے میں اس سے پہلے کسی نے یہ سب کچھ سوچا بھی نہیں تھا۔ اس پس منظر میں ایس سی او کی رکنیت پاکستان کے لیے بے حد اہمیت رکھتی ہے ۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران اس تنظیم کے رکن ممالک نے ، ایک دوسرے سے فوجی تعاون کے ساتھ ہی دہشت گردی ، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف مشترک محاذ قائم کرنے جیسے معاملات کو اولین ترجیح دی ۔ یہی وہ وجوہ تھیں جن کی بناء پر پاکستان اس میں شمولیت کے لیے بے چین تھا۔
پاکستانی وزیراعظم کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اوفا میں روٹھ کر بیٹھے رہیں اور اپنے سب سے بڑے اور اہم دوست چین کو جھنڈی دکھا دیں جو اس خطے میں ہر قیمت پر امن و امان چاہتا ہے اور جس نے ابھی حال ہی میں ویٹو پاور استعمال کرکے اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان پر پابندیاں لگانے کی قرار داد کو غیر موثر بنایا تھااور ہندوستان کی ناراضگی مول لی تھی یہی کیفیت روس کی ہے جس کے ہندوستان سے قدیمی اورگہرے روابط ہیں۔
ایک اور نہایت غور طلب نکتہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہر چوتھا شخص اٹھ کر مارشل لا کی دہائی دیتا ہے اوراسے پاکستان کے ہر مسئلے کے لیے امرت دھارا تصور کرتاہے ، اس کے خیال میں موجودہ حکومت کیا اس قدر کم فہم ہے کہ اس نے تمام اہم اداروں کو اعتماد میں نہ لیا ہوگا ۔ اوفا میں جو کچھ بھی ہوا وہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے مشترکہ وژن کا ایک شاندار مظہر تھا ۔
ہندوستان میں نریندر مودی بھی اپنے عقابوں کی طرف سے اسی نوعیت کے دباؤ میں ہیں ۔ وہ زیادہ دباؤ میں اس لیے ہیں کہ وہ دائیں بازو کے اس حلقہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں جو پاکستان کے خلاف انتہا پسندانہ رویہ رکھتا ہے ۔ایسے انتہا پسند عناصر ان سے بے حد ناراض ہیں اور یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے 'ہیرو' نے اس معاملے میں 'ولن' ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم چہ کنم کی صورت حال میں گرفتار ہیں۔
پس پردہ چین ہندوستان سے کہتا ہے کہ جب ہم آپ سے سرحدی تنازعات کو پس پشت ڈال کر تجارت اوردوسرے معاملات کو نہایت سلیقے سے نمٹا سکتے ہیں تو آپ پاکستان کے ساتھ ایسا کیوں نہیں کرسکتے ۔ اسی طرح چین جس کی دوستی پر ناز کرتے ہم نہیں تھکتے ، وہ ہماری بھی رہنمائی کرتا ہے اور ہندوستان سے اپنے خارجہ تعلقات کی مثالیں دیتاہے تو ہمیں چین کی دانش کی دادیتے ہی بن بڑتی ہے۔
دنیا اب دو قطبی بھی نہیں رہی 'وہ کثیرالقطبی ہوچکی ہے ۔ تجارت ، معیشت اور باہمی تعلقات اب دنیا کے تمام ملکوں کی اولین ترجیح ہیں۔پاکستان اورہندوستان دونوں ایٹمی طاقت ہیں لیکن یہ ایٹم بم آج کی دنیا میں ہاتھی کے دانت ہوچکے ہیں۔ ہم دوسرے کو یہ دانت دکھا کرڈراتوسکتے ہیں لیکن دیکھنے والے بھی حقیقت حال کو جانتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ سابقہ سوویت یونین کے ہزارہا ایٹمی ہتھیار اسے ٹکڑے ہونے سے نہ بچا سکے اور نہ امریکا اپنے ہزاروں ایٹمی ہتھیاروں کے بل پر عراق اورافغانستان کو فتح کرسکا ۔ ایسے میں ہندوستان اورپاکستان کے چند درجن یا چند سو ایٹمی ہتھیار انھیں عالمی برادری میں کس طرح سرخرو کرسکتے ہیں؟
آج کی دنیا تجارت اور معیشت کی دنیا ہے۔ ان میدانوں میں بلندی پر پہنچنے کے لیے کسی بھی نام پر مسلح تصادم سے قومیں اسی طرح خوفزدہ ہوتی ہیں ، جیسے پہلے کی دنیا طاعون کے نام سے تھرا جاتی تھی۔امکان اسی کا ہے کہ 'اوفا 'کی فضاؤں میں 'وفا' کے جو ہلکے پھلکے عہدو پیمان ہوئے ہیں، وہ بتدریج مستحکم ہوتے جائیںاور دونوں ملکوں میں غربت ، جہالت ، بھک مری اور بیماری سے کروڑوں انسانوں کو نجات مل سکے ۔ جنگ کانہ ہونا چند لاکھوں انسانوں کے لیے یقینا صدمے کی بات ہے کیونکہ جنگ ان کے لیے بعض ثمرات لے کر آتی ہے جب کہ غریب حشرات الارض کی طرح مرتے ہیں اور آلام میں گرفتار ہوتے ہیں۔
ہماری سیاسی اور عسکری قیادت پاکستان کے عوام کی مقروض ہے ۔ اسے ماضی کی غلط اورتباہ کن پالیسیوں کے نقصانات کی تلافی کرنی ہے ۔ جو قوتیں پاکستان کو اپنے خطے اورعالمی برادری سے کاٹ کر الگ رکھنا چاہتی ہیں ان سے سب کو خبردار رہنا ہوگا۔ خطے میں اہم فیصلے ہورہے ہیں ، جن میں ہمیں شریک کیا جارہاہے ، تاریخ کے ان انمول مواقع کو ضایع کرنا خود کشی کے سواکچھ نہ ہوگا۔میاں نوازشریف کو داد دینی چاہیے کہ انھوں نے ایک مترتبہ پھر جرأت مندانہ پیش قدمی کی ہے۔