صحت اور تعلیم
ہماری حکومتیں ایسے مسائل بھی حل کرنے کی زحمت نہیں کرتیں جو بغیر کسی بھاری سرمایہ کے آسانی سے حل ہوسکتے ہیں
ہماری حکومتیں ایسے مسائل بھی حل کرنے کی زحمت نہیں کرتیں جو بغیر کسی بھاری سرمایہ کے آسانی سے حل ہوسکتے ہیں۔ ان مسائل میں ایک مسئلہ سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈی میں ڈاکٹروں کی کمی کا ہے۔ مشکل سے ایک دو ڈاکٹر او پی ڈی کے مریضوں کی بھیڑ کے لیے مہیا ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی اس کمی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مریضوں کو گھنٹوں اپنی باری کا انتظارکرنا پڑتاہے، جو مریض سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈی میں آتے ہیں ۔ انھیں پورے دن کی چھٹی کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری اسپتالوں کا دوسرا اہم مسئلہ اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی غیر موجودگی ہے۔
دور جدید میں طبی شعبے نے اس قدر ترقی کی ہے کہ ہر بیماری کی تشخیص کے ساتھ ہر بیماری کے ماہر ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں لیکن یہ کس قدر بد قسمتی کی بات ہے کہ سرکاری اسپتال اسپیشلسٹوں سے محروم ہیں۔ عام ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہی ہر بیماری کا علاج کرتے نظر آتے ہیں۔ اگر کسی سرکاری اسپتال میں کوئی اسپیشلسٹ موجود ہو بھی تو وہ عموماً مریضوں کی دسترس سے باہر ہوتا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں جو لیبارٹریز موجود ہیں ان کی کارکردگی اس قدر ناقص اور ناقابل اعتبار ہوتی ہے کہ خود سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹر مریضوں کوکسی قابل اعتبار لیبارٹری سے اپنے ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
سرکاری اسپتالوں میں صفائی کا انتظام اس قدر ناقص ہوتا ہے کہ سرکاری اسپتال بذات خود بیماریاں پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز کا عالم یہ ہے کہ نہ یہاں ضرورت کے مطابق ڈاکٹر دستیاب ہوتے ہیں، نہ ضروری دوائیں میسر ہوتی ہیں۔ یہی حال کارڈک ایمرجنسی کا ہے جہاں نہ اہم بیماری کے لیے اسپیشلسٹ موجود ہوتا ہے نہ ضروری ادویات مہیا ہوتی ہیں ایمرجنسی میں بھی عموماً عام ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہوتے ہیں جو مریضوں کو دوسرے اسپتالوں میں ریفرکرکے اپنی جان چھڑاتے ہیں۔
پاکستان ریلوے یونین کے چیئرمین منظور رضی کا شمار ہمارے ان مخلص دوستوں میں ہوتا ہے جو آدھی رات کو دستیاب ہوتے ہیں۔ منظور رضی ریلوے میں ہونے کی وجہ سے آئے دن ملک بھر کے دورے کرتے رہتے ہیں۔ منظور رضی ہی کے ذریعے ہمیں ملک بھر کے سیاسی حالات کا پتا چلتا رہتا ہے ایک متحرک سیاسی کارکن کی حیثیت سے منظور رضی ملک میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں میں شامل رہتے ہیں۔ مرزا ابراہیم کے خاص کارکن رہے ہیں، مرزا ابراہیم متحدہ ہندوستان سے ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں شامل رہے ہیں۔
