سوئیڈن میں دہشتگردی کا مشتبہ ملزم گرفتار

یورپی ممالک میں نسلی امتیاز اور مسلمانوں کے بارے میں منفی طرز عمل بھی نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرتا ہے۔


Editorial April 10, 2017
یورپی ممالک میں نسلی امتیاز اور مسلمانوں کے بارے میں منفی طرز عمل بھی نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

سوئیڈن کی پولیس نے اسٹاک ہوم میں ٹرک لوگوں کے ہجوم پر چڑھا کر چار افراد کو ہلاک اور پندرہ کو زخمی کرنے والے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ مغربی میڈیا کے حوالے سے آنے والی اطلاعات کے مطابق گرفتار شخص ازبک نژاد ہے۔ ٹرک سے اسٹاک ہوم کے شہریوں کو کچلنے کا واقعہ جمعہ کے دن پیش آیا تھا۔

اسٹاک ہوم پولیس چیف سے اخباری نمایندوں نے سوال کیا کہ کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ انھوں نے کسی غلط شخص کو گرفتار کر لیا ہو تو پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ ابتدائی تفتیش سے ہی ہمارے اس شبے کی تصدیق ہوئی ہے کہ ہم نے درست ملزم کو گرفتار کیا ہے البتہ اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ مذکورہ شخص کے ساتھ مزید لوگ بھی اس افسوسناک واقعہ میں ملوث ہوں۔ لیکن فی الوقت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کی تعداد کتنی ہو گی البتہ اس واقعہ کو دہشتگردی کے واقعات کے ساتھ شامل کر لیا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ لندن میں بھی اس نوعیت کا ایک واقعہ رونما ہوا تھا جس میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسٹاک ہوم اور لندن کے واقعہ کا انداز بالکل مماثل ہے۔ گزشتہ سال فرانس کے شہر نیس اور جرمنی کے شہر برلن میں بھی دہشتگردی کے واقعات میں گاڑیوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ سوئیڈن میں کیے جانے والے ٹرک حملے کی ذمے داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔

اسٹاک ہوم میں جب ٹرک ڈرائیور نے لوگوں کو کچلنا شروع کیا تو بھگدڑ مچ گئی' اس بھگدڑ کا فائدہ اٹھا کر حملہ آور ڈرائیور ٹرک سے نکل کر پیدل فرار ہو گیا اور اب جس ازبک شخص کو شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے اس نے اس واقعہ میں ملوث ہونے سے سختی کے ساتھ انکار کر دیا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو فی الحال وثوق سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جس شخص کو گرفتار کیا گیا ہے' وہی اس دہشتگردی کا اصل ملزم ہے' اب تحقیقات کے بعد ہی اصل صورتحال سامنے آئے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ مغربی طاقتیں مسلمان ملکوں میں جو تباہی پھیلا رہی ہیں مغربی ممالک میں مقیم بعض مسلمانوں پر اس کا بڑا شدید اثر ہوتا ہے اور پھر وہ ردعمل کے طور پر کوئی ایسا کام کر گزرتے ہیں جو دہشتگردی کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ یورپی ممالک میں نسلی امتیاز اور مسلمانوں کے بارے میں منفی طرز عمل بھی نوجوانوں میں مایوسی پیدا کرتا ہے' ان مایوس نوجوانوں کو انتہا پسند گروہ باآسانی اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں' یورپ اور امریکا میں کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں ایسے ہی نوجوان ملوث نکلے ہیں' یورپی ممالک کی لیڈر شپ کو اپنی داخلی پالیسیوں پر بھی نظرثانی کرنی چاہیے' وہ نسلی اور مذہبی امتیاز کے خلاف باتیں تو کرتے ہیں لیکن عملاً صورتحال مختلف ہے۔ بہرحال سوئیڈن میں دہشتگردی ایک قابل مذمت فعل ہے اور اس میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

 

مقبول خبریں