امریکا بھارت پر بھی دباؤ ڈالے

جنوبی ایشیاء کی سلامتی کو لاحق اس خطرے سےامریکی بے حسی ہی کا نتیجہ ہے کہ بھارت آئے روز سرحدی خلاف ورزیاں کرتا رہتا ہے


Editorial September 01, 2015
افغان حکومت اپنے ہاں ہونے والی دہشت گردی پر قابو پانے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتی ہے. فوٹو :پی آئی ڈی

ISLAMABAD: امریکا کی مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر سوزن رائس اتوار کو ایک روزہ دورے پر پاکستان آئیں، اس موقع پر انھوں نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف' وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔

ڈاکٹر سوزن رائس نے کنٹرول لائن پر نہتے شہریوں کی ہلاکتوں اور پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کی طے شدہ بات چیت کی منسوخی پر افسوس کا اظہار کیا۔ان کے اس دورے کا مقصد پاک بھارت کشیدگی کے بعد خطے کی سلامتی کو درپیش معاملات کا جائزہ لینا تھا۔

چند روز قبل ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فورسز کی گولہ باری اور فائرنگ سے نہتے شہریوں کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی جس پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہا جانے لگا کہ اگر صورت حال کنٹرول نہ کی گئی اور معاملات یونہی چلتے رہے تو دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی نوبت آ سکتی ہے۔

ڈاکٹر سوزن رائس نے اپنے اس دورے کے دوران کنٹرول لائن پر نہتے شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار تو کیا مگر بھارت کی اس جارحیت کے خلاف ایک بھی مذمتی لفظ نہیں کہا اور نہ بھارت سے سرحدی خلاف ورزیاں روکنے کے لیے کوئی بیان دیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ بھارتی جارحیت کی کھل کر مذمت کرتیں تاکہ بھارتی حکام تک یہ بات آشکار ہو جاتی کہ خطے کے امن کو بگاڑنے پر پوری دنیا نے اس کے اس عمل کو ناپسند کیا ہے۔

جنوبی ایشیاء کی سلامتی کو لاحق اس خطرے سے امریکی بے حسی ہی کا نتیجہ ہے کہ بھارت آئے روز سرحدی خلاف ورزیاں کرتا رہتا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر سوزن رائس کی تمام تر توجہ دہشت گردی اور افغانستان کے معاملات پر مرکوز رہی۔ امریکا کو کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کی صورت حال بہتر بنانے اور تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پر بھی دباؤ ڈالنا چاہیے۔

پاکستان نے ان پر واضح کر دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہا ہے اور اس نے آپریشن ضرب عضب میں بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کی ہیں ،پاکستان کا یہ موقف بھی بالکل درست تھا کہ افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں وہاں کے مقامی عناصر ملوث ہیں۔افغان حکومت اپنے ہاں ہونے والی دہشت گردی پر قابو پانے میں اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دیتی ہے جب کہ ان معاملات پر قابو پانا اس کا فرض ہے۔

ڈاکٹر سوزن رائس نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے موقع پر پاکستان کو اپنا ایک اہم اتحادی قرار دیا لیکن صورت حال یہ ہے کہ امریکا اپنے اس اتحادی کے بجائے بھارتی مفادات کا زیادہ تحفظ کر رہا ہے۔ جنوبی ایشیاء کی سلامتی کے لیے عالمی برادری کو لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی جارحیت کا نہ صرف نوٹس لینا بلکہ اسے رکوانے کے لیے اپنا کردار بھی اداکرنا چاہیے۔

مقبول خبریں