درس عبرت
ہمارے ہاں ایسے افراد محترم سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے اپنے دوراختیارمیں مجبور لوگوں کو کچل دینا باعث افتخار سمجھا۔
ہماری زندگی کا بیشتر حصہ آمروں کے زیر سایہ گزرا، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ان ملکوں سے ہمیں گہری دلچسپی رہی جنہوں نے دنیا کے بدترین آمروں کا ظالمانہ دورِ حکومت دیکھا، بیسویں صدی کے نصف آخر میں جنوبی امریکا کے منتخب صدر آلندے کا جس طور پر تختہ الٹا گیا اور پھر جنرل آگسٹو پنوشے نے اقتدار پر قبضہ کیا، وہ عالمی سیاست کا ایک اہم واقعہ تھا۔
جنرل پنوشے نے بیسویں صدی کے بدنام زمانہ آمر کی شہرت پائی اور پھر ایک طویل عرصے کے بعد اس پر مقدمہ چلا جس کے نتیجے میں اس کی آخری عمر عدالتوں میں اپنے جرائم کا حساب دیتے گزری اور 91 برس کی عمر میں اس جہان سے گزرا تو لگ بھگ 300 مقدمات اس کے منتظر تھے۔
1973 سے 1990تک پنوشے چلی کا آمر مطلق رہا۔ اس نے آلندے کا تختہ امریکی آشیرباد سے الٹا تھا۔ دانشوروں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کا لمبے عرصے تک اقتدار میں رہنا ممکن نہ تھا اگر اسے امریکی حمایت حاصل نہ ہوتی۔ مختلف ذرایع یہ کہتے ہیں کہ اس کے دور حکومت میں 1200 سے 3200 لوگ قتل کیے گئے، 80.000 غائب کیے گئے اور 30.000 لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد پنوشے لندن سے گرفتار ہوا اور اس پر انسانی حقوق کی متعدد خلاف ورزیوں کے جرم میں مقدمات چلتے رہے۔
اس پر انکم ٹیکس ادا نہ کرنے اور بدعنوانیوں کے ذریعے ناجائز طریقوں سے 28 ملین ڈالر جمع کرنے کا بھی الزام تھا۔ اس کے بارے میں ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن کے صدر تھورہال دروسن نے لکھا کہ اس نے پارلیمنٹ کو موت کے گھاٹ اتارا۔ چلی میں سیاسی زندگی کا گلا گھونٹ دیا، ٹریڈ یونین سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کردی۔
30 ہزار گرفتار کیے گئے جن میں سے ہزاروں ایک خفیہ ایجنسی موت کے کاروان، کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچے۔ 131 لوگوں کو جلاوطن کردیا گیا اور جلاوطن کیے جانے والے جہاں بھی گئے، جنرل پنوشے کی خفیہ ایجنسی کے لوگوں نے ان کا تعاقب کیا اور ان میں سے بہت سے جلاوطنی کے دوران قتل کردیے گئے۔
اس وقت یہ باتیں اس تناظر میں یاد آئیں کہ پنوشے کے دورِ اقتدار میں چلی کے محکمہ خفیہ کا سربراہ جنرل مینول کو نٹریراس نے 86 برس کی عمر میں سانیتاگو کے فوجی اسپتال میں آخری سانسیں لیں۔ وہ مختلف مقدمات میں جو سزائیں کاٹ رہا تھا، ان کی مجموعی مدت 526 سال بنتی تھی۔ چلی والوں کو اس بات پر غصہ تھا کہ اسے حراست کے جن فوجی مراکز میں رکھا گیا، وہ جیل کے بجائے تفریحی مقامات جیسی سہولتیں رکھتے تھے۔
سانیتاگو میں جیسے ہی اس کی موت کی خبر پھیلی، بہت سے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے فرط مسرت سے رقص کیا، شیمپین کی بوتلیں کھلیں اور شہریوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ انصاف کے انتظار میں بہت سے لوگ بوڑھے ہوگئے، بہت سے جان سے گزر گئے لیکن وہ جو آج بھی زندہ ہیں انصاف کے منتظر ہیں۔
ان کی نئی نسل نے ظلم و ستم سہنے والوں کو 'لاپتہ' کردیے جانے والوں اور جلاوطنی کا عذاب سہنے والوں کی تصویریں اپنے ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں اور وہ نعرے لگا رہے تھے۔ چلی کی حکومت نے سرکاری بیان میں کہا کہ ''کل رات چلی کی تاریخ کا سب سے سیاہ باب ختم ہوگیا''۔ ایک فاشسٹ حکومت کے ظلم و ستم کے بارے میں بے شمار معلومات کا خزانہ وہ اپنے ساتھ لے گیا۔ ایک عورت یہ نعرہ لگاتی ہوئی سنی گئی کہ تمہیں جہنم کا یہ سفر مبارک ہو۔
جنرل مینول صرف چلی کا ہی ناپسندیدہ فرد نہیں تھا، اس نے جنوبی امریکا کے دوسرے فاشسٹ ملکوں کی حکومتوں کا 70 کی دہائی میں ایک خفیہ اتحاد قائم کیا تھا جسے آپریشن کونڈور کا نام دیا گیا اور جس میں برازیل، ارجنٹینا، پیراگوئے، یوراگوئے اور بولیویا شامل تھے۔ اپنی خفیہ معلومات کی بنا پر اس نے ان ملکوں کی حکومتوں کو اپنی مخالف تنظیموں اور افراد کے بارے میں معلومات فراہم کیں جس کی بناء پر ان ملکوں میں آزادی، انسانی حقوق، جمہوریت اور روشن خیالی کے لیے لڑنے والوں کو بے رحمی سے کچلا گیا۔
