تیسری عالمی جنگ کے خطرات

مسئلہ کشمیر کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان سخت کشیدگی کی فضا موجود ہے


Zaheer Akhter Bedari February 13, 2017
[email protected]

MULTAN: دنیا کے عوام ایسے کسی حکمران طبقے کی حمایت نہیں کر سکتے جو جنگوں اور جنگوں کے خطرات پیدا کرنے میں براہ راست یا بالواسطہ ملوث ہو۔ اس حوالے سے پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر کے عوام کے غصے کی زد میں ہیں کیونکہ ان کے غیر محتاط بیانات سے دنیا میں سخت تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

حکمرانوں پر یہ اخلاقی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کے حکمرانوں سے اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے گفتگو کریں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ طاقت کے نشے میں امریکی صدر سفارتی اخلاق کو بھی بھلا بیٹھے ہیں۔ میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق امریکی صدر نے آسٹریلوی وزیراعظم کے ساتھ فون پر جو گفتگو کی، میڈیا اسے بدترین قرار دے رہا ہے۔ جمعرات کو ٹرمپ نے میکسیکن صدر اینرک پینانیتو کو فون پر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر میکسیکو نے اپنے ملک میں موجود بدمعاشوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو اس کام کے لیے وہ امریکی فوج کو حکم دیں گے۔

میڈیا کے مطابق امریکی اور میکسیکن صدور کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں امریکی صدر کا لہجہ تحکمانہ اور توہین آمیز تھا۔ میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میکسیکو میں بہت سے بدمعاش موجود ہیں لیکن میکسیکن حکومت انھیں روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہی ہے۔ اسی روز آسٹریلوی وزیراعظم سے فون پر گفتگو کے دوران ٹرمپ نے پناہ گزینوں کے حوالے سے آسٹریلوی وزیر اعظم کو بے نقط سنائیں۔

امریکا دنیا کی واحد سپرپاور ہے اور ٹرمپ کے امریکی صدر ہونے کے ناتے یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہم مرتبہ سربراہان حکومت سے، خواہ ان کی حیثیت کتنی ہی متنازعہ ہو، اخلاق سے بات کریں تا کہ ایک سپرپاور کا امیج دنیا بھر میں قابل تعریف رہے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک ٹرمپ کی غیر محتاط، غیرسفارتی گفتگو ساری دنیا میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے اور امریکا کا امیج متاثر ہو رہا ہے۔

ہم نے کالم کا آغاز جنگوں اور جنگوں کے خطرات پیدا کرنے والے حکمرانوں سے دنیا کے عوام کی ناراضگی سے کیا تھا۔ اس حوالے سے ٹرمپ کی غیر محتاط گفتگو اور جارحانہ پالیسیاں دنیا بھر میں جنگوں کی راہ ہموار کر رہی ہیں، وہیں امریکا کے قریبی دوست بھارت کی پالیسیاں بھی علاقے اور عالمی سطح پر جنگوں اور جنگوں کے خطرات پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ بھارت میں جو تازہ بجٹ پیش کیا گیا ہے اس میں دفاعی بجٹ میں 10 فیصد اضافے کی ''نوید'' دی گئی ہے۔

مسئلہ کشمیر کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان سخت کشیدگی کی فضا موجود ہے، دونوں انتہائی پسماندہ ملک ہیں، جہاں آبادی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے، جہاں بھوک اور بیماری سے ہزاروں لوگ موت کا شکارہو جاتے ہیں۔ بھارت میں میڈیا رپورٹس کے مطابق36 لاکھ عورتیں پیٹ کی خاطر جسم بیچنے پر مجبور ہیں۔ ایسے پسماندہ ملکوں کا حکمران طبقہ اگر اپنے بجٹ میں دفاع پر 10 فیصد اضافہ کرتا ہے تو سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ یہ جنگ باز حکمران خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔


پاکستان بھارت کے مقابلے میں روایتی ہتھیاروں کے حوالے سے ایک نسبتاً کمزور ملک ہے لیکن ایٹمی طاقت بننے کے بعد اب پاکستان بھارت کی ٹکر کا ملک بن گیا ہے اور دانشورانہ حلقوں میں اس حوالے سے سخت تشویش پائی جاتی ہے کہ خدانخواستہ ان دو ایٹمی ملکوں میں جنگ چھڑ جائے تو دونوں ملکوں کا انجام کیا ہو گا۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ طویل عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان اسلحے کی دوڑ کا سلسلہ جاری ہے، ایٹمی میزائل اس دوڑ کا خطرناک حصہ بنے ہوئے ہیں، غوری اور پرتھوی کے اس مقابلے میں یہ خطہ ایٹمی ہتھیاروں کا ڈپو بن رہا ہے، بھارت میں اس وقت وزیراعظم نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے ہیں اور جنگوں کی تاریخ میں سب سے زیادہ نقصان نچلے طبقے کا ہی ہوتا رہا ہے۔

دوسری عالمی جنگ جس میں صرف معمولی قوت کے دو ایٹم بم استعمال کیے گئے تھے دنیا کی تاریخ کی سب سے زیادہ ہلاکتوں کی جنگ بن گئی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران صرف امریکا محدود ایٹمی طاقت کا مالک تھا، آج کئی ملک ایٹمی طاقت بنے ہوئے ہیں، جن میں بھارت اور پاکستان جیسے انتہائی غریب ملک بھی شامل ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے انتہائی غریب ملکوں میں صحت، تعلیم، غذا جیسے مسائل کے بجٹ میں اضافے کی ضرورت ہے یا دفاع جیسے خطرناک شعبے کے بجٹ میں اضافے کی ضرورت ہے؟ پاکستان، بھارت اور اس خطے کے غریب عوام حکمران طبقات سے اس سوال کا جواب مانگ رہے ہیں۔

سرحدی تنازعات کے حوالے سے چین کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات کشیدہ ہیں، بھارت اگر بلاجواز اپنے دفاعی بجٹ میں دس فیصد اضافہ کرتا ہے تو منطقی طور پر چین میں بھی اس کا شدید ردعمل ہو گا، جس کا نتیجہ ہتھیاروں کی بے محابہ دوڑ کی شکل ہی میں نکلے گا۔ دنیا دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے ابھی تک باہر نہیں نکل پائی، ایسی صورت میں تیسری عالمی جنگ کے خطرات پیدا کرنا انسانیت دشمنی کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے؟

کشمیر اور چین کے سرحدی تنازعات بھارت پاکستان اور چین کے درمیان کشیدگی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ان ملکوں کے حکمران طبقات ان مسائل کو فراخدلی سے حل کرنے کے بجائے انھیں اس قدر پیچیدہ بنا چکے ہیں کہ اب ان مسائل کو حکمران طبقات حل نہیں کر سکتے۔ انھیں حل کرنے کے لیے اہل علم، اہل فکر، اہل دانش کو آگے آنا ہو گا، ورنہ ٹرمپ اور مودی اپنی فطری جنگ پسندی اور غیر محتاط رویوں سے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیلنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور تیسری عالمی جنگ کا مطلب کرۂ ارض کی تباہی کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ کاش ٹرمپ مودی ان حقائق کا ادراک کر سکتے۔

مقبول خبریں