لالہ اور ٹیری ایک پاکستانی ایک امریکی

جبرواستبداد کے خلاف گھر میں بیٹھ کر باتیں کرنا کس قدر آسان ہے۔


Zahida Hina November 04, 2015
[email protected]

جبرواستبداد کے خلاف گھر میں بیٹھ کر باتیں کرنا کس قدر آسان ہے۔ ہم جو لکھاری ہونے کے دعویدار ہیں، اس بات پر ناز کرتے ہیں کہ ہم آمریت کے سامنے سینہ سپر رہے ہیں۔ کبھی کبھار ظالموں اور جابروں کے بارے میں اشارے اور کنائے میں کچھ لکھ بھی دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمیں ہماری جرأت کی داد دی جائے۔

ایسے میں جب وہ نام ہمارے سامنے آتے ہیں جنہوں نے آمروں، اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد، انتہاپسندوںاور دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے اختلاف کیا، جان پر کھیل کر اپنے موقف سے روگردانی نہیں کی، تو خود سے شرمندگی ہوتی ہے۔ آج ایسے ہی دو افراد کی یاد آرہی ہے جو چند دنوں پہلے جہان سے گزرے ہیں۔ ان میں سے ایک پاکستانی شخصیت ہے اور دوسرا امریکی شہریت اور قومیت رکھتا تھا۔

2009ء کا زمانہ تھا، سوات میں ملّا فضل اللہ المعروف بہ ملا ریڈیو کا طوطی بولتا تھا۔ علاقے میں اس شخص کا ایسا دبدبہ تھا کہ کسی کو گھر کی چار دیواری کے اندر بھی اس کے خلاف بات کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فوج نے سوات کی وادی کو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں سے آزاد کرانے کے لیے ''آپریشن راہ راست'' کا آغاز کیا تھا۔

اس وقت افضل خان لالہ نے فوجی افسران کی نہ صرف زبانی حمایت کی بلکہ انھیں وہ معلومات بھی فراہم کیں جن کے بغیر ''آپریشن راہ راست '' کی کامیابی اتنی آسان نہیں تھی۔ ان پر بار بار قاتلانہ حملے ہوئے اور ہر مرتبہ وہ محفوظ رہے۔ اعلیٰ فوجی افسران جو، ان سے ملنے کے لیے لالہ کے ڈیرے پر گئے، ان کا کہنا ہے کہ ان کے وسیع و عریض گھر کی دیواریں گولیوں اور گولوں سے چھلنی تھیں۔ یہ 2008ء کے اس محاصرے کی نشانیاں تھیں جو لالہ اور ان کے خاندان نے نہایت بہادری سے جھیلا تھا۔

لالہ کے گھر کا محاصرہ کئی دن تک جاری رہا۔ محاصرہ کرنے والوں نے شدید گولہ باری کی آڑ میں لالہ کے ڈیرے کے احاطے میں گھسنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن لالہ اپنے گھر اور خاندان کے جوانوں کے ساتھ ڈٹے رہے۔ ان کے کئی ساتھی مارے گئے لیکن لالہ نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ یہاں تک کہ فوجی دستے نے یہ محاصرہ ختم کرایا۔

یہ وہ وقت تھا جب سوات کے متعدد خان علاقہ چھوڑ کر چلے گئے تھے اور وہاں کے عام شہریوں کو ملا ریڈیو اور اس کے حمایتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔ ان خوانین کے برعکس، افضل خان لالہ نے طالبان کی بالادستی کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ وہ ایک تعلیم یافتہ انسان تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کرچکے تھے۔ جمہوریت پر ایمان اور آزادی فکرو خیال کا فروغ ان کا مشن تھا۔ باچا خان سے انھیں قلبی تعلق تھا۔ خدائی خدمت گاروں سے ان کے قریبی روابط تھے۔

