فرش نشیں … گرتے نہیں
ہماری ایک بنیادی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی.
عمران خان کی صحت یابی پر قوم شکر گزاری کی کیفیت میں ہے، ان کے اسپتال کے باہر پھولوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور ڈاکٹر ان کی جلد صحت یابی کی خبر سنا رہے ہیں۔
ادھر کچھ عرصے سے مسلسل یہ خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض سرکردہ لیڈروں کو خطرہ ہے چنانچہ جب عمران خان کے پندرہ بیس فٹ کی اونچائی سے گرنے اور زخمی ہونے کی خبر ملی تو گویا خدشات کی تصدیق ہو گئی۔ غیر معمولی دہشت گردی کی وجہ سے قوم کی نفسیات بری طرح متاثر تھیں، عمران کے واقعے نے یوں کہیں کہ جلتی پر تیل کا کام کیا۔ یہ سلسلہ چل رہا ہے اور کوئی ایک دن بعد ہونے والے الیکشن سے بھاگنے کی کوشش ہو رہی ہے، یہ کوئی نہیں سوچ رہا کہ یہ الیکشن ایک معمول کے الیکشن نہیں ہیں، ملک کی بقا کے الیکشن ہیں۔
عمران کی صحت یابی نے قوم کو سکون کا گہرا سانس لینے کا موقع دیا ہے۔ عمران خان کوئی بیس فٹ اونچے چبوترے سے نیچے گر گئے۔ جسے اللہ رکھے والی بات ہوئی اس موقع پر مجھے حضرت علیؓ کی ایک بات یاد آئی۔ امیر المومنین وقت کے سب سے بڑے بادشاہ فرش پر کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ لوگ ملاقات کے لیے آ جا رہے تھے، ایک پردیسی آیا اور ایک جیسے فرش پر بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے امیر المومنین کو نہ پہچان سکا، اس نے کسی سے پوچھا اور پھر سلام کے لیے آگے بڑھا اور عرض کیا کہ اگر آپ ذرا اونچی جگہ پر بیٹھ جائیں تو ملنے والوں کو آپ کے پہچاننے میں آسانی ہو۔
علم و دانش کے اس کوہ گراں نے جواب دیا جو 'فرش پر بیٹھتے ہیں وہ گرتے نہیں ہیں'۔ آج کے سیاسی تقاضوں کے مطابق شاید نمایاں ہو کر بیٹھنا پڑتا ہے لیکن اسلامی حکومت کے سربراہ کو دوسروں کے برابر بیٹھنا اچھا لگتا ہے یہاں محمود و ایاز ایک ہی صف میں بیٹھتے یا کھڑے ہوتے ہیں۔ سیاسی مجبوریاں اپنی جگہ اہم ہیں خصوصاً الیکشن ایسے موقع پر لیکن الیکشن میں عوام کی قربت کو ہم خود ہی ضایع کر دیتے ہیں۔ جب آپ عوام سے دور رہیں گے تو آپ کی ضرورت کے وقت وہ بھی آپ سے دور رہیں گے اور آپ جب علی الاعلان عوام کی ہمدردیاں خریدنا چاہیں گے تو یہ الیکشن تو نہیں ایک کاروباری خرید و فروخت کا ادارہ بن جائے گا جو بھی ہو اب وقت گزر گیا اور عمل اور امتحان کا وقت آگیا۔ آج الیکشن ہیں۔
قارئین نے ہجوم کر دیا ہے کہ وہ ووٹ کس کو دیں بحث کی گنجائش نہیں ہوتی یہی عرض کیا جاتا ہے کہ آپ کا ضمیر جس امید وار یا جماعت پر مطمئن ہے آپ اس پر اپنے اعتماد کا اظہار کر دیں لیکن یہ نہ بھولیں گے کہ یہ الیکشن پاکستان کے الیکشن ہیں اس کے مستقبل کے الیکشن ہیں، کسی نرمی اور سستی کی گنجائش نہیں ہے۔ میں خود جس امیدوار کے نام پر مہر لگائوں گا وہ میں نے طے کر لیا ہے اگر میرے حلقے میں اس جماعت کا کوئی امیدوار ہوا تو میرا ووٹ اس کی خدمت میں حاضر ہے۔ ویسے ڈاکٹر قدیر خان جس کی مدد کر رہے ہوں گے وہ بھی میرا امیدوار ہے۔
میں دوسری بعض جماعتوں کو بھی بے حد محب وطن سمجھتا ہوں اور وہ بھی پاکستان کی فلاح اور سلامتی کے لیے جان لگائیں گی لیکن ووٹ ایک ہے وہ سب کو نہیں دیا جا سکتا۔ جس جماعت کے لیڈروں اور ووٹروں کو پاکستان میں زندگی بسر کرنی ہے وہ اس ملک کے ساتھ بے وفائی کیسے کر سکتے ہیں۔ اگرچہ میر صادق اور جعفر بھی ہماری ایک روایت ہیں لیکن ہم اس روایت سے نفرت بھی کرتے ہیں۔ بے خبری اور لاعلمی میں تو مارے جا سکتے ہیں لیکن جان بوجھ کر کسی غدار کا ساتھ نہیں دے سکتے جس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور ہمیں اپنے کھلے دشمن بھارت کے بارے میں نرم رویہ رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی کرنی ہے۔ آج کے یہی نرم رویے بعد میں رُلا بھی سکتے ہیں۔ یہ نفسیاتی بات ہماری سمجھ میں کیوں نہیں آتی کہ دشمن ہوتا ہے تو آپ اپنی طاقتوری کی کوشش کرتے ہیں ورنہ سست ہو جاتے ہیں۔ شاعر سیف الدین سیف نے غیر مسلموں کے چلے جانے پر کہا تھا کہ
وہ کیا گئے کہ کشمکش زندگی گئی
دشمن گئے کہ دوست ہمارے چلے گئے
ہماری ایک بنیادی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی بہر کیف یہ باتیں تو بعد میں ہوں گی اور ہوتی رہیں گی اب نہا دھو کر کلف والے کپڑے پہن کر ووٹروں کی قطار میں لگ جائیے اور جب ایک بند کمرے میں تن تنہا بیٹھ کر اور ووٹ کی پرچی سامنے رکھ کراس پر مہر لگانے کا فیصلہ کریں تو اسے اپنے مقدر پر مہر لگانے کے برابر سمجھیں۔ اس ملک کا مقدر آپ کا ہمارا ہم سب کا مقدر ہے۔ خدا ہم سب کو نہ صرف سلامت رکھے بلکہ ایسے کئی موقع بھی دے کہ ہم بار بار اس قومی شناخت کے موقع سے سرشار ہوں۔
ہم سب کو معلوم ہے کہ ہمارا ملک خطرے میں ہے اور ہمارے دشمنوں نے پوری کوشش کی ہے کہ پاکستان میں الیکشن نہ ہوں تا کہ یہ ملک ایک باقاعدہ باضابطہ ملک نہ بن سکے صرف آمریت کا محتاج رہے اگرچہ ہم نے آمریت کے بہت چرکے کھائے ہیں لیکن بالآخر واپس لوٹ آئے ہیں یہ ملک جمہوری تھا اور جمہوری رہے گا، اسی میں اس کی بقا ہے ان میں کامیاب پاکستانیوں کو پیشگی مبارک باد جو اپنے ہموطنوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