تمام مذاہب کی عزت کرتا ہوں، رشی کپورنے پھر پینترا بدل لیا

ویب ڈیسک  جمعـء 7 جولائ 2017
مجھ پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد اور جھوٹے ہیں؛رشی کپور؛فوٹوفائل

مجھ پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد اور جھوٹے ہیں؛رشی کپور؛فوٹوفائل

ممبئی: بالی ووڈ کے نامور اداکار رشی کپورنے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بیان جاری کیا ہے کہ وہ اور ان کے خاندان کے افراد تمام مذاہب کی یکساں طورپرعزت کرتے ہیں۔

بالی ووڈ کے معروف اداکاررشی کپورسوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں اور اکثر مختلف موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں کئی بار رشی کپور اپنے بے باک موقف کے باعث تنازعات کا شکار ہوچکے ہیں  جس پر انہیں معافی بھی مانگنی پڑی بہرحال ،حال ہی میں انہوں نے ٹویٹر پر مذہب کے حوالے سے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ مذہب کے معاملے میں وہ اور ان کی فیملی سیکیولر اور آزادانہ خیالات کے حامی ہیں لیکن وہ  بھارت میں موجود دیگر مذاہب کی بھی یکساں طور پر عزت کرتے ہیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: رشی کپور کرینہ کے بیٹے کے نام کے تنازعے پر پھٹ پڑے

بھارتی میڈیا کے مطابق ایک ٹویٹر صارف نے ان سے سوال کیا کہ آپ تمام مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں اور ان پر تنقید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جبکہ دوسری طرف منافقت کا رویہ اختیار کرتے ہوئے آپ اور تمام بھارتی پیسوں کیلئے ترقی یافتہ مسلم ممالک کا رخ کرتے ہیں اور وہاں جانے میں کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔

رشی کپور نے اس پیغام کے جواب میں دنیا بھر کی مظلومیت اپنے اوپر طاری کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ مجھ پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد اور جھوٹے ہیں ان الزامات نے مجھے سخت تکلیف پہنچائی ہے۔

انہوں نے لکھا میں اورمیری فیملی کے تمام افراد مذہبی معاملات میں سیکیولرہیں اور دیگر تمام مذاہب کو یکساں طور پرعزت دیتے ہیں ہم نے کبھی کسی مذہب کو برا نہیں کہا بلکہ تمام مذاہب کی تعریف کی ہے۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: پاکستانی کرکٹ شائقین نے رشی کپور کو آئینہ دکھا دیا

واضح رہے کہ رشی کپور پاکستان خصوصاً پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بارے میں سوشل میڈیا پر اکثر زہر اگلتے نظر آتے ہیں، پاکستانی کرکٹ ٹیم کے چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچنے کی خبر رشی کپور سے ہضم نہیں ہوئی تھی اور انہوں نے ٹویٹر پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نازیبا کلمات کہے تھے بعد ازاں پاکستانی ٹیم کی چیمپئنز ٹرافی جیتنے کے بعد انہیں اپنے سابقہ بیان پر معافی مانگنا پڑی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