اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے طلبا میں بھی طبقاتی تفریق کا انکشاف

کیمبرج امتحانات میں ’’کراچی گرامر اسکول‘‘اور’’سینٹ مائیکل اسکول‘‘کے امتحانی مرکز ان ہی کے اسکولوں میں بنادیے گئے


Safdar Rizvi June 06, 2013
کیمبرج امتحانات میں ’’کراچی گرامر اسکول‘‘اور’’سینٹ مائیکل اسکول‘‘کے امتحانی مرکز ان ہی کے اسکولوں میں بنادیے گئے فوٹو: فائل

کراچی میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ وطالبات اوران کے تعلیمی اداروں میں بھی طبقاتی تفریق کا حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے اوربرٹش کونسل کے تحت حال ہی میں منعقدہ '' اے اور اولیول '' کے امتحانات کے دوران کراچی کے بااثر ترین نجی اسکولوں کے طلبا کے لیے امتحانی مرکز ان ہی کے اسکولوں میں ''ہوم سینٹر''کے طور پر بنایا جاتا ہے۔

برٹش کونسل نے اقربا پروری کی مثال قائم کرتے ہوئے ''کراچی گرامر اسکول''اور''سینٹ مائیکل اسکول'' کا امتحانی مرکز''ہوم سینٹر''کے طور پر ان ہی اسکولوں میں قائم کردیا، دونوں اسکولوں کے طلبا کے امتحانی مراکز اس لیے دوسرے اسکولوں یا ایکسپوسینٹرکراچی میں قائم نہیں کیے کہ مذکورہ اسکول کے طلبا امتحان دینے کے لیے شہرکے حالات کے پیش نظر دوسرے اسکولوں یا ایکسپوسینٹرجانانہیں چاہتے تھے اورنہ ہی ان کے والدین انھیں دیگراسکولوں میں بھیجنے کوتیارتھے،ماضی میں بھی کراچی گرامر میں زیرتعلیم طلباکے والدین کی یہ خواہش رہی ہے کہ ان کے بچوںکو امتحان دینے کے لیے بھی کسی اور مقام پر نہ جانا پڑے جس کے باعث ان کی سہولت کے لیے کراچی گرامر میں ہی ان کا امتحانی مرکز قائم کردیا جا تا ہے، او لیول کے امتحانات کے حوالے سے کسی ملک میں ایسی کوئی مثال موجود ہے یا نہیں اس بارے میں کافی تحقیق کے بعد بھی معلومات سامنے نہیں آسکیں۔



اس کے برعکس کراچی کے دیگر نجی اسکولوں کے طلبہ وطالبات اے اوراولیول کے امتحان دینے کیلیے دیگر اسکولوں اور ایکسپوسینٹر میں پہنچے،واضح رہے کہ میرٹ کے برخلاف مذکورہ اقدام برٹش کونسل کی نئی انتظامیہ کے دورمیں سامنے آیا گزشتہ امتحانات کے بعد برٹش کونسل کی ڈائریکٹر سندھ بلوچستان اورکنٹرولرآف ایگزامینیشن کوتبدیل کردیا گیا تھا اور سابق ڈائریکٹرمشہود رضوی اور سابق کنٹرولرعاصم خان تھے،ڈائریکٹرکے طور پر باربراوکھم اورکنٹرولرآف ایگزامینیشن کے طور پر ناصربھٹی کے دورمیں اے اور اول لیول کا یہ پہلا امتحان تھا، ''ایکسپریس'' نے اس معاملے پر برٹش کونسل کے موجودہ کنٹرولرآف ایگزامینیشن ناصر بھٹی سے بھی رابطہ کیا تاہم انھوں نے اس حوالے سے اپنا موقف دینے سے یہ کہتے ہوئے انکارکردیا کہ اس وقت وہ ''ری ایگزامینیشن''کے سلسلے میں بے حدمصروف ہیں لہٰذا اس معاملے پرفوری کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے، خبرکی اشاعت سے قبل رات کو ایک بار پھر رابطہ کیا تاہم وہ بات چیت سے گریز کرتے رہے۔

مقبول خبریں