بھارتی سپریم کورٹ نے ’’پدماوت‘‘ کی ریلیز میں حائل رکاوٹیں دورکردیں

ویب ڈیسک  جمعرات 18 جنوری 2018
’’پدماوت‘‘پر سب سے زیادہ اعتراض بھارتی ریاست راجستھان میں سامنے آیا تھا؛ فوٹوفائل

’’پدماوت‘‘پر سب سے زیادہ اعتراض بھارتی ریاست راجستھان میں سامنے آیا تھا؛ فوٹوفائل

ممبئی: بھارتی سپریم کورٹ نے فلم ’’پدماوت‘‘ پر مختلف ریاستوں میں عائد پابندی کو معطل کردیا ہے۔

بالی ووڈ کی متنازع ترین فلم ’’پدماوت‘‘ نے بالآخر اپنے حق کی لڑائی جیت لی، بھارتی سپریم کورٹ نے فلم پر عائد پابندی کو اٹھاتے ہوئے اسے پورے بھارت میں ایک ساتھ ریلیز کرنے کا حکم جاری کردیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندو انتہا پسندوں نے فلم کے خلاف احتجاج اور مظاہرے کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ وہ فلم کو ریلیز ہونے نہیں دیں گے،’’پدماوت‘‘ پر سب سے زیادہ اعتراض بھارتی ریاست راجستھان سے سامنے آیا تھا، ریاستی حکومت نے فلم کو سنسر بورڈ کی جانب سے سرٹیفیکیٹ ملنے کے باجود مقامی سینماؤں میں فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کردی تھی ان کی دیکھا دیکھی ہریانہ، گجرات اور مدھیہ پردیش  نے بھی فلم پر پابندی عائد کردی تھی۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: ’’پدماوت‘‘کی تاریخ ایک بار پھر تبدیل

اس پابندی کے خلاف فلم پروڈیوسرز نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا تھا اوراب سپریم کورٹ نے فلم پرسے پابندی اٹھاکر اسے تمام ریاستوں میں ریلیز کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ فلم’’پدماوت‘‘پورے بھارت میں ایک ساتھ ریلیز ہوگی۔

چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور ڈی وائے چندر چور پر مشتمل بینچ کا کہنا تھا کہ  جب سنسر بورڈ نے فلم کو سرٹیفکیٹ  جاری کردیا ہے تو دیگر ریاستوں کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ فلم پر پابندی لگائیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا  کہ فلم کے ہدایت کار اور اداکاروں کو سیکیورٹی دی جائے۔

فلم پروڈیوسر کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل  ہریش سالوےکا کہنا تھا کہ اگر ریاستیں فلم پر پابندی لگاتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ یہ مرکزی حکوت کے ڈھانچے کو تباہ کررہی ہیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: ہندوانتہا پسندوں نے اسکول پرحملہ کردیا

واضح رہے کہ سنسر بورڈ نے فلم کو 25 جنوری کو ریلیز کی اجازت دی تھی تاہم گزشتہ روز فلم پروڈیوسرز نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ چند تجزیہ کاروں کو پیسے دے کر مقررہ تاریخ سے ایک روز قبل فلم دکھائیں گے تاکہ وہ فلم پراپنا تجزیہ پیش کریں اور لوگوں کو بتا سکیں کہ فلم میں تاریخی حقائق کے منافی کوئی بات نہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