ناقابل فراموش ایئرمارشل اصغرخان

بھٹو صاحب جیل میں چلے گئے تو ان کے لیے بازاروں میں نکلنے والا ہجوم ایئر مارشل کی قیادت میں آ گیا۔


Abdul Qadir Hassan October 19, 2012
[email protected]

میں ان دنوں ایئر مارشل ریٹائرڈ محمد اصغر خان کو ٹی وی پر دیکھ رہا ہوں اور نہ جانے کن یادوں سے گزر رہا ہوں۔

سپریم کورٹ میں برسوں پہلے ان کی طرف سے دائر کردہ ایک مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں وہاں ان دنوں آ جا رہے ہیں۔ ایک فوجی قائد، ایک انتظامی قائد اور پھر ایک سیاسی قائد۔ وہ اپنی زندگی کے ان تینوں قائدانہ مرحلوں سے سرخرو ہو کر گزرے۔ وہ پاکستان فضائیہ کے پہلے قائد تھے اور اس کے معمار تھے۔ قوم نے پہلی جنگ 1965ء میں دیکھ لیا کہ اصغر خان کی تیار کردہ فوج نے ایئر مارشل نور خان کی قیادت میں کیا کمالات دکھائے اور کس طرح دشمن کو زمین سے اٹھنے نہ دیا۔ یہ وہ کڑی آزمائش تھی جس سے یہ فوجی قائد کامیاب گزرا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کرپشن نہیں، کام ہوتا تھا اور ملک کو ایک عبادت گاہ سمجھا جاتا تھا۔ اس فوجی زندگی کے بعد انھیں قومی ائر لائن کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پی آئی اے دنیا کی چند پہلی فضائی کمپنیوں میں شمار ہونے لگی تھی اس کے بعد ان کی سیاست کا زمانہ شروع ہوا جو میں نے بچشم خود ان کے ساتھ گھوم پھر کر دیکھا۔

تاریخیں بھول جاتی ہیں ہمارے دوست الطاف حسن قریشی کے ادارے نے لاہور کے ایک اچھے ہوٹل میں ان کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی جس میں انھوں نے جو تقریر کی وہ یوں تو سیاسی نہیں تھی لیکن اس کے آخری چند جملے مجھے ایسے لگے جیسے وہ سیاست میں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میں نے تقریب کے بعد ان سے اس بارے میں پوچھا تو وہ سیاست میں آنے سے مکر گئے لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد جب وہ سیاست میں آ گئے تو ایک دن انھوں نے خود ہی مجھے بتایا کہ تمہارا سوال درست تھا لیکن اس وقت میرا جواب بھی درست تھا، یہ ایوب خان کا زمانہ تھا بلکہ یوں کہیں کہ بھٹو صاحب کا زمانہ تھا۔

حالات کے واضح اشارے یہ تھے کہ آمر جا رہا ہے مگر کیسے جا رہا ہے اور اس کی جگہ کون آ رہا تھا یہ سب کچھ حالات کے پردے میں پنہاں تھا۔ ایوب خان کے سویلین ساتھی مطمئن تھے کہ وہ حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ایوب خان دل ہار گئے تھے۔ اس وقت گول میز کانفرنس ختم اور ناکام ہو چکی تھی اور کمانڈر انچیف یحییٰ خان کا نام آ رہا تھا۔ ایوب خان کی کنونشن لیگ کے لیڈر ملک محمد قاسم سردار خضر حیات اور بعض دوسرے ایوب خان سے اسلام آباد میں ان کے گھر پر ملے اور انھیں خوب حوصلہ دلایا لیکن ایوب خان کا آخری جواب یہ تھا کہ جب پاکستان آرمی کا سربراہ کہہ دیتا ہے کہ 'نو' تو پھر 'نو' ہی ہوتا ہے اس لیے میں اب جا رہا ہوں چنانچہ وہ چلا گیا۔

ایوب خان کی ذات پر آمریت کے سوا کوئی بڑا الزام نہیں تھا۔ بدقسمتی سے آخری وقت میں تاک میں بیٹھے کراچی کا ایک سیٹھ ان کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ایوب خان نواب کالا باغ کی مشہور شکار گاہ پر شکار گاہ کے اتنے ہی مشہور منتظم نور محمد عرف نورے کی نگرانی میں شکار کھیل رہے تھے کہ ایوب خان کو خوش دیکھ کر کراچی کے اس سیٹھ نے کہا کہ سر مجھے گوہر میں کاروباری صلاحیتیں دیکھ کر تعجب ہوا ہے۔ یہ سن کر ایوب خان نے شکاری رائفل قریب کے ایک پتھر پر رکھی اور حیرت کے ساتھ کہا کہ اچھا گوہرے میں ایسی کسی خوبی کا مجھے علم نہیں تھا۔

گوہر ایوب فوج سے کپتانی میں ریٹائر ہو گئے تھے چنانچہ سیٹھ صاحب نے ایوب خان کی شہہ پا کر گوہر کو کاروبار میں ڈال دیا اور پھر چل سو چل۔ ایوب خان اقتدار سے ریٹائر ہو گیا اور اسلام آباد میں اپنے پر فضا گھر میں رہنے لگا۔ پسند کے لوگوں سے ملتا رہا خصوصاً نوجوانوں سے۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا آمر اپنے بستر پر وفات پا گیا۔ اس کی پالیسیوں اور ان کی وجہ سے قوم کو ملنے والی سزائوں کے ذکر کا یہ وقت نہیں۔ میں ایئر مارشل اصغر خان کا ذکر کر رہا ہوں جو ایوب خان کے بعد سیاست میں نمودار ہوئے بھٹو صاحب کے ساتھ لیکن علیحدہ بھی۔

