رمضان کے پہلے ہفتے میں مہنگائی 079 فیصد کم ہو گئی بیورو شماریات کا دعویٰ

ایل پی جی 2.3، آلو2،گندم1.75فیصدمہنگے،دودھ،دہی،پیاز،چاول،کپڑے کے دام بھی بڑھے


ایل پی جی 2.3، آلو2،گندم1.75فیصدمہنگے،دودھ،دہی،پیاز،چاول،کپڑے کے دام بھی بڑھے۔ فائل فوٹو

ملک میں رمضان المبارک کے دوران جب ہرطرف ہرطبقے لوگ اشیا کی قیمتوں کا سن کر کانوں کو ہاتھ لگا رہے ہیں اس وقت پاکستان بیوروشماریات نے دعویٰ کیا ہے کہ رمضان کے پہلے ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں 0.79 فیصد کمی ہوئی، یہ ڈیٹا بہت سے لوگوں کیلیے حیران کن ہوگا،

اس سے بھی بڑھ کر یہ حیران کن انکشاف ہے کہ مہنگائی سے سب سے زیادہ ریلیف سب سے کم کمانے والے گروپ کو ملا ہے۔ جمعہ کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں 26 جولائی کوختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) کی سطح 183.53رہی جو 19جولائی کو184.99 اور 28 جولائی2011 کو 171.99 رہی، اس طرح ہفتہ واربنیادوں پر افراط زر کی شرح میں 0.79فیصد کم ہوئیں مگر ایک سال کے پہلے کے مقابلے میں قیمتیں 6.71 فیصد بلند ہیں۔

اعداد وشمار کے مطابق ایک ہفتے میں18اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، سب سے زیادہ اضافہ کیلے کی قیمت میں ہوا، کیلے کی اوسط قیمت 3.27 فیصد کے اضافے سے 104.57 روپے فی درجن ہوگئی، لہسن 2.93 فیصد کے اضافے سے 107.67 روپے کلو، ایل پی جی2.34فیصد بڑھ کر 1247.24 روپے فی گھریلو سلنڈر، آلو 2.08فیصد اضافے سے 30.45 روپے فی کلو، گندم 1.75 فیصد بڑھ کر 274.8 روپے فی کلوگرام اور خشک دودھ کی قیمت 0.82 فیصد کے اضافے سے 290 روپے فی 400گرام ہوگئی

جبکہ کپڑے دھونے کا صابن 0.75 فیصد، پیاز 0.71 فیصد، گڑ 0.41فیصد، انڈے0.34فیصد، سرسوں کا تیل 0.32 فیصد، تازہ دودھ 0.24فیصد، سرخ مرچ پسی ہوئی کھلی0.17فیصد، باسمتی ٹوٹا چاول 0.12 فیصد، شرٹنگ 0.12فیصد، دہی0.11فیصد، لانگ کلاتھ 0.10 فیصد اور اری 6 چاول 0.04 فیصد مہنگا ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے مرغی زندہ 14.02 فیصد، آٹا2.81فیصد، چائے کی پتی2.63فیصد، ٹماٹر 2.22 فیصد، دال ماش دھلی ہوئی0.83فیصد، دال مونگ دھلی ہوئی 0.8 فیصد، مسوردال دھلی ہوئی0.76فیصد، ویجیٹیبل گھی (ٹن)0.65فیصد، پکانے کا تیل (ٹن)0.64فیصد، ویجیٹیبل گھی کھلا 0.45 فیصد، دال چنا0.32فیصد اور چینی0.22فیصد سمیت 12اشیائے ضروریہ سستی ہوگئی جبکہ 23اشیا کے دام مستحکم رہے۔

رپورٹ کے مطابق 8 ہزار روپے ماہانہ آمدن رکھنے والے طبقے کیلیے گزشتہ ہفتے حساس قیمتوں کے اشاریے کے لحاظ سے مہنگائی(افراط زر) کی شرح میں سب سے زیادہ کمی ہوئی جو0.83 فیصد ہے جبکہ 35 ہزار روپے ماہانہ سے زائد آمدن والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح میں سب سے کمی ہوئی جو0.73 فیصدہے،

اس کے علاوہ 8 ہزار1روپے سے 12 ہزارروپے ماہانہ آمدن والے طبقے کیلیے ایس پی آئی کے لحاظ سے افراط زرکی شرح میں0.82 فیصد، 12ہزار1روپے سے 18 ہزار روپے ماہانہ کمانے والوں کے لیے0.83 فیصد، 18 ہزار1روپے سے 35ہزارروپے ماہانہ آمدن والے گروپ کیلیے حساس قیمتوں کے اشاریے کے لحاظ سے مہنگائی (افراط زر)کی شرح میں0.82 فیصدکمی ہوئی۔

مقبول خبریں