صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پر کوئی داغ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
حکمران دعوے کرتے ہیں کہ ملک کو کفایت شعاری کے ذریعے ترقی کی منزل پر لے کر جائیں گے
دہشت گردی کا مسئلہ سنگین ترین صورت اختیار کرچکا ہے
اک کتاب اور نئی آئی نئے خواب کے ساتھ اک چراغ اور جلا حجرۂ درویشی میں
پاکستان کا شمال مغربی بارڈ پون صدی سے زائد عرصے سے’’ نرم سرحد ‘‘ چلا آرہا ہے
کھانا آپ جیسے لوگ دے دیتے ہیں‘ کپڑے کزن بھجوا دیتا ہے
ان کی تحریریں نایاب تاریخی معلومات کے ساتھ ساتھ ادبی چاشنی سے مزین ہوتی ہیں
پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان تعاون بھی ناگزیر ہے
ریاست بھوپال نے ہندوستانی مسلمانوں پر احسانات کی جو بھرمار کی ہے اسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا
ان کی حکمت ِ عملی یہ تھی کہ وہ آہستہ و بتدریج غیر وابستہ ممالک کی صف میں کھڑے ہو جائیں
پاکستان میں اتحادی سیاست یا گرینڈ الائنس کی کہانی کوئی بہت اچھی نہیں ہے
کیونکہ وہ خود بھی محبت سے بھرپور آدمی تھے اور ساری زندگی چاہتیں دے کر محبتیں سمیٹتے رہے
سید حسن نصر اللہ کی شخصیت نے فلسطین کاز کے لیے سرگرم تحریکوں کو باہمی یکجہتی کے رشتہ میں جوڑنے میں اہم کردار کیا
ایک خوفناک سکون ہے، غزہ کے لوگ مسلسل محاصرے میں رہتے ہیں
شور شرابے اور احتجاج کے باوجود تھوڑی ہی دیر میں پیکا ترمیمی بل سینیٹ سے منظور کر لیا گیا
سالوں سے شاہ لطیف کی فکری سوچ کے تحفظ کے لیے لطیف میلے میں بلہڑجی کا کیمپ لازم و ملزوم ہے
آج کی دنیا میں سب کچھ سطحی ہے،گہرائی اور یکسوئی نادر ہی نظر آتی ہے
کشمیر کا ایک تہائی شمالی حصہ پاکستان کے اور دو تہائی حصہ بھارت کے زیر تسلط ہے
انسانی فطرت اپنے تقاضوں پر چلتی ہے اور اس کے مخالف یعنی اول دن کا دشمن اپنی روش پر چلتا ہے
دوسرے انسان کو حوصلہ دینا بھی اس کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کا موجب بنتا ہے
قرض کسی منصوبے کے لیے لیا جائے وہ بذات خود بدتر نہیں ہوتا بشرطیکہ منصوبے کے مقاصد کی تکمیل کے لیے ہو
برطانیہ نے اشک شوئی کے لیے عراق کی بادشاہت فیصل بن شریف حسین کے حوالے کر دی
پاکستان میں خود مختار یونیورسٹی کا حتمی تصور پیپلز پارٹی کے پہلے دور میں آیا
آج کل ہر سرکاری اور نیم سرکاری ادارے میں نئے مینڈیٹ کی گائے پرانے مینڈیٹ کی پگڑیوں کو نگل رہی ہے
یہ حقیقت ہے کہ کچھ لوگ پیدائشی طور پر فطرتاً خوش رہنے والے ہوتے ہیں
حکومت کے مطابق ان کارروائیوں میں کالعدم ٹی ٹی پی ملوث ہے۔
اچھی اور مکمل نیند ہمارے موڈ کو مستحکم رکھتی ہے۔
بانی پی ٹی آئی جو پنشن بند کرنے کا شوشہ چھوڑ کر گئے تھے اس کی آواز گاہے گاہے اب بھی سنی جاتی ہے۔
پی ٹی آئی مذاکرات کے نام پر حکومت الزام عائد کرتی ہے کہ وہ سنجیدہ نہیں ہے۔
اقتدار میں آنے سے قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ شام ، حماس ،لبنان اور حزب اللہ کے مسائل سے تقریباً نمٹ چکے تھے ۔
انڈس اسپتال سمیت متعدد فلاحی ادارے لوگوں کو سستے علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستان دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
اس لذیذ پھل کو آپ تازہ بھی کھا سکتے ہیں، یا خشک انجیر خرید کر سال بھر اس کا لطف اٹھا سکتے ہیں
تمام اسلامی شقیں غیر موثر ہیں۔ ان کے موثر ہونے کی کوئی شکل دکھائی نہیں دیتی۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ امریکا اور چین کے درمیان ایک توازن پر مبنی سفارتی کاری اختیار کرے
زندگی کے معیار کو بلند کرنے کے لیے سائنسی تحقیق کو برتری حاصل ہوئی۔
میاں نواز شریف اگر سیاست میں متحرک نہیں ہو رہے تو اس کی وجوہات بھی ہوں گی
کئی اشیا یا مصنوعات ایسی بھی ہیں جو اس وقت ایک مقروض معیشت کے لیے انتہائی مضر اثرات رکھتی ہیں
مستقبل میں کلائمیٹ چینج کے نتیجے میں خوراک، پانی اور توانائی کی فراہمی متاثر ہوگی
چین نے چھ ملین ڈالر میں ’’ڈیپ سیک‘‘ بنا کر نہ صرف امریکی چیٹ جی پی ٹی کا بیڑہ غرق کر دیا
رزقِ حلال کھانے والے پولیس افسر کی یونیفارم، امن، تحفّظ اور عزّت کی علامت ہوتی ہے
وفاقی حکومت کو بھی ارکان سینیٹ اور قومی اسمبلی کی غربت کا خیال آگیا ہے
ٹرمپ نے کیپیٹل ہل پر حملے میں ملوث افراد کے لیے عام معافی کا اعلان کیا۔
تنگ کپڑے، قابلِ اعتراض پرنٹ یا گرافک والے کپڑے نہ استعمال کریں۔ طلبہ عام چپلیں بھی نہ پہنیں۔
اگر آئین وقانون کی تشریح کا معاملہ ہے تو اسے آئینی بنچ سنے گا۔ اگر عام سماعت ہے تو عام بنچ بنے گا۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن بھی الخدمت فاونڈیشن کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں
اسٹیٹ بینک کی جانب سے مارک اپ ریٹ میں کمی خوش آیند ہے۔
عربوں کے ساتھ دوستی میں اضافہ کریں اور اپنے آپ کو معاشی لحاظ سے مضبوط کریں۔
فروغِ نعت اور نعتیہ ادب کے لیے کراچی میں 1990 یا 1991 سے مسلسل مصروف ایک تنظیم دبستانِ وارثیہ، کراچی بھی ہے
اس کے برعکس مشرق میں صدیوں سے پرامن طور پر آباد یہودی اقلیت کو ابتدا میں صیہونیت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