چون لاکھ ہلاکتوں کی بریکنگ نیوز کہاں ہے

ہمارا سارا فوکس اس جانب ہے کہ دھشت گردی سے پچھلے پندرہ برس میں ساٹھ ہزار پاکستانی کیوں مر گئے۔


Wasat Ullah Khan July 09, 2016

عالمی ادارہِ صحت کی سال دو ہزار سولہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے بیس آلودہ ترین شہروں میں نائجیریا کا شہر اونیتشا اول نمبر پر ہے۔ یہاں عالمی ادارہِ صحت کے معیار کے اعتبار سے سانس لینے کی ہوا تیس گنا آلودہ ہے۔ جب کہ پشاور دنیا کا دوسرا، راولپنڈی تیسرا اور کراچی چودھواں آلودہ ترین شہر ہے۔ یوں سمجھئے کہ بین الاقوامی سائنس جریدے ''نیچر'' کے مطابق پاکستان چین اور بھارت کے بعد فضائی آلودگی کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر ہے جب کہ پاکستان کی آبادی بھارت کی صرف ایک ریاست اتر پردیش کے برابر ہے۔ فضائی آلودگی کے سبب پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ دس ہزار شہری مر جاتے ہیں۔

آلودہ پانی سے متعلق اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ جتنی اموات ہوتی ہیں ان میں سے چالیس فیصد (قریباً ڈھائی لاکھ) آلودہ پانی سے پھیلنے والی بیماریوں ( ڈائریا، ٹائیفائیڈ، ہیپیٹائٹس وغیرہ ) سے ہوتی ہیں۔ اس وقت صرف اٹھارہ فیصد شہری اور پندرہ فیصد دیہی آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔ شہری علاقوں میں صرف آٹھ فیصد سیوریج اور ایک فیصد صنعتی پانی کو قابلِ استعمال بنانے کی سہولت میسر ہے۔ فضائی اور آبی آلودگی کے سبب بیمار افراد اگر صحت مند ہوں تو ملک کو طبی اخراجات اور کام کے ضایع شدہ اوقات کی مد میں کم از کم ڈیڑھ سو ارب روپے سالانہ کی بچت ہو سکتی ہے۔ باالفاظِ دیگر اگر اگلے دس برس تک ڈیڑھ سو ارب روپے فی سال فضائی و آبی آلودگی کو کنٹرول کرنے پر خرچ کر دیے جائیں تو سوچئے اگلے بیس برس تک کتنا قومی فائدہ ممکن ہے؟

اب ذرا اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے نکل کے حقیقی دنیا کی بات کرتے ہیں۔

آلودگی اور خاص طور سے صنعتی کیمیاوی مادوں سے پیدا ہونے والی ٹھوس اور مایع آلودگی کسی کی بھی ترجیحی فہرست میں شامل نہیں۔ صنعت کار بھی جانتا ہے کہ اس وقت ملک میں جو بھی ماحولیاتی قوانین نافذ ہیں ان کی حالت بنا دانت پوپلے کی ہے۔ ان نامرد قوانین کے تحت ماحولیاتی تحفظ پر مامور ادارہ (انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی) بے لگام صنعتوں کو نوٹس بھیج سکتا ہے یا پھر ماحولیاتی ٹریبونل میں گھسیٹ سکتا ہے، جہاں مہینوں پر پھیلی سماعت کے بعد بہت سے بہت چند ہزار روپے جرمانے کی سزا ہو جاتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کہ ماحولیاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب کتنے صنعتی یونٹوں کو سربمہر یا منسوخ کیا گیا ہے۔

پاکستان کا ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے سلسلے میں کتنا سنجیدہ سرکاری کمٹمنٹ ہے اس کا اندازہ یوں کیجیے کہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں ملک میں پہلی بار وزارتِ ماحولیات تشکیل دی گئی اور اس کے وزیر آصف علی زرداری بنے۔ حکومت بدلی تو وزارت بھی کسی اور محکمے میں مدغم ہو گئی۔ تب سے اب تک زہریلا قومی صنعتی فضلہ پانچ گنا بڑھ گیا ہے۔

قریباً تین برس پہلے پہلے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے لاہور اور گردونواح میں پھیلے ہزاروں چھوٹے بڑے کارخانوں کی ماحولیاتی سیمپلنگ کے لیے ایک سو فیکٹریوں کا سروے کیا اور صرف تین فیکٹریوں میں صنعتی آلودہ پانی کی صفائی کا نظام نصب پایا۔ لاہور کی دہلیز سے گزرنے والا دریائے راوی جو مغل بادشاہوں کے رومان و جمالیات کا استعارہ تھا آج وہی راوی عملاً وسطی پنجاب کے صنعتی فضلے اور کیمیاوی مواد کے سبب ایک عظیم زہریلا نالہ بن چکا ہے۔ ہر سال مون سون کے دو ماہ کے دوران قدرت راوی کی صفائی کر جاتی ہے اور انسان باقی دس ماہ اسے پہلے سے زیادہ غلیظ کرنے میں جٹ جاتا ہے۔