جنرل مینول کی موت کے فوراً بعد بی بی سی ٹیلی وژن نے ایک خاتون کرسٹینا نواریٹا کا انٹرویو نشر کیا۔ کرسٹینا چلی سے تعلق رکھتی ہے۔ اپنے خیالات اور انسانی حقوق کے حصول میں سرگرم رہنے کے جرم میں وہ جنرل مینول کے حکم پر گرفتار کی گئی۔ بدترین تشدد کا شکار ہوئی۔ یہ اس کی خوش نصیبی تھی کہ وہ زندہ بچ نکلی۔
اس نے کہا کہ اس شخص کی موت پر مجھے بہت زیادہ خوشی نہیں، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ میں ان عذابوں کو سہنے کے باوجود آج بھی زندہ ہوں۔ مجھے افسوس صرف اس بات کا ہے کہ جنرل مینول پر جو مقدمے چلے ان میں سے کسی ایک میں اس نے اعتراف جرم نہیں کیا۔ اپنے جرائم پر اس نے شرمندگی کا اظہار بھی نہیں کیا اور اسے جو سزائیں دی گئی تھیں، وہ بھی اس نے بہت آرام سے گزاریں۔
اپنے جرائم پر کسی قسم کی ندامت محسوس کیے بغیر اس کا کہنا تھا کہ اس نے جو کچھ بھی کیا وہ اپنے وطن کی خاطر کیا۔ اس نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان 'تاریخی سچ' ہے۔ اپنی اس کتاب میں اس نے اصرار کیا کہ پنوشے نے 1973 میں جس طرح آلندے کی حکومت کا تختہ الٹا اور پھر سان تیاگو اور دوسرے شہروں کو خون میں نہلایا، وہ وقت کی ضرورت تھی۔
اس نے یہ بھی لکھا کہ جن لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں اس کی خفیہ ایجنسی نے 'لاپتہ' کردیا، درحقیقت وہ جان بچانے کے لیے چلی سے فرار ہوگئے اور ان کے رشتے داروں نے ان کے 'لاپتہ' ہونے کا ڈھونگ رچایا۔ اپنی اس کتاب میں جنرل نے اپنی نگاہ سے ان لوگوں کو دیکھا اور ان کے بارے میں بیان کیا ہے، جنھیں وہ غدارِ وطن قرار دیتا تھا۔
ستمبر 2000 میں سی آئی اے نے امریکی کانگریس کے سامنے ایک رپورٹ پیش کی جس میں واضح طور پر یہ تسلیم کیا گیا تھا کہ جنرل مینول کونٹریراس، آلندے کا تختہ الٹنے اور جنرل پنوشے کے اقتدار میں آنے کے بعد، سی آئی اے کا باقاعدہ تنخواہ دار رہا۔ اس رپورٹ میں تشدد اور ہلاکت کی ناقابل یقین کہانیاں ہیں جن سے جنوبی امریکا میں فاشسٹ حکومتوں اور امریکی سی آئی اے اور ایف بی آئی کی شراکت داری کھل کر سامنے آتی ہے۔
جولائی 2008 میں چلی کے ایک شہری اور ایک امریکی خاتون نے چلی کی خفیہ پولیس کی سرگرمیوں پر ایک فلم بنائی جس میں ان حراستی مراکز کے بارے میں بیان کیا گیا جہاں چلی کے ہزاروں افراد ناجائز طور پر قید رکھے گئے اور پھر ان ہی مراکز میں ہلاک ہوگئے۔ یہ فلم اس بات پر بھی روشنی ڈالتی ہے کہ ایک ایسی فاشسٹ ریاست میں چلی کے لوگ کس طرح آزادی کے خواب دیکھتے رہے۔
اس فلم میں چلی کے ایک جج گزمان کا کردار بھی بہت اہم ہے ۔ یہ وہی تھا جس نے شروع میں پنوشے کی حکومت کی حمایت کی اور پھر رفتہ رفتہ اس نتیجے پر پہنچا کہ وہ ایک فاشسٹ حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے۔ اس احساس کے بعد ہی اس نے اپنے لاپتہ ہوجانے والے شہریوں اور تشدد سے دوچار ہونے والے افراد کے معاملات کی چھان بین کی اور سچ سے دنیا کو آگاہ کیا۔
جنرل مینول کونٹریراس کی گرفتاری، اس پر چلنے والے مقدمات، اسے 526 برس پر محیط سزائیں اور اس کی موت کے بعد لوگوں کا جشن شاید ہمارے یہاں بھی بہت سے لوگوں کے لیے درس عبرت ہے۔ کسی بھی شخص کی عمر 90 اور 100 برس سے اوپر نہیں ہوتی، اس کے باوجود ججوں کا ایک شخص کو 526 برس پر محیط سزائیں سنانا، اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے جرائم کتنے خوفناک تھے اور لوگوں کو اس سے کتنی نفرت تھی۔
ہمارے یہاں اس وقت بھی بعض ایسے افراد محترم سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے اپنے دور اختیار میں مجبور محض لوگوں کو کچل دینا، انھیں لاپتہ کردینا اور لوگوں کے لیے درس عبرت بنادینا اپنے لیے باعث افتخار سمجھا۔ ان لوگوں کو پنوشے، مینول اور ایسے ہی دوسرے لوگوں کی زندگی سے سیکھنا چاہیے۔ کون جانتا ہے کہ ہوا کا رخ کب بدل جائے اور گم نام قبروں میں سوتے ہوئے پنجر اپنے ظالموں کی رخصت پر رقص کرتے ہوئے باہر نکل آئیں۔