سیاسی نظر بندی
یہ مڈل کلاس پر مشتمل سیکنڈری قیادت اپنے سربراہ کے گناہوں، بداعمالیوں کا نہ صرف دفاع کرتی ہے۔
پاکستان میں جمہوریت خاندانی بادشاہت میں کیوں بدل گئی ہے اور کیوں یہ کلچر مستحکم ہو رہا ہے؟ اس کے اسباب کا جائزہ لیے بغیر اس کلچر کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اس حوالے سے سب سے پہلے اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوری معاشروں میں حکمرانوں کی اور عوام کی حیثیت کیا ہوتی ہے۔ حکمران خواہ وہ وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو جمہوری نظام میں عوام کا ملازم ہوتا ہے۔
اس کی دو بنیادی وجوہات ہوتی ہیں ایک یہ کہ وزرا ہوں یا وزیراعظم، یہ سب عوام کے ووٹ، عوام کی مرضی سے ان عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، اگر عوام ووٹ نہ دیں تو کوئی شخص نہ ایم پی اے یعنی صوبائی اسمبلی کا ممبر بن سکتا ہے، نہ قومی اسمبلی کا۔ جب کوئی شخص عوام کے ووٹ سے قانون ساز اداروں کا ممبر بنتا ہے تو پھر وہ جماعت جو اکثریت حاصل کرلیتی ہے یا جسے عوام کی سب سے زیادہ حمایت حاصل ہوتی ہے اسے حکومت بنانے کا حق حاصل ہوجاتا ہے یعنی عملاً حکومت عوام کی حمایت یعنی عوام کے ووٹ ہی کے ذریعے وجود میں آتی ہے حکومت خاندانی نہیں ہوتی۔
جمہوری اصولوں کے مطابق اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنا وزیراعظم منتخب کرے۔ جمہوری اصولوں کے مطابق منتخب ارکان وزیراعظم اس شخص کو منتخب کرتے ہیں جو اہلیت کے حوالے سے دوسرے منتخب ارکان میں سب سے زیادہ اہل ہو یعنی ملکی اور بین الاقوامی حالات اور مسائل کا اسے ادراک ہو اور وہ ان کو ہینڈل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اسے ان عوام کے مسائل کا ادراک ہو جنھوں نے اس کی جماعت کو اکثریت دلا کر حکومت بنانے کا اہل بنایا ہے اور وہ عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یعنی قائد ایوان کا انتخاب میرٹ پر ہو۔
اس تناظر میں اگر ہم اپنے حکمرانوں کا جائزہ لیں تو ان کے انتخاب میں میرٹ کا دور دور تک پتا نہیں چلتا۔ اس کے برعکس صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں کوئی وزیر اعظم میرٹ پر اس عہدے پر فائز نہیں ہوا بلکہ دولت اور خاندانی وجاہت ہی وزرائے اعظموں کے انتخاب میں بنیادی کردار ادا کرتے رہے۔ اس حوالے سے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حکمرانوں کا پورا ''ٹبر'' یعنی خاندان کسی نہ کسی حوالے سے حکومت کا حصہ رہا۔
اور بدقسمتی یہ ہے کہ عوام نے جنھیں اپنے مسائل حل کرنے، انھیں ایک آسودہ زندگی فراہم کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اپنے ووٹوں سے منتخب کیا وہ عوام کو اور عوام کے مسائل کو نظرانداز کرکے دولت کے حصول میں اس طرح جت گئے کہ عوام اور عوامی مسائل پس پشت چلے گئے اور حکمرانوں کی پہلی ترجیح کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کا حصول بن گئی۔
پاکستان کو ایک جمہوری ملک کہا جاتا ہے لیکن عملاً صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں خاندانی بادشاہت کا رواج جڑیں پکڑ چکا ہے۔ چونکہ اقتدار کی کرسی تک پہنچنے کے لیے سیاسی جماعت کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ سو ہماری سیاسی اشرافیہ نے اقتدار میں لانے والی جماعت ہی پر قبضہ کرلیا۔ یوں سیاسی جماعتیں اشرافیہ کی میراث بن گئیں اور سیاسی جماعتوں کے اکابرین حکمرانوں کے غلام بن کر رہ گئے۔ یہ سلسلہ صرف برسر اقتدار جماعت تک محدود نہیں بلکہ ساری اشرافیائی سیاسی جماعتوں پر چند خاندانوں کا قبضہ ہے۔ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ جماعتی انتخاب میں ایک ہی خاندان کے لوگ جماعتوں کے سربراہ منتخب ہوجاتے ہیں۔
