سیاسی کارکن اور تحریکیں
ایوب خان کا دور ملک میں صنعتی ترقی کے حوالے سے قابل تعریف دور کہا جاتا ہے
DUBAI:
سیاسی کارکن سیاسی جماعتوں کا سرمایہ اور ریڑھ کی ہڈی ہی نہیں بلکہ ملک کے اچھے یا برے مستقبل کا تعین کرنے والی طاقت بھی ہوتے ہیں ۔ سیاسی تحریکوں کی کامیابی یا ناکامی میں بھی سیاسی کارکنوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ملک ایک بار پھر سیاسی تحریکوں کی زد میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔ تحریک انصاف، طاہر القادری کی عوامی تحریک، علما و مشائخ کی تحریک کے علاوہ سابق وزیراعظم کی تحریک عدل کے اعلانات ہوچکے ہیں اور یہ پارٹیاں تحریکوں کی تیاری میں مصروف ہیں۔
منہاج القرآن کے رہنما طاہرالقادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے تحریک چلانے کے لیے اے پی سی بلائی ہے اور ہمارے اس کالم کی اشاعت تک اے پی سی کا اجلاس ہوچکا ہوگا۔ اے پی سی یعنی آل پارٹیزکانفرنس کسی بھی بڑی تحریک کی تیاری کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ بشرطیکہ اے پی سی میں شامل جماعتیں اس مقصد سے متفق ہوں جس کے حصول کے لیے اے پی سی بلائی جا رہی ہو۔ تحریکوں کے بنیادی مقاصد سے اتفاق کسی بھی اے پی سی کی کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن ریاستی جبر کا ایک ایسا مظاہرہ ہے جس کے ذمے داروں کا تعین ضروری ہے ہمارے ملک میں قانون اور انصاف کا نظام اس قدر سست رفتار ہے کہ مظلوموں کو انصاف کے حصول میں عمریں بتا دینی پڑتی ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو وقوع پذیر ہوئے اب 4 سال ہورہے ہیں لیکن اب تک یہی طے نہ ہوسکا کہ اس کے ذمے دار کون ہیں؟ ہمارے ملک میں اہم سانحات کی تحقیق کے حوالے سے کمیٹیاں اور کمیشن تو بنائے جاتے ہیں لیکن کمیشنوں کی رپورٹیں منظر عام پر اس لیے نہیں آتیں کہ بالا دست طبقات ان کی راہ میں دیوار بن کر حائل ہوجاتے ہیں۔ حمود الرحمن کمیشن کا حشر ہمارے سامنے ہے اسی طرح باقر نجفی رپورٹ کو بھی چار سال تک پوشیدہ رکھا گیا۔ شدید دباؤ کے بعد عدلیہ کے حکم پر باقر نجفی رپورٹ کو پبلک تو کردیا گیا ہے لیکن اس رپورٹ کے حوالے سے کوئی پیش رفت اس لیے ہوتی نظر نہیں آرہی کہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے ملوث ہونے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
2014 میں اسلام آباد کا دھرنوں کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا اس حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ اس دھرنے میں سیاسی کارکنوں نے جن میں جوان بوڑھے مرد عورتیں شامل تھے جس مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا اور موسم کی ستم ظریفیوں اور ناسازگار حالات کے باوجود کھلے آسمان تلے ڈٹے رہے۔ اس حوالے سے یہ دھرنا اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ اس دھرنے کی کامیابی یا ناکامی سے قطع نظر کارکنوں نے جس مستقل مزاجی اور پامردی کا مظاہرہ کیا اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ سیاسی کارکنوں کو جب اپنے مقاصد کے سچ اور برحق ہونے کا یقین ہوتا ہے تو وہ نہ صرف تحریکوں میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھاتے ہیں بلکہ جان کی قربانیاں بھی دے دیتے ہیں۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ماڈل ٹاؤن میں بوجوہ ریاستی مشینری کا ایسا بدترین استعمال کیا گیا کہ اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ 14 کارکن جاں بحق ہوئے اور سو سے زیادہ کارکن پولیس کی براہ راست اور بے رحمانہ فائرنگ سے شدید زخمی ہوگئے۔ اس سانحے کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی لازمی ہے لیکن قانون کے مطابق پہلے اس سانحے کے ذمے داروں کا تعین ہونا ضروری ہے۔ طاہر القادری وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر قانون پنجاب کو اس سانحے کا ذمے دار قرار دے رہے ہیں لیکن طاہر القادری کے کہنے سے کسی پر ذمے داری نہیں آتی بلکہ اس حوالے سے باقر نجفی کی رپورٹ کی روشنی میں قانون اور انصاف کے مطابق مجرموں کا تعین ہونا چاہیے۔
