افغانستان کے کسی حصے پر قبضہ نا قابل قبول ہے پاکستان

پاکستان اپنی زمین کو کسی بھی دوسرے ملک کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا


APP October 01, 2015
الزام تراشی چھوڑ کر مسائل کا پائیدار حل تلاش کرنا ہوگا، افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے الزام کے جواب میں سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری کی نیوز بریفنگ فوٹو: فائل

سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان کے کسی بھی حصے پر کسی گروپ کا قبضہ ناقابل قبول ہے۔

سیکرٹری خارجہ نے گزشتہ روز قندوز پر طالبان کے قبضے کے حوالے سے ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ افغانستان میں اس وقت ایک جمہوری طور پر منتخب اور قانونی حکومت قائم ہے، اس دوران کسی بھی گروپ کی جانب سے ملک کے کسی بھی علاقے پر قبضے کو پاکستان ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران قندوز پر طالبان قبضے کا الزام پاکستان پر لگانے کے بارے میں ایک سوال پراعزاز چوہدری نے کہا کہ ان کا ملک افغان مسئلے کے حل کے لیے پاک افغان وسیع تر تعاون پر یقین رکھتا ہے، ہمیں الزام تراشی کا راستہ چھوڑ کر دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کا پائیدار حل تلاش کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان کے تمام مسائل کے پرامن حل کے لیے مفاہمت اور بات چیت کا حامی ہے، یہ مسئلہ الزامات کے بجائے تعاون سے حل ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان عبداللہ عبداللہ کے بیان پر ردعمل کے بجائے تحمل سے کام لے گا۔

ایک سوال پراعزاز چوہدری نے کہا کہ ان کا ملک اپنی زمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، پاکستانی وفد افغان حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہونے کا تاثر قطعی غلط ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکا اور چین نے بھی مفاہمتی عمل کی خواہش ظاہر کی ہے اور ہمارے افغانستان کے ساتھ رابطے کسی تعطل کے بغیر جاری ہیں۔ کابل میں پاکستانی سفارت خانے کی سیکیورٹی کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق اس میں بہتری لائی گئی ہے اور اب مخالفانہ بیان بازی کا سلسلہ بھی بند ہوجانا چاہیے۔

مقبول خبریں