یہ ڈرامہ کسی ایک جماعت تک محدود نہیں ہے بلکہ ساری اشرافیائی جماعتوں تک پھیلا ہوا ہے اس کلچر کے استحکام کا نتیجہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ بے خوف ہوکر قومی دولت کی لوٹ مار میں لگا ہوا ہے اور یہ صورتحال صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ اس فرق کے ساتھ تمام جمہوری ملکوں تک پھیلی ہوئی ہے کہ ان ملکوں میں خاندانی بادشاہتیں نہیں ہیں پاناما لیکس نے دنیا بھر کی لٹیری اشرافیہ کی لوٹ مار کی تفصیلات دنیا کے عوام کے سامنے پیش کرکے سرمایہ دارانہ جمہوریت کو برہنہ کردیا ہے۔
ترقی یافتہ ملکوں کے لٹیرے حکمرانوں میں اتنی غیرت تو تھی کہ انھوں نے اپنے نام پاناما لیکس کی فہرست میں دیکھ کر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیے لیکن ہمارے ملک کی اشرافیہ کی ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ وہ اربوں کی لوٹ مار کے الزامات کا بوجھ سر پر لاد کر بھی نہ اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے رہے ہیں نہ لوٹی ہوئی دولت سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں۔
جمہوری سیاسی پارٹیوں کا کلچر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ارکان اپنی جماعت کے سب سے زیادہ سینئر تجربہ کار اور اہل رکن کو جماعت کا سربراہ چنتے ہیں لیکن ہماری شاہانہ جمہوریت کا عالم یہ ہے کہ نوعمر ناتجربہ کار نااہل نوجوانوں کو پارٹیوں کا سربراہ اس لیے چن لیتے ہیں کہ ان کا رشتہ جمہوری بادشاہوں سے بیٹے بیٹی کا ہوتا اور اس حوالے سے شرمناک صورتحال یہ ہے کہ پارٹیوں میں کام کرتے کرتے اور پارٹیوں کے لیے قربانیاں دیتے دیتے اپنے بال سفید کرلینے والے سینئر رہنما نوعمر ناتجربہ کار سربراہ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں۔
یہ سارا سلسلہ اس لیے 70 سال سے جاری ہے کہ ہمارے عوام اپنی حیثیت اپنی طاقت سے ناواقف ہیں۔ دنیا کے جمہوری ملکوں میں پارلیمانی لیڈر کھلے اور آزادانہ انتخابات کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں اور منتخب کرنے والے غلام نہیں آزاد ہوتے ہیں۔ اور پارلیمانی پارٹیوں کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ اگر ان کا منتخب کیا ہوا لیڈر نااہل ثابت ہوتا ہے تو اسے ہٹا کر اہل لیڈر کو آگے لایا جاتا ہے کسی لیڈر کو یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ خاندان کے حوالے سے عہدوں پر چمٹا رہے۔
شاہانہ جمہوریت میں عوام کو نفسیاتی طور پر احساس کمتری میں مبتلا کرنے کے لیے حکمران ماضی کے بادشاہوں سے زیادہ طمطراق کے ساتھ باہر نکلتے ہیں سرکاری اسکواڈ کے ساتھ ساتھ پچاسوں قیمتی گاڑیاں ان کے شاہی جلوس میں شامل ہوتی ہیں اس شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام نفسیاتی طور پر احساس کمتری کا شکار ہیں اور ان کے ذہنوں میں کوئی باغیانہ خیال نہ آئے۔
اس خاندانی جمہوریت کو مضبوط کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ اس دوسرے درجے کی قیادت کا ہوتا ہے جس کا تعلق عموماً مڈل کلاس سے ہوتا ہے یہ مڈل کلاس پر مشتمل سیکنڈری قیادت اپنے سربراہ کے گناہوں، بداعمالیوں کا نہ صرف دفاع کرتی ہے بلکہ میڈیا میں اس کی وکیل بن کر اس کے جرائم کا اس طرح دفاع کرتی ہے جیسے واقعی اپنا لیڈر بے گناہ اور فرشتہ ہے مڈل کلاس کی اس چاپلوسی ہی کی وجہ لیڈر اعظم کی ساری بدعنوانیاں عوام کی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہیں اور لیڈر فرشتہ بن جاتا ہے اس سیاسی نظر بندی کا کھیل 70 سال سے جاری ہے۔