عارف عزیز

  • کوچۂ سخن

    کچھ بھی دنیا میں کہاں دوستو، حسرت سے ملا عیش تو عیش مجھے رنج بھی محنت سے ملا

  • کوچۂ سخن

    بھلے مثبت ہویا منفی کبھی اچھی نہیں ہوتی فراوانی کسی بھی چیز کی اچھی نہیں ہوتی

  • کوچۂ سخن

    سرسری خواب کی تکمیل اٹھا لائے ہیں  دشت والے ہیں مگر نیل اٹھا لائے ہیں 

  • کوچۂ سخن

    کچھ اس طرح سے وہ حجت تمام کرتے ہیں بریدہ سر کو بھی جھک کر سلام کرتے ہیں

  • کوچۂ سخن

    جب یہ آنکھیں کلام کرتی ہیں  شاہ زادے غلام کرتی ہیں

  • کوچۂ سخن

    وجد میں آیا ہوا مست خلا دیکھتا ہے کون یوں رکھ کے تجھے تیری جگہ دیکھتا ہے

  • کوچۂ سخن

    تجھے میں سوچ کے مصرع تراش لیتا ہوں بڑے بڑوں سے بھی اچھا تراش لیتا ہوں   

  • کوچۂ سخن

    جاتے ہوئے جوازِ بقا لے گیا تو پھر سیلِ بلا، فصیلِ انا لے گیا تو پھر

  • کوچۂ سخن

    کس کس کی سرشتوں میں وفا ساتھ چلے گی سورج کی طلب لے کے گھٹا ساتھ چلے گی

  • کوچۂ سخن

    یہ شہر زاد آ گئے بیکار دشت میں تہذیب ان کی موجبِ آزار دشت میں