یوم ارض اور انسان
ہماری نفسیات کا عالم یہ ہے کہ حقائق کو تصورات کے تابع رکھنا چاہتے ہیں۔
THE HAGUE:
دنیا میں آئے دن کوئی نہ کوئی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے ابھی پچھلے ہفتے یوم ارض منایا گیا یوم ارض منانے کا مقصد کرہ ارض کی اہمیت اور افادیت سے عوام کو آگاہ کرنا تھا۔ کرہ ارض کے حوالے سے جو دن منایا جاتا ہے اس دن کو سرسری انداز میں منایا جاتا ہے جب کہ کرہ ارض کا پس منظر اس قدر اہم ہے کہ اس کا گہرائی سے اور تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
کرہ ارض یعنی ہماری دنیا ہمارے نظام شمسی کا ایک سیارہ ہے کرہ ارض مریخ مشتری زحل وغیرہ سے چھوٹا سیارہ ہے یہ چھوٹا سا سیارہ کئی براعظموں اور بحر اعظموں میں بٹا ہوا ہے کرہ ارض کا تین چوتھائی حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے صرف ایک چوتھائی پر 7 بر اعظم موجود ہیں جن میں ایشیا جیسا بڑا براعظم بھی شامل ہے جس میں دنیا کے دو بڑے ملک چین اور بھارت شامل ہیں۔ جن کی رقباتی طوالت سے کرہ ارض کی وسعتوں کا اندازہ ہوجاتا ہے کرہ ارض کے 1/4 حصے پر دنیا کے سیکڑوں ملک آباد ہیں۔
ہر ملک کی اپنی زبان اپنا کلچر ہے اس طرح دنیا مختلف نسلوں، قوموں، ملکوں میں بٹی ہوئی ہے۔ سات بر اعظموں کی وسعت کے پس منظر میں اگر ہم بحر اعظموں کی وسعت کا جائزہ لیں جو کرہ ارض کے تین چوتھائی حصے پر محیط ہے تو پانی اور سمندروں کی وسعت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
سائنس کی ترقی سے بلاشبہ عقائد و نظریات متاثر ہوتے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تضادات کو منفی انداز میں دیکھنے کے بجائے انھیں مثبت انداز میں دیکھا جائے اور ان تضادات کو انسانوں کی مجموعی بھلائی کے حوالوں سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔
عقائدی دنیا میں کرہ ارض کے وجود میں آئے مختلف تاویلیں پیش کی جاتی ہیں بعض کم عقل لوگ اس مسئلے کو خواہ مخواہ متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ وہ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ ہر دور کے عقائد و نظریات اس دور کے علم اور معلومات کے مطابق ہوتے ہیں۔
ہماری نفسیات کا عالم یہ ہے کہ حقائق کو تصورات کے تابع رکھنا چاہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم ذہنی پسماندگی کے دلدل میں پھنسے رہتے ہیں، آج کی دنیا سائنس ٹیکنالوجی، آئی ٹی تحقیق و ریاضت کی دنیا ہے جو قومیں سائنس ٹیکنالوجی تحقیق و ریاضت کو ٹھکرا کر تصوراتی دنیا میں کھوئی رہتی ہیں وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حکمران طبقات کے مقاصد مختلف ہوتے ہیں مثلاً مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں کے حکمراں طبقات اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود اپنے ملکوں کو سائنس ٹیکنالوجی تحقیق و ریاضت کی راہ پر لے جا رہے ہیں جب کہ پسماندہ ملکوں کے حکمران طبقات کی ترجیحات میں سائنس ٹیکنالوجی تحقیق و ریاضت شامل ہی نہیں کیونکہ ان کی پہلی اور آخری ترجیح اقتدار سے چپکے رہنا اور اربوں روپوں کی لوٹ مار ہے اس اشرافیائی ذہنیت کی وجہ پسماندہ ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے سائنس ٹیکنالوجی تحقیق و ریاضت کے شعبوں میں پاتال میں کھڑے ہیں۔
