معاشی عدم استحکام اور سیاسی ابہام اب مزید نہیں چل سکتا

ڈالر کی اس اڑان اور روپے کی قدر میں کمی سے ملک کی ساکھ کو نقصان نہیں ہو رہا


مزمل سہروردی December 14, 2017
[email protected]

ملک کے معاشی عدم استحکام کا براہ راست تعلق سیاسی عدم استحکام سے ہے۔ پاکستان میں شائد اس وقت اتنا زیادہ سیاسی عدم استحکام نہیں ہے جتنا معاشی عدم استحکام ہے۔ ڈالر روز بروز اوپر جا رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے ڈالر کو پر لگ گئے ہیں۔ حکومت ڈالر کی اس اڑان پر نہ تو پریشان لگ رہی اور نہ ہی اس کے پاس ڈالر کی اس اڑان کا کوئی حل نظر آرہا ہے۔ ڈالر کی اڑان نے اس حکومت کی چار سالہ معاشی پالیسیوں اور کارکردگی پر گہرے سوالیہ نشان پیدا کر دیے ہیں۔ ملک میں ابہام ہے۔ سیاسی ابہام نے معاشی عدم استحکام پیدا کیا ہے۔ نواز شریف کو مائنس کرنا کوئی مکمل اسکرپٹ نہیں ہے۔

اس سے آگے کچھ نہیں ہے تو یہ ابہام رہے گا۔ اگر اس سے آگے اسکرپٹ نہیں ہے تو پھر یہ بے لذت گناہ کس کام کا۔ بلکہ اس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ ہمارے قومی اداروں کو موجودہ ابہام کی صورتحال کو ختم کرنا ہو گا۔ انھیں اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ اس سے ملک کا نا قابل تلافی نقصان ہو رہا ہے۔ اگر سب کچھ پاکستان کے مفاد میں کیا گیا ہے اور کیا جانا ہے تو اس کی ٹائمنگ کو بہتر کرنا ہو گا۔ جو بھی اسکرپٹ ہے اس کا ابہام ختم ہونا چاہیے۔ پاکستان کے طاقتور اداروں کو اس ضمن میں حالات کی نزاکت اور صورتحال کو سمجھنا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ مقدمات کے فیصلے حالات کی نزاکت اور معاملات کی سنگینی کو سامنے رکھ کر نہیں کیے جاتے بلکہ آئین و قانون کے مطابق کیے جاتے ہیں۔

لیکن جو فیصلے محفوظ ہیں ان کو لمبے عرصے تک محفوظ رکھنے سے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر ملک میں کرپشن ختم کرنے کا واقعی کوئی اسکرپٹ ہے۔ کرپٹ سیاستدانوں کو کیفر کردار تک پہنچانے اور انھیں میدان سیاست سے باہر کرنے کا اگر واقعی کوئی اسکرپٹ ہے تو اس پر عمل ہونا چاہیے۔ محفوظ فیصلوں کو فوری جاری کرنا چاہیے۔ صرف نواز شریف کو نااہل کرنے سے نہ تو کوئی فائدہ ہو گا اور نہ ہی کرپشن کے خلاف تحریک کو کوئی فائدہ ہو گا، نہ ہی سیاست کو کرپشن سے پاک کرنے میں کامیابی ہو گی۔

افسوس کی بات تو یہ بھی ہے کہ موجودہ حکمران بھی معاشی عدم استحکام کی موجودہ صورتحال پر مکمل خاموش نظر آرہے ہیں۔ ان کی خاموشی معنی خیز ہے۔ نہ تو وہ قوم کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ڈالر کی اس اڑان کی کیا وجہ ہے اور نہ ہی وہ اس اڑان کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی اقدامات کر رہے ہیں۔ اب تو ملک میں یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ڈالر کی یہ اڑان مزید اوپر جائے گی۔ اس کو بریک نہیں لگے گی۔ میں حیران ہوں کہ ن لیگ ایک مکمل سیاسی جماعت ہے۔ وہ پاکستان میں سیاسی بالادستی کی جنگ لڑنے کا بھی نعرہ لگاتی ہے۔ وہ اسٹبلشمنٹ کو چیلنج کرنے کا بھی نعرہ لگاتی ہے۔ لیکن اس کے فیصلے حیران کن حد تک غیر سیاسی ہوتے ہیں۔

پہلے نواز شریف نے اپنے دور وزارت عظمیٰ میں ملک کا کوئی وزیر خارجہ مقرر نہیں کیا۔ یہ بات بھی قابل فہم نہیں ہے کہ کوئی سیاسی حکومت وزیر خارجہ کے بغیر حکومت کرے۔ پاکستان کی خارجہ محاذ پر ناکامیوں کی ایک وجہ یہ بھی قرار دی گئی کہ جس ملک میں کوئی وزیر خارجہ ہی نہ ہو اس کی کیا خارجہ پالیسی ہو گی۔ جب کہ جواب میں ن لیگ کے ذمے داران نجی محفلوں میں یہ کہتے تھے کہ جب تمام خارجی معاملات اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں تو وزیر خارجہ کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ منطق غلط تھی۔ کیونکہ آج اسی ن لیگ نے وزیر خارجہ مقرر کیا ہوا ہے اور وزیر خارجہ کام بھی کر رہا ہے۔ اسی طرح اب وزیر خزانہ مقرر نہ کرنا بھی منطق سے باہر ہے۔

