گرین شرٹس کے سر پر کلین سوئپ کی تلوار لہرانے لگی

رنز بنانے میں سست اور وکٹ گنوانے میں چست ٹاپ آرڈر قومی ٹیم کیلئے بدستور دردِ سر


Sports Desk September 04, 2016
گرین شرٹس آخری مقابلے میں کلین سویپ کے خدشات ذہن پر سوار کیے میدان میں اتریں گے۔ فوٹو: فائل

گرین شرٹس کے سرپر کلین سوئپ کی تلوار لہرانے لگی، شکستوں کا تسلسل توڑنے کیلیے پانچویں ون ڈے میں صلاحیتوں سے بڑھ کر کارکردگی دکھانا پڑے گی، رنز بنانے میں سست، وکٹ گنوانے میں چست ٹاپ آرڈر بدستور درد سر ہے۔

تفصیلات کے مطابق ون ڈے سیریز کے اب تک کھیلے گئے چاروں میچز میں چاروں شانے چت ہونے والے گرین شرٹس آج پانچویں اور آخری مقابلے میں کلین سوئپ کے خدشات ذہن پر سوار کیے میدان میں اتریں گے، محدود اوورز کی جدید کرکٹ میں دیگر ٹیموں سے بہت پیچھے رہتے ہوئے عالمی رینکنگ میں9ویں نمبر تک پہنچ جانے والی پاکستانی ٹیم نے لیڈز میں کھیلے جانے والے دوسرے میچ میں روایتی سست روی سے بیٹنگ کرتے ہوئے وکٹیں زیادہ گنوائیں اور رنز کم بنائے۔

بولرز نے انگلینڈ کے ابتدائی 4بیٹسمینوں کو جلد پویلین بھیج کر امید کی ہلکی سی کرن دکھائی لیکن جونی بیئراسٹو اور بین اسٹوکس کی شراکت نے امیدوں پر پانی پھیر دیا،کارڈف میں ایک بار پھر ٹاپ آرڈر بیٹنگ پاکستان کیلیے تشویش کا باعث ہوگی، سمیع اسلم سیریز میں مسلسل ناکام ہیں، شرجیل خان نے صرف ایک اچھی اننگز کھیلتے ہوئے ففٹی بنائی، اظہر علی 175رنز جوڑ کر مہمان ٹیم کی جانب سے سرفراز احمد(210) کے بعد دوسرے نمایاں اسکورر ہیں۔

البتہ ان کا اسٹرائیک ریٹ 75.75دور جدیدکی تیز کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظر نہیں آتا،مجموعی طور پر بھی بیٹسمین سنگلز، ڈبلز کے ساتھ باؤنڈریز کے قحط کا بھی شکار ہیں، صرف سرفراز احمد اور عماد وسیم ہی تیزی سے رنز بٹورنے میں کامیاب نظر آئے ہیں،دیگر سست بیٹنگ کے باوجود وکٹیں گنواتے رہے، دونوں ان فارم بیٹسمینوں کے ساتھ مہمان ٹیم کی امیدیں محمد رضوان سے بھی وابستہ ہیں جو ماضی میں صورتحال کے مطابق چند اچھی اننگز کھیل چکے ہیں، انجری کے سبب محمد عرفان کی عدم دستیابی کے سبب محمد عامر کی ٹیم میں واپسی ہوسکتی ہے۔

کارڈف کی پچ عام طور پر سلوخیال کی جاتی ہے، یہاں پیسرز کو بہتر کارکردگی کیلیے نیا پلان اور سخت محنت درکار ہوگی، پاکستان کیلیے عماد وسیم اور محمد نواز اہم کردار ادا کرسکتے ہیں،پیسرز میں سب سے کامیاب بولر حسن علی صرف 4وکٹیں حاصل کرسکے، ناسازگار کنڈیشنز میں بہت سمجھداری کی ضرورت اور بولرز کے ساتھ فیلڈرز کو بھی جان لڑانا ہوگی۔

دوسری طرف ورلڈ کپ 2015کے پہلے راؤنڈ سے باہر ہونے کے بعد تشکیل دیا جانے والا انگلش اسکواڈ ایک منظم یونٹ میں ڈھل چکا ہے، ہر پوزیشن پر ضرورت کے مطابق بیٹنگ کی صلاحیت رکھنے والے بیٹسمین اور ورائٹی سے مالا مال بولرز موجود ہیں، دونوں شعبوں میں جارحانہ حملوں سے گرین شرٹس کے حوصلے پست کرنے والے کھلاڑی سیریز کا نتیجہ 5-0کرنے کیلیے بیتاب ہونگے۔

تیسرے میچ میں انگلینڈ کیلیے سب سے بڑی انفرادی ون ڈے اننگز کا ریکارڈ اپنے نام کرنے والے ایلکس ہیلز کے ساتھ جوئے روٹ، بین اسٹوکس و دیگر سب بھرپورفارم میں ہیں، جوز بٹلر فٹ ہوئے تو بولرز کا امتحان لیںگے، دوسری صورت میں متبادل وکٹ کیپر بیٹسمین جونی بیئراسٹو بھی گذشتہ میچ میں اپنی افادیت منوا چکے،اسپنرز عادل رشید اور معین علی لیڈز میں بھاری ثابت ہوئے تھے، سازگار کنڈیشنز میں ایک بار پھر مشکلات پیدا کرسکتے ہیں، کرس جورڈن اور ڈیوڈ ویلی کو بھی ایک چانس اور دیے جانے کا امکان ہے۔

انگلینڈ اے ٹیم کی جانب سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے لیام ڈاؤسن کو بھی ڈیبیو کا موقع دینے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ میچ کے دوران پورا دن آسمان پر بادل چھائے رہیں گے، وقفے وقفے سے بارش کی تھوڑی بہت مداخلت کا بھی امکان ہے۔ پاکستانی ٹیم کے بولنگ کوچ اظہر محمود کا کہنا ہے کہ ماضی میں جو ہوا اس کو بدل نہیں سکتے،ہر کوئی غلطیاں کرتا ہے لیکن ان سے سبق سیکھا جائے تو اچھی بات ہوگی،آخری میچ میں مثبت ذہن کے ساتھ میدان میں اترتے ہوئے کامیابی کیلیے پوری کوشش کریںگے۔

 

مقبول خبریں