ارضی سائنسدانوں کے مطابق ہماری دنیا یعنی کرہ ارض کو وجود میں آئے ہوئے چار ارب سال ہو رہے ہیں اور اگر کوئی کائناتی حادثہ نہ ہو تو ہماری دنیا یعنی کرہ ارض ابھی تین ارب سال زندہ رہ سکتا ہے۔ کیا ہمارے عوام ان حقائق سے آگاہ ہیں؟
ہماری معلوم تاریخ مشکل سے دس پندرہ ہزار پر مشتمل ہے اسی مختصر تاریخ میں کئی نظریات کئی عقائد متعارف ہوئے لیکن انسان اپنی کم علمی کی وجہ انھی میدانوں میں شہسواری کرتا رہا ہے جب کہ تازہ تحقیق کے مطابق انسان کی جو باقیات دریافت ہوئی ہیں وہ ساڑھے تین ارب سال پرانی ہیں یعنی کرہ ارض پر انسان ساڑھے تین ارب سال پہلے موجود تھا جس کا مطلب یہ ہوا کہ کرہ ارض کے وجود میں آنے کے پچاس کروڑ سال بعد انسان کرہ ارض پر موجود تھا۔
اس طویل دورانیے میں جانے کتنے کروڑ تہذیبیں وجود میں آئیں اور مٹ گئیں۔ انسان اپنی تمام تر ترقی کے باوجود دو چار ہزار سال کے دوران جنم لینے والی تہذیبوں عقائد و نظریات سے ہی واقف ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس معلوم تاریخ کے اندر کوئی ایسی تہذیب کوئی ایسا نظام موجود رہا ہے جو سماجی اور معاشی انصاف بین المذاہب یکجہتی جنگوں اور نفرتوں سے پاک رہا ہو؟
آج کرہ ارض درجہ حرارت میں مستقل اضافے کی وجہ ایک بار پھر تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ ماضی بعید میں بھی درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے سمندروں کی سطح اس قدر بلند ہوگئی کہ ہمالیہ پانی میں ڈوب گیا کیا ایک بار دنیا پھر خاتمے کی طرف جا رہی ہے؟ چند ہزار سال پہلے زیر زمین جانے والی بستیوں کے بارے میں ہمیں صرف آثار قدیمہ کا علم ہے یہ بستیاں کیسے زیر زمین گئیں ان بستیوں میں رہنے والوں کا نظام زندگی کیا تھا؟عقائد و نظریات کیا تھے معاشی اور معاشرتی نظام کی ہیئت کیا تھی اس کے بارے میں ہماری معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
4 ارب سال کے دوران کتنے لاکھ بار دنیا ابھری اور دوبارہ آباد ہوئی اس کا صحیح علم تو کسی کو نہیں لیکن عقل اور امکانات یہی بتاتے ہیں کہ قدرت کا یہ کھیل اربوں سال سے جاری ہے۔ ارضی سائنسدانوں کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کی یہی رفتار رہی تو اس صدی کے آخر تک بیشتر ساحلی شہر سمندر برد ہوجائیں گے۔ کیا ہمارے حکمران طبقات اس حوالے سے سوچنے کی کبھی زحمت کرتے ہیں کیا انسانوں کو اس شرمناک حقیقت کا احساس ہے کہ دنیا کے 7 ارب انسانوں میں سے 80 فیصد لوگ دو وقت کی روٹی سے محتاج ہیں۔
کیا ان انسانوں کو یہ احساس ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف حوالوں سے جو خون خرابا ہو رہا ہے اس میں ہزاروں نہیں لاکھوں انسان مارے جاچکے ہیں اور مارے جا رہے ہیں کسی ملک کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جا رہا ہے کسی کو ایٹمی ہتھیار بنانے اور ذخیرہ کرنے کی آزادی ہے۔ کیا آج کے یہ ترقی یافتہ انسان نما حیوان 1945 میں دو معمولی قوت کے ایٹم بموں سے ہونے والی تباہی سے واقف نہیں؟
یہ ساری تباہیاں یہ ساری بربادیاں انسانوں کی تقسیم کا نتیجہ ہیں، رنگ نسل زبان مذہب و ملت کے حوالے سے کرہ ارض پر موجود انسان ایک دوسرے سے نفرت کرتا ہے ایک دوسرے کی تباہی کے در پے ہے۔ بلاشبہ دنیا کا انسان مختلف حوالوں سے تقسیم ہے اور ایک دوسرے کو تباہ کر رہا ہے کیا انسان اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ دنیا ہر انسان اولاد آدم ہے اس طرح ایک دوسرے کا بھائی ہے۔