موجودہ حکمران ملک کو بغیر وزیر خزانہ سے چلا کر نہ جانے ملک کی کونسی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اسحاق ڈار کے حوالہ سے ان پر ان کی قیادت کا دباؤ ہے۔ لیکن قیادت کا دباؤ ایک طرف ملک کا مفاد ایک طرف۔ جس طرح وزیر خارجہ نہ ہونے کا ملک کو نقصان ہوا۔ اسی طرح آج ملک میں وزیر خزانہ نہ ہونے کا بھی ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔ جس طرح نواز شریف کی یہ منطق کہ وہ خود وزارت خارجہ دیکھ رہے ہیں درست نہیں تھی اسی طرح موجودہ حکمرانوں کی یہ منطق کہ وہ خود وزارت خزانہ دیکھ رہے ہیں درست نہیں ہے، ملک کو ایک وزیر خزانہ کی ضرورت ہے۔ میرا حکومت وقت سے سوال ہے کہ کیا ڈالر کی اس اڑان اور روپے کی قدر میں کمی سے ملک کی ساکھ کو نقصان نہیں ہو رہا۔ کون اس کا جواب دے گا۔ تاہم میں سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ ن کی قیادت تو چاہتی ہو گی کہ ملک کی معاشی حالت خراب ہو جائے اور وہ یہ کہہ سکے کہ دیکھیں کہ ان کی نا اہلی کے بعد ملک معاشی طور پر سنبھل نہیں سکا، اگر ان کو نا اہل نہ کیا جاتا تو ایسا نہ ہوتا۔

میری ملک کے قومی اداروں سے دست بدستہ گزارش ہے کہ وہ ملک کی معاشی صورتحال کا خیال کریں۔ محفوظ فیصلوں کو جاری کریں۔ ابہام ختم کریں۔ مائنس ون سے معاملہ حل نہیں ہو گا بلکہ سب کو مائنس کرنا ہو گا۔ نواز شریف آؤٹ اور زرداری ان کیسے چل سکتا ہے۔ یہ تو نواز شریف کو جان بوجھ کر مظلوم بنانے والی بات ہے۔ عمران خان اور جہانگیر ترین کے محفوظ فیصلے بھی جلد جاری ہونے چاہیے۔ نیب کو بھی اپنی اسپیڈ تیز کرنی چاہیے۔ باقی ریفرنس بھی جلد آنے چاہیے تاکہ ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کا عمل عملی طور پر نظر آئے۔ ورنہ یہ نامکمل اسکرپٹ ملک کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں جان بوجھ کر ملک کے اداروں کو احتساب اور معیشت میں کھینچ رہا ہوں ان کا اس سے کیا تعلق ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ قومی اداروں کا عمل دخل ہے، وہ شریک عمل ہیں۔ جو اب تک ہوا ہے اس میں بھی وہ شریک ہیں اور جو آگے ہونا ہے اس سے بھی وہ بری الذمہ نہیں ہو سکتے ۔ اچھا ہو یا برا ہو وہ ذمے دار ہیں۔

اس حقیقت کے ادراک کی ضرورت ہے کہ معاشی عدم استحکام ناقابل قبول ہے۔ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اب ناقابل قبول ہو گیا۔ حکومت آج گئی کہ کل گئی سے معاملات نہیں چل سکتے۔ دھرنے جائز ہیں یا ناجائز سے معاملات نہیں چل سکتے۔ اگر اس حکومت کو چلانا ہے تو موجودہ حکمرانوں سے بھی بیٹھ کر بات کرنا ہو گی۔ انھیں سمجھانا ہو گا کہ ملک کی سوچیں۔ قیادت ملک سے اہم نہیں۔ اگر ٹیکنو کریٹ حکومت کا کوئی اسکرپٹ ہے تو یہ جن بھی اب بوتل سے باہر لے آئیں۔ اگر مائنس ون نہیں مائنس تھری کی بات درست ہے تو اس ابہام کو بھی ختم کریں اور اس پر جلد از جلد عمل کریں۔ اگر واقعی احتساب ہونا ہے تو اسپیڈ تیز کریں۔ ورنہ یہ ابہام ملک کے لیے زہر قاتل ثابت ہو رہا ہے۔ خدارا اس ملک سے ایسے نہ کھیلیں۔ شائد اب ہم اس کے متحمل ہی نہیں ہیں۔

مقبول خبریں