نیتن یاہو کا دورہ بھارت

یہ میزبان یعنی بھارت جنوبی ایشیا میں وہی کردار ادا کر رہا ہے جو اسرائیل مشرق وسطیٰ میں ادا کر رہا ہے۔


Zaheer Akhter Bedari January 27, 2018
[email protected]

اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے پچھلے دنوں بھارت کا چھ روزہ دورہ کیا۔ نیتن یاہو کے روایتی رویے کے پیش نظر امید یہی کی جا رہی تھی کہ بھارتی دباؤ میں آکر نیتن یاہو اپنی تقریروں، اپنی پریس کانفرنسوں میں پاکستان کو ٹارگٹ بنائیں گے لیکن اس کے برخلاف نیتن یاہو نے پاکستان کے حوالے سے یہ شکایت بلکہ دوستانہ شکایت کی کہ ''ہم پاکستان کے دشمن نہیں، پاکستان ہم سے دشمن جیسا سلوک نہ کرے'' لیکن ساتھ ساتھ موصوف نے یہ بھی کہا کہ بھارت کو لائن آف کنٹرول پر ان دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے جن کو اقوام متحدہ دہشتگرد قرار دے چکی ہے۔ نیتن یاہو نے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ اقوام متحدہ ان کو دہشتگرد قرار دے چکی ہے۔

نیتن یاہو کے اس بیان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کا کس قدر احترام کرتے ہیں۔ دنیا کا ہر امن پسند ملک اقوام متحدہ کا احترام کرتا ہے اور یہ بہت اچھی روایت ہے لیکن اس تلخ حقیقت کو کس طرح چھپایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی عوام پر اسرائیل کی طرف سے ہونے والے مظالم کے خلاف بے شمار قراردادیں منظور کیں لیکن نیتن یاہو اور اس کے ملک نے اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کو ردی کے ٹکڑے سے زیادہ کبھی اہمیت نہ دی۔ اسرائیل 70 سال سے فلسطینی عوام پر ظلم کے جو پہاڑ توڑ رہا ہے۔

ساری دنیا سوائے امریکا اور اس کے حواریوں کے ان کی سخت مذمت کر رہی ہے، لیکن نیتن یاہوکے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی۔ اسرائیل بھارت کا بہت بڑا ہتھیار سپلائر ہے اور جو ہتھیار وہ بھارت کو دے رہا ہے، ان سے اس علاقے میں ایک طرف طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے تو دوسری طرف پاکستانی عوام میں اسرائیل کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔

اسرائیل مشرق وسطیٰ میں ہمیشہ امریکا کے دلال کا رول ادا کرتا رہا۔ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں ایک چھوٹے سے جزیرے کی حیثیت رکھتا ہے لیکن سامراجی ملکوں نے اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے اسے خطے میں منی سپر پاور بنا کر رکھا ہے۔ اسرائیل عرب ملکوں کا قریبی پڑوسی ہے اور اس حوالے سے اس کی ذمے داری اور ضرورت ہے کہ وہ عربوں سے اپنے دوستانہ تعلقات استوارکرے لیکن وہ 70 سال سے خطے میں عربوں کے بدترین حریف کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسرائیل کا ماننا ہے کہ اسے عربوں سے خطرہ لاحق ہے اور اسرائیل کی سلامتی عرب ملکوں کے ہجوم میں غیر محفوظ ہوگئی ہے۔

یہ عذر اور تاویل سرے سے اس لیے پرفریب ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں ایک چھوٹے سے جزیرے کی حیثیت رکھنے کے باوجود پورے عرب ملکوں پر چھایا ہوا ہے اور اسے اس طاقتور پوزیشن میں امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اس لیے لاکھڑا کیا ہے کہ وہ عربوں کے تیل کے ذخائر پر سانپ کی خدمات انجام دے رہا ہے۔