بھٹو صاحب جیل میں چلے گئے تو ان کے لیے بازاروں میں نکلنے والا ہجوم ایئر مارشل کی قیادت میں آ گیا۔ لوگوں نے کہا کہ اصغر خان کو مفت کی قیادت مل گئی ہے لیکن ایئر مارشل نے بار ہا وضاحت کی کہ یہ لوگ میرے لیے نہیں آتے یہ بھٹو کے لیے آتے ہیں، انھوں نے نہایت ہی حقیقت پسندی کا ثبوت دیا کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوئے۔ سیاستدان ایئر مارشل سے میرا قریبی رابطہ رہا۔ میں ایک اخبار سے متعلق تھا جو اپوزیشن کا واحد اخبار تھا چنانچہ میرا اپوزیشن کا صحافی ہونے کا اعزاز مدتوں برقرار رہا۔ میں نے اس خوش قسمتی سے خوب فائدہ اٹھایا اور مجھے بطور رپورٹر تسلیم کر لیا گیا۔ یہاں تک کہ رپورٹری کے زمانے میں جب جدید طرز کی کالم نویسی شروع کی تو وہ ایسی چلی کہ میں رفتہ رفتہ کالم نویس ہی بن کر رہ گیا، طویل رپورٹنگ کا سلسلہ ختم ہو گیا۔

میں چونکہ در مدح خود سے بہت احتراز کرتا ہوں اس لیے کبھی نہیں کہا کہ نئی سیاسی کالم نویسی کا میں بانی ہوں۔ مجھ سے پہلے کے جلیل القدر کالم نگار حضرات اپنے زمانے کے بے مثال اور یاد گار لوگ تھے مثلاً مولانا چراغ حسن حسرت، مولانا سالک اور کئی دوسرے جو دنیائے صحافت کے بدلنے سے پہلے ہی چلے گئے اور کالم نویسی کا خالی میدان ہمارے جیسے شاگردوں کے لیے چھوڑ گئے۔ صحافت کا یہ پہلو ایک طویل تذکرے کا متقاضی ہے لیکن فی الوقت ایئر مارشل اصغر خان۔

ایئر مارشل صاحب نے ایک پارٹی تشکیل دی تحریک استقلال۔ بہت لوگ ان کے ساتھ آئے اور کئی ان کی وجہ سے سیاست سے متعارف ہوئے جیسے میاں نواز شریف اور بھی کئی بڑے نام ہیں میاں محمود علی قصوری بھی ان کے ساتھ رہے۔ ایئر مارشل کی کوشش تھی کہ بگٹی مرحوم ان کی پارٹی میں آ جائیں۔ اس ضمن میں انھوں نے لاہور کے ایک پرانے اب ختم ریستوراں کبانہ میں دعوت دی جس میں بگٹی صاحب تھے اور میں تھا۔ ایئر مارشل صاحب نے اس جہاندیدہ بلوچ کو پھنسانے کی بہت کوشش کی۔ میں بھی تائید اور لقمہ دینے کے لیے موجود تھا لیکن بگٹی صاحب بس ہوں ہاں ہی کرتے رہے۔

میں عرض یہ کرنا چاہتا تھا کہ اس زمانے میں لیڈر اخبار نویسوں پر کتنا اعتبار کرتے تھے اور خاص ملاقاتوں میں بھی ان کو ساتھ رکھتے تھے۔ ایئر مارشل کے ساتھ میری خاص رفاقت مشرقی پاکستان کی بھی تھی جس کا انھوں نے دورہ کیا اور ایڈیٹر سے مجھے مانگ کر ساتھ لے گئے۔ پاکستان کے لیے محبت کا بہتا ہوا سمندر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ چٹا گانگ کے ایک مہمان خانے میں اصغر خان مقیم تھے اور اس کے باہر ہزاروں کا ہجوم اس انتظار میں کہ صبح ہو اور وہ اپنے لیڈر کا دیدار کر سکیں۔ یہ وارفتگی اور عوام کا والہانہ پن جب بھی سقوط ڈھاکا کے بعد یاد آیا سچ جانیے خون کے آنسو رلا جاتا ہے۔ بعد میں جب مغربی پاکستان میں ایئر مارشل سے کبھی ملاقات ہوئی تو ہم نے ان کے اس دورے کا ذکر نہیں کیا اتنا حوصلہ ہی نہیں تھا۔

اس دورے میں، میں نے ایئر مارشل کے ساتھ سندر بن کے جنگلوں میں راکٹ (کشتی) کے ذریعے رات بھر سفر کیا۔ میں تو اندھیرے میں جنگلی جانوروں کی جلتی ہوئی آنکھوں اور پرندوں کی آوازوں میں مست رہا۔ راکٹ جہاں سے گزرتا قریب کے درختوں کے گھونسلوں میں سوئے ہوئے پرندے پھڑ پھڑا کر باہر نکل آتے۔ مجھے اپنے آپ پر غصہ آتا کہ ہم نے ان کی نیند کا طلسم توڑ دیا اور جنگلی جانور بھی راکٹ کی آواز پر اس طرف متوجہ ہو جاتے اپنی شعلہ بار نگاہوں کے ساتھ۔
بہرحال ایسی کتنی ہی یادیں ہیں جو آج کل کے بوڑھے ایئر مارشل کو دیکھ کر تازہ ہو جاتی ہیں وہ ایک اسٹک لے کر سپریم کورٹ جاتے ہیں۔ غالباً ان کی بیگم صاحبہ ان کے ساتھ ہوتی ہیں۔ ایوب خان جیسے آمروں کو للکارنے والا یہ جوان اب بوڑھا ہو کر بھی اپنے ماضی کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے اور ایک بڑے ہی خاص قومی مقصد کے لیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے وقت کے جریدے کے صفحات پر جگمگاتے ہیں۔

مقبول خبریں