یہی وجہ تھی کہ انھوں نے جب عملی طور پر سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو نیشنل عوامی پارٹی کی رکنیت اختیار کی۔ 1970 کے صوبائی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ مولانا مفتی محمود کی کابینہ میں وزیر اطلاعات رہے۔ ولی خان سے اختلافات کے بعد انھوں نے پختونخوا قومی پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1990 میں پاکستان پیپلزپارٹی سے انتخابی اتحاد کیا۔ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ بے نظیر حکومت میں بھی وزیر رہے، ذاتی زندگی میں وہ ایک مذہبی انسان تھے لیکن مذہب کے نام پر انتہاپسندی اور دہشت گردی کے وہ سخت مخالف تھے۔

سوات پر انتہاپسندوں کا قبضہ ہوا، ملا ریڈیو اور اس کے ساتھیوں نے سوات کے عا م لوگوں کا جینا حرام کردیا تو انھوں نے اعلان کیا کہ وہ جان دے دیں گے لیکن اپنا علاقہ چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور انتہاپسندی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ وہ سوات کے ہیرو کہے جاتے ہیں۔ یہ اعزاز ان کے حصے میں آیا کہ حکومت پاکستان نے انھیں دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کا بے جگری سے مقابلہ کرنے کے اعتراف میں پاکستان کا سب سے بڑا شہری اعزاز ہلالِ شجاعت دیا۔

ان کے آخری دن بستر پر گزرے لیکن اپنی انتہائی خراب صحت کے دوران بھی وہ اپنے لوگوں سے یہی کہتے رہے کہ ہم اپنی سرزمین کو طالع آزماؤں کے حوالے نہیں کرسکتے۔ انھوں نے 90 برس کی عمر پائی اور پوری زندگی جمہوریت اور اپنے عوام کے حقوق کی لڑائی میں صرف کی۔ کئی مرتبہ قاتلانہ حملے ہوئے اس کے باوجود ان کی ہمت اور استقلال میں کمی نہ آئی، وہ اپنے لوگوں کے ساتھ رہے اور ان ہی کے درمیان وہ اس جہان سے گزرے۔ ان کا جنازہ جس شان سے اٹھا وہ کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔

یہ سوات کے ایک جواں مرد کی زندگی کا قصہ تھا جس نے عمر کے آخری دن طالبان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اور ان سے لڑتے ہوئے گزارے اور اب ذکر اس امریکی شہری کا جو چنددنوں پہلے 97 برس کی عمر میں ختم ہوا۔ نام اس کا ٹیری روزن بام تھا۔ تاریخ اس کا پسندیدہ موضوع تھا۔ وہ ایک ہائی اسکول ٹیچر تھا اور اپنے طالب علموں میں محبوب۔ انسانی حقوق، جمہوریت اور امریکی آئین اسے غریب اور بے آسرا لوگوں کا سہارا محسوس ہوتے تھے۔

یہ 26 مئی1951ء کا قصہ ہے جب ایک پولیس افسر نے لگ بھگ درجن بھر عینی شاہدوں کے سامنے ایک سیاہ فام کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر گولی مار کر ہلاک کردیا۔ 26 مئی کی رات ٹیری کے پاس فون آیا کہ سیاہ فام نوجوانوں کے ایک ہجوم نے اس پولیس اسٹیشن کوگھیر لیا ہے جس سے تعلق رکھنے والے پولیس افسر نے سیاہ فام نوجوان کو دن دھاڑے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

ٹیری کو اندازہ تھا کہ یہ بہت بری خبر ہے کیونکہ تھانے میں موجود پولیس والے اپنے دفاع کا بہانہ بنا کر ہجوم پر گولیاں چلادیں گے جس کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ سیاہ فام ہلاک ہوجائیں گے اور اس کے بعد قتل و غارت اور نفرت کا ایک ختم نہ ہونے والا شیطانی چکر شروع ہوجائے گا۔ ٹیری سفید فام ہونے کے باوجود سیاہ فام لوگوں میں مقبول تھا۔ اس نے وہاں پہنچ کر لوگوں کا غصہ ٹھنڈا کیا۔ وہ ان کے ساتھ مختلف تنظیموں میں کام کرتا تھا۔ ٹیری ایک سفید فام تھا اور سرکاری اسکول میں تاریخ پڑھاتا تھا۔

