US
صفحۂ اول
تازہ ترین
خاص خبریں
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
ہم میں بہت سے بریلوی تھے تو دیوبندی تھے، کوئی اہل تشیع کا تھا تو کوئی صوفی تھا، کوئی ہندو تھا تو کوئی کرسچن تھا۔
ہندوستان سات فیصد سے شرح نمو میں اضافہ تو کر رہا ہے مگر غریب غریب تر ہو رہا تھا۔
میں آج جب یہ کالم ارسال کر رہا ہوں، شکارپور سے لوٹا ہوں۔ ابھی میری نیند بھی پوری نہیں ہوئی۔
کل تک دنیا میں سرد جنگ کا دور تھا اور اس سے پہلے انگریز سامراج کو یہ فکر لاحق تھی کہ روس گرم حماموں تک نہ پہنچ جائے۔
پٹرول کا بحران اگر زرمبادلہ کے ذخائر کے کم ہونے سے جنم لیتا تو یہ کہا بھی جاسکتا تھا کہ بحران سنگین ہے۔
ملک جمہوریت کے ذریعے بنا تھا اور جمہوریت کے لیے بنا تھا۔ اور جمہوریت کبھی بھی کالی نیلی سفید نہیں ہوا کرتی۔
یہ اور بات ہے کہ ہمارا آئین سعودی عرب یا قذافی کے نافذ کردہ دستاویز کی طرح Semantic نہیں ہے۔
ملزم ہوتے ہی شخص مجرم ہوجائے تو پھر باقی کچھ بچتا نہیں ہے۔
کوئی بھی آئین تب تک اپنی جڑ نہیں پکڑ سکتا جب تک وہ اپنا بنیادی ڈھانچہ نہ وضع کرسکے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ترمیم کر رہے ہیں وہ ترمیم کسی کاغذ کے ٹکڑے پر نہیں ہوتی بلکہ اس سماجی معاہدے کی ماہیت پر ہوتی ہے۔