ہٹلر یہودیوں سے بہت متنفر تھا اس نے انھیں دربدر کردیا تھا یہودیوں کی اسی مظلومیت سے متاثر ہوکر مغربی ملکوں خاص طور پر برطانیہ نے انھیں ان کا وطن اسرائیل دلانے یا بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہودیوں کی بے وطنی بلاشبہ ہمدردی کی متقاضی تھی لیکن اسرائیل نے اپنا وطن حاصل کرکے جس طرح فلسطینیوں کو بے وطن اور دربدر کیا یہ جدید دنیا کا ایسا ظلم تھا جس کی مثال نہیں ملتی۔ لاکھوں فلسطینی ہلاک ہوئے لاکھوں دربدر ہوئے اس کی ساری ذمے داری اسرائیل پر آتی ہے۔ اس ظلم کے علاوہ اسرائیل آئے دن فلسطینیوں کا جو قتل عام کر رہا ہے اس کی وجہ ایک پرامن مشرق وسطیٰ کا خواب، خواب ہی رہے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم جس کے مہمان تھے بدقسمتی سے یہ میزبان یعنی بھارت جنوبی ایشیا میں وہی کردار ادا کر رہا ہے جو اسرائیل مشرق وسطیٰ میں ادا کر رہا ہے۔ بھارت ایک جمہوری ملک ہے بلکہ اسے یہ دعویٰ بھی ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور یہ دعویٰ غلط بھی نہیں ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ دنیا کی یہ سب سے بڑی جمہوریت کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دینے کے لیے تیار نہیں اس کے برخلاف حق خودارادی مانگنے والے کشمیریوں کا اسی طرح قتل عام کر رہا ہے جس طرح اسرائیل فلسطینیوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ کشمیر میں اب تک 70 ہزار سے زیادہ کشمیری قتل کیے جاچکے ہیں اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے لیے تیار نہیں۔ اسرائیل فلسطینیوں کو ان کا وطن دینے کے لیے تیار نہیں بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ جنوبی ایشیا کے عوام پسماندگی کے شکار ہیں اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی وجہ مشرق وسطیٰ کا امن تباہ ہو رہا ہے۔

آج ساری دنیا دہشتگردی اور مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سخت عذاب میں مبتلا ہے، دنیا کے بڑے ملک مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی سے سخت خائف ہیں اور اسے ختم کرنے کے لیے طرح طرح کے نسخے استعمال کر رہے ہیں لیکن کوئی اس حقیقت پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں کہ مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کے آغاز کی بنیادی وجہ کشمیر اور فلسطین ہیں۔ امریکا زبانی کلامی فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستوں کا فارمولا پیش کرتا ہے لیکن اسرائیل اس فارمولے کو پائے حقارت سے ٹھکرا رہا ہے۔

بھارت 70 سال سے کشمیریوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ یہ حمایت اپنی آٹھ لاکھ فوج کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس حقیقت کو فراموش کر رہا ہے کہ عوام کی حمایت فوجی طاقت کے ذریعے کبھی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ اسرائیلی اور بھارتی حکمران طبقات کو اپنے اپنے قومی مفادات کا خیال ہے لیکن اپنی اس احمقانہ پالیسیوں کی وجہ دونوں ملکوں نے اپنے اپنے خطوں کو ایٹمی جنگوں کے خطرات میں مبتلا کردیا ہے۔

ایران اسرائیل کا سب سے بڑا حریف ہے وہ اسرائیل کی ایٹمی طاقت سے تحفظ کے لیے خود ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور امریکا اور اس کے اتحادی کسی قیمت پر ایران کو ایٹمی ملک بننے نہیں دینا چاہتے۔ اس حوالے سے امریکا عشروں سے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں پر عملدرآمد کر رہا ہے کیونکہ اس کو ڈر ہے کہ ایران اسرائیل کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا۔ کیا یہی خوف ایران کو لاحق نہیں ہے؟ اگر ہے تو پھر امریکا اسرائیل کو غیر ایٹمی ملک بناکر مشرق وسطیٰ کو ایٹمی خطرات سے پاک علاقہ کیوں نہیں بنا دیتا؟

روایتی ہتھیاروں میں بھارت پاکستان پر سبقت رکھتا ہے لیکن پاکستان نے ایٹمی ہتھیار بناکر طاقت کے توازن کو بیلنس کردیا ہے لیکن ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا خطرات سے دوچار ہیں ان خطرات سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کوکشمیریوں اور فلسطینیوں کی مرضی کے مطابق حل کیا جائے۔ کیا دونوں ملکوں کی عاقبت نااندیش قیادت اس مثبت پہلو پر غور کرے گی؟

مقبول خبریں