ٹیری نے مقامی سیاہ فام رہنماؤں اور قتل کے چشم دیدگواہوں کے ساتھ مل کر ایک شہری کمیٹی بنائی جس میں ایک ہزار افراد شامل تھے۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ سیاہ فام نوجوان کے قاتل پولیس افسر کو سزا دی جائے لیکن ٹیری اور اس کے ساتھیوں کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔ خونِ خاک نشیناں تھا، رزق خاک ہوا۔

چند مہینوں بعد ٹیری کو اسکول انتظامیہ نے طلب کیا اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ کمیونسٹ پارٹی کا ممبر ہے۔ ٹیری کا جواب نفی میں تھا۔

بات آئی گئی ہوگئی، 1953ء میں اچانک ٹیری کو حکم ملا کہ اسے جاسوسی کے الزام میں چلنے والے ایک مقدمے کی سماعت کے لیے پابند کیا جاتاہے۔ ان دنوں امریکا میں کہنے کو جمہوریت تھی لیکن یہ سینیٹر میکار تھی کی رائج کردہ جمہوریت تھی۔ میکارتھی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی ملزم کی رہائی کی اپیل پر دستخط کرتا ہے یا اس کا اٹھنا بیٹھنا بائیں بازو کے لوگوں کے ساتھ ہے، تو اس پر غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے۔ ٹیری کے لیے یہ سب کچھ ناقابل یقین تھا۔

کمرہ عدالت میں موجود ٹیری نے سینیٹر میکارتھی کو امریکی آئین، پانچویں ترمیم اور بل آف رائٹس کی یاد دلائی۔ اس زمانے میں میکارتھی کا نام پڑھے لکھے اور باشعور امریکیوں کے لیے خوف کی علامت تھا۔ ٹیری کا سینیٹر میکارتھی سے مباحثہ اس حد تک بڑھا کہ سینیٹر نے تاریخ کے اس استاد سے براہ راست اس کی سیاسی وابستگیوں کے بارے میں سوالات شروع کردیے۔ ٹیری نے اپنے دوستوں اور ملنے والوں کے بارے میں کسی قسم کی بھی معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ میکارتھی نے غصے سے بلند آواز میں پوچھا کہ تم کیسے امریکی ہو؟

ٹیری نے سینیٹر سے بھی بلند آواز میں جواب دیا کہ 'میں ان محب وطن امریکیوں کے ساتھ ہوں جنہوں نے بل آف رائٹس لکھا تھا تاکہ آج جیسی عدالت میں بے گناہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکے'۔

سینیٹر میکارتھی کے روبرو ہوکر ان سے دوبدو بحث کرنا اور بل آف رائٹس کی یاد دلانا، شیر کے منہ میں سر ڈالنے کے مترادف تھا۔ سینیٹر میکارتھی سے اس بحث مباحثے کے بعد ٹیری کے کیریئر پر مہر لگ گئی۔ اسے اسکول سے نکال دیا گیا۔

اس نے غربت جھیلی لیکن کبھی اپنے موقف سے انحراف نہیں کیا۔ کولمبیا یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کرنے والا ٹیری کیسا جی دار اور جری تھا، اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جنہوں نے میکارتھی ازم کو جھیلا تھا۔

بات افضل خان لالہ سے شروع ہوئی تھی جنہوں نے سوات پر طالبان کے قبضے کے خلاف بے جگری سے لڑائی لڑی اور بات ختم ٹیری روزن بام کے ذکر پر ہورہی ہے۔ ایک پاکستانی دوسرا امریکی۔ دونوں کا ایمان انسانی حقوق اور جمہوریت پر تھا اور دونوں اپنے موقف پر فخر کرتے رہے اور آخر تک اس پر قائم رہے، ان ہی لوگوں سے تاریک زمانوں میں اجالا رہتا ہے۔

مقبول خبریں