مرزا صاحب فیض صاحب کے ساتھ بھی ٹریڈ یونین سرگرمیوں کا حصہ رہے ہیں۔ پچھلے دنوں منظور رضی اور ہم سینیٹر تاج حیدر کے آفس میں بیٹھے تھے، ہمارے ذہن میں ایک عرصے سے یہ سوال گردش کررہا تھا کہ ہماری حکومتیں آخر وہ آسان کام بھی کیوں نہیں کرپاتیں جوکسی بڑے سرمائے کے بغیر ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے ہم نے سرکاری اسپتالوں کی حالت زار کا سرسری طور پر اوپر ذکر کردیا ہے۔
سینیٹر تاج حیدر سے ہماری دعا سلام 25، 30 سال سے ہے۔ تاج حیدرکا شمار پیپلزپارٹی کے سینئر ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے تاج حیدر عوام کے مسائل حل کرنے میں کوشاں رہتے ہیں۔ اس پس منظر میں ہم نے سرکاری اسپتالوں کی حالت زارکا ذکر تاج حیدر سے کیا تو موصوف نے کہاکہ سرکاری اسپتالوں میں ضرورت کے مطابق ڈاکٹرز اور طبی عملہ موجود ہوتا ہے لیکن اس شعبے میں بھی گھوسٹ ملازمین کی بیماری ہے۔
ڈاکٹر اپنی ذمے داریاں پوری کرنے سے گریزاں رہتے ہیں جس کا نتیجہ او پی ڈی سمیت سرکاری اسپتالوں کے تمام شعبوں میں ناقص کارکردگی کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس حوالے سے فطری طور پر ہمارے ذہن میں یہ سوال آیا کہ تاج حیدر جیسے عوام دوست اور سینئر رہنما کو کئی اہم شعبے کی وزارت کیوں نہیں سونپی جاتی تاکہ حکومت کی کارکردگی میں بہتری آسکے؟
عوام کے اہم مسائل میں تعلیم اور صحت سرفہرست ہیں لیکن بد قسمتی نہیں بلکہ نا اہلی کا عالم یہ ہے کہ ان دو اہم ترین شعبوں کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا، دنیا کے دوسرے ملکوں میں جن میں پسماندہ ممالک بھی شامل ہیں صحت اور تعلیم کے لیے بجٹ میں معقول حصہ رکھا جاتا ہے جو بجٹ کا 6،7 فی صد تک بھی ہوتا ہے ۔
ہمارے ملک کی اس حوالے سے المناک صورت حال یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک ان دو اہم شعبوں کو قطعی نظر انداز کیا جاتا رہا۔ تعلیم اور صحت جیسے عوامی اہمیت کے ان دو شعبوں پر بجٹ کا 1،2 فی صد حصہ ہی مختصر کیا جاتا رہا۔ جس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ اس ملک کے 20 کروڑ عوام تعلیم اور صحت کی سہولتوں سے یکسر محروم ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں بیڈز کی کمی کی وجہ سے ایمرجنسی کے مریضوں کو بھی فرش پر لٹایا جاتا ہے پچھلے دنوں ایمرجنسی کی ایک مریضہ کو فرش پر ڈال دیا گیا اور وہ وہیں دم توڑ گئی۔
سرمایہ دارانہ نظام ایک ایسا ظالمانہ طبقاتی نظام ہے جس میں 90 فی صد آبادی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم رہتی ہے اور ایک چھوٹی سی اقلیت دنیا ہی میں جنت کے مزے لوٹتی رہتی ہے۔
صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی طبقاتی نظام اس قدر مستحکم ہے کہ 90 فی صد غریب طبقاتی تعلیم اور علاج کی سہولتوں سے محروم ہیں اور بہ مشکل دو فی صد آبادی اعلیٰ تعلیمی اور صحت کی سہولتوں سے بھرپور استفادہ کررہی ہے صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہے اور پیپلزپارٹی کی عوام میں مقبولیت کی وجہ یہی رہی ہے کہ وہ روٹی کپڑا اور مکان جیسی عوام کی بنیادی ضرورتوں کے نعرے لگاتی رہی ہے۔ صوبہ سندھ میں ایک متحرک وزیراعلیٰ آیا ہے اور عوام یہ امید کرنے میں حق بجانب ہیں کہ مراد علی شاہ حکومت صحت اور تعلیم جیسے عوام کی بنیادی ضرورت کے شعبوں میں انقلابی تبدیلی لاکر عوام کے دل جیتنے کی کوشش کرے گی۔