نوجوان نے اپنی آنکھیں والدکو عطیہ کرنے کی وصیت کر دی

یقین ہے کہ میری آنکھوں سے میرے والد اچھی زندگی گزار سکیں گے: گاؤفنگ


Monitoring Desk October 02, 2015
یقین ہے کہ میری آنکھوں سے میرے والد اچھی زندگی گزار سکیں گے: گاؤفنگ ۔ فوٹو : فائل

عام طور پر والدین اپنی اولاد سے محبت ظاہر کرنے کے لیے قربانی دیتے ہیں مگر چین میں ایک نوجوان نے نوجوان نے اپنی آنکھیں نابینا والد کو عطیہ کرنے کی وصیت کرکے لوگوں کو حیران کردیا ہے بتایا گیاہے کہ چین کا شہری گاؤفنگ گردوں کے عارضے میں مبتلا ہے اور زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے۔

اس کے والد ڈرائیور تھے لیکن 1993 میں ایک حادثے کے باعث ان کی دائیں آنکھ ضایع ہو گئی جس پرانھوں نے اپنی بیوی کے ہمراہ گھر چلانے کے لیے کھیتی باڑی شروع کر دی لیکن ایک کچھ عرصہ بعد ہی ان کی اہلیہ کو بھی گردوں کا مرض لا حق ہو گیا جس کی وجہ سے یہ بہت غریب ہو گئے۔

چینی نوجوان نے اپنے والدین کو سکھ دینے کی بہت کوشش کی لیکن جب اسے معلوم ہو ا کہ وہ بھی گردوں کے عارضے میں مبتلا ہے تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی اور اس کا علاج بھی ممکن نہیں ہے۔گاؤفنگ نے اپنی وصیت میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس کی زندگی ختم ہو جانے کے بعد اس کی آنکھیں اس کے والد کو عطیہ کر دی جائیں تاکہ وہ میری نظر سے دنیا کو دیکھ سکیں ، چینی نوجوان نے خواہش کا اظہا ر کیا کہ وہ مرنے کے بعد اپنے والد کی ذات کا حصہ بننا چاہتاہے۔

گاؤفنگ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ میں نے ایک چھوٹی لڑکی کے بارے میں سنا ہے جس نے مرنے سے قبل اپنی آنکھیں عطیہ کر دی تھیں۔ آج میں بھی کچھ ایسا ہی اپنے والد کے لیے کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میری آنکھوں کی مدد سے میرے والد کوئی اچھا کام کرکے اچھی زندگی گزار سکیں گے۔

مقبول خبریں