تحریک کوئی بھی ہو اس میں کارکنوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے اگر تحریک انصاف پر مبنی ہو تو پھر کارکن بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ اس حوالے سے میں یہاں اس مزدور تحریک کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو ایوب خان کے مظالم کے خلاف ٹریڈ یونین کارکنوں نے چلائی تھی۔ ایوب خان کا دور ملک میں صنعتی ترقی کے حوالے سے قابل تعریف دور کہا جاتا ہے اس صنعتی ترقی میں امریکا نے پاکستان کو جو بھاری مالی مدد دی اس کی شرط یہ تھی کہ ملک میں ٹریڈ یونین تحریک اور ترقی پسند کارکنوں کو سختی سے کچلا جائے۔ سو ایوب خان کی حکومت نے ریاستی طاقت کے ذریعے مزدوروں کو اس بری طرح کچلا کہ ملک کی جیلیں مزدور، کارکنوں سے بھر گئیں حتیٰ کہ بعض ملوں میں مالکان نے پرائیویٹ جیلیں تک بنادیں جہاں مالکان مزدوروں کو سزائیں دے کر بند کردیتے تھے۔
جب ایوب خان اپنے انجام کو پہنچے تو مظلوم مزدور مالکان سے حساب چکانے پر اتر آئے اور ملوں کارخانوں میں ان افسروں کو گلوں میں رسیاں ڈال کر گھسیٹنے لگے جو اپنے دور میں مزدوروں سے جانوروں جیسا سلوک کیا کرتے تھے ۔ ایوب خان کے دور میں پاٹے خان بن جانے والے مالکان کا ملوں کارخانوں میں کارکنوں نے داخلہ بند کردیا۔ مالکان مزدور یونینوں کے سربراہوں سے اجازت لے کر اپنی ملوں میں آتے تھے۔ ٹریڈ یونین کارکنوں میں اس قدر اتحاد تھا کہ وہ ہڑتال کی کوئی کال دیتے تو ہڑتال سو فیصد کامیاب ہوجاتی تھی۔ مالکان مزدوروں پر عشروں تک جو مظالم کرتے آئے تھے مزدور کارکنوں نے اس کا اس طرح بدلا لیا کہ مالکان اپنی جانیں بچاتے پھرتے تھے۔ کارکن خواہ سیاسی ہوں یا ٹریڈ یونین کارکن ہوں جب تحریک میں شامل ہوتے ہیں تو تحریکوں کو کامیابی سے کوئی نہیں روک سکتا۔
ہم نے ٹریڈ یونین کارکنوں کا حوالہ اس لیے دیا کہ ملک ایک بار پھر تحریکوں کی زد میں آتا دکھائی دے رہا ہے۔ تحریک انصاف، پاکستان عوامی تحریک (طاہر القادری) علما و مشائخ کی ختم نبوت کے حوالے سے تحریک، سندھ میں قوم پرستوں کے اتحاد سے سندھ کی پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف تحریک، اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طرف سے چلائی جانے والی تحریک عدل، غرض لگ رہا ہے کہ ملک شدید تحریکوں کی زد میں آنے والا ہے۔ تحریکوں کی کامیابی کا انحصار سیاسی کارکنوں کی مستقل مزاجی پر ہوتا ہے اور جب کارکنوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ جس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں وہ حق و صداقت پر مبنی ہے تو پھر وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے پر تیار ہوجاتے ہیں۔
کرپشن ہمارے ملک کا بدترین مسئلہ بن گئی ہے اور سیاسی کارکن سمیت عوام کرپشن کی براہ راست زد میں ہیں جو بھی کرپشن کے خلاف تحریک چلائے گا سیاسی کارکن دل و جان سے اس کا حصہ بنیں گے۔ ماڈل ٹاؤن کے سانحے میں 14 افراد کا قتل اور سیکڑوں کارکنوں کا زخمی ہونا ریاستی جبر کا ایک بدترین مظاہرہ ہے اور قادری صاحب سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے جو تحریک چلائے جا رہے ہیں اس میں سیاسی کارکنوں کی بھرپور شرکت کا امکان اس لیے ہے کہ پورا ملک اس ظلم کے خلاف ہے اور عوام چاہتے ہیں کہ اس ظلم کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی اور انصاف ہو اگر یہ تحریک اے پی سی کے ساتھ چلتی ہے تو دو آتشہ بن سکتی ہے۔ میاں نواز شریف تحریک عدل چلاتے جا رہے ہیں اگر ان کی یہ تحریک انصاف پر مبنی ہوئی تو بلاشبہ سیاسی کارکن اس کا حصہ بنیں گے۔ بہرحال 2018 کا سال تحریکوں لگ رہا ہے اللہ خیر کرے۔