لاہور سے کچھ پرے بلھے شاہ اور ملکہ ترنم نور جہاں کے شہر قصور کی میتھی پورے پاکستان میں مشہور ہوا کرتی تھی مگر برا ہو چمڑا رنگنے کی صنعت کا جس کے تیزابی پانی نے قصور کی زمین ہی اجاڑ کے رکھ دی۔ کیا کسی نے اپنے بچپن میں پینے کے صاف پانی کی بوتل فروخت ہوتے دیکھی تھی؟

اسلام آباد اور پنڈی اگرچہ قوم کے غم میں نڈھال حکمرانوں اور ان حکمرانوں کے اعصاب پر سوار فوج کی جڑواں راجدھانی ہے مگر وہاں کے پانچ سو صنعتی یونٹ تندہی سے ڈیڑھ ہزار ٹن صنعتی فضلہ پیدا کر رہے ہیں اور بیشتر فضلہ روزانہ پنڈی شہر سے گزرنے والے دیہہ نالے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کسی کو پرواہ نہیں کہ اس کے نتیجے میں زیرِ زمین صاف پانی کے ذخائر پر کیا بیت رہی ہو گی۔

سندھ جو پاکستان کی آدھی قومی آمدنی فراہم کرتا ہے وہاں جنوبی ایشیا کی میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل منچھر صنعتی فضلہ وصول کرتے کرتے دھرتی کا سرطان ہو چکی ہے۔ چند برس پہلے تک سائبیریا سے لاکھوں پرندے موسمِ سرما کی چھٹیاں گزارنے اس کثرت سے منچھر پر آتے کہ جھیل ان کے پروں سے ڈھک جاتی۔ یہ پرندے پانی پر پھیلے سرکنڈوں میں رہتے اور مچھلی کھاتے۔ آج منچھر کی لاش تیزابیت کے تابوت میں بند اس آبی تیزاب پر تیر رہی ہے اور ہزاروں مہمان پرندے اوپر سے سینہ کوبی کرتے گزر جاتے ہیں۔

سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی کا یہ حال ہے کہ یہاں کے تین بڑے صنعتی زونز میں لگ بھگ سات ہزار چھوٹے بڑے کارخانے روزانہ چار سو اسی ملین گیلن آلودہ پانی باہر پھینک رہے ہیں۔ اس میں سے چار سو ملین گیلن پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے لیاری اور ملیر ندیوں کے راستے سمندر میں جا رہا ہے۔ واٹر ٹریٹمنٹ کے تین پلانٹس میں پانی صاف کرنے کی روزانہ گنجائش صرف اسی ملین گیلن ہے۔ چنانچہ کراچی کے ساحل پر کھڑے کھڑے آپ لہریں تو گن سکتے ہیں مگر مچھلیوں کو اچھلتا نہیں دیکھ سکتے۔ جب کہ صرف پچیس برس پہلے یہ حال تھا کہ کلفٹن کے ساحل پر گھٹنوں گھٹنوں پانی میں بھی کھڑے ہو جائیں تو ایک آدھ مچھلی ضرور پیر چھوتی گزر جاتی تھی۔

اس سے بھی بڑی قیامت وہ دس ہزار ٹن صنعتی و گھریلو فضلہ ہے جو اہلیانِ کراچی روزانہ پیدا کرتے ہیں۔ اس میں سے صرف بیس فیصد فضلہ ہی مخصوص جگہوں پر ٹھکانے لگانے کا انتظام ہے۔ اسی فیصد یا تو یونہی پڑا رہتا ہے، یا پھر کھلی نالیوں اور سیوریج سسٹم کے ذریعے زمین میں جذب ہو جاتا ہے یا ہوا کے دوش پر اڑ جاتا ہے اور انسانی کھال، دماغ، اعصاب، گردوں کی ابتری اور حاملہ ماؤں پر اثر انداز ہو کر نقص زدہ بچوں کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔ اگر کراچی میں پیدا ہونے والا سارا صنعتی و گھریلو فضلہ ٹھکانے لگ جائے تو اسپتالوں اور ڈاکٹروں کی آمدنی میں یکلخت پچاس فیصد کمی آ جائے۔

ہمارا سارا فوکس اس جانب ہے کہ دھشت گردی سے پچھلے پندرہ برس میں ساٹھ ہزار پاکستانی کیوں مر گئے۔ ان دھشت گردوں کے تعاقب میں ہر سال قومی بجٹ کا ایک تہائی بلاواسطہ یا بالواسطہ وقف کیا جا رہا ہے۔ مگر وہ فضائی و آبی آلودگی جس نے تین لاکھ ساٹھ ہزار سالانہ کے اعتبار سے پچھلے پندرہ برس کے دوران چون لاکھ پاکستانی نگل لیے۔ یہ سانحہ کتنی بار بریکنگ نیوز بنا؟

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com پر کلک کیجیے)

مقبول خبریں