اے اوراو لیول کے پرچے دوبارہ لینے پرمحکمہ تعلیم کے تحفظات

پرچوں کا آئوٹ ہونا برٹش کونسل کی انتظامیہ اور امتحانی عملے کی بدانتظامی کی دلیل ہے، فیصلہ مضحکہ خیز ہے


Safdar Rizvi June 08, 2013
ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ منسوب حسین صدیقی نے ڈائریکٹر برٹش کونسل کو ایک خط جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امتحانی پرچوں کی سیکیورٹی مکمل طور پر برٹش کونسل کی ذمے داری ہے۔ فوٹو: فائل

صوبائی محکمہ تعلیم نے کیمبرج ایگزامنیشن بورڈ کی جانب سے کراچی سمیت پاکستان بھر میں '' اے اور اولیول '' کے آؤٹ ہونے والے اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے پرچے دوبارہ لینے کے فیصلے پرکڑی تنقید اور سخت تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی تجویز پیش کردی۔

محکمہ تعلیم نے فیصلے پر عملدرآمدکو او لیول کے طلبا کے لیے ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کیمبرج ایگزامنیشن بورڈ اوربرٹش کونسل کو اس حوالے سے اپنی روش تبدیل کرنے اور برٹش کونسل کے موجودہ عملے کی موجودگی میں2 پرچے دوبارہ لینے کے فیصلے کو مضحکہ خیز قراردے دیا ہے، 4 جون کو او لیول کے پرچے آؤٹ ہونے اور اسے دوبارہ لینے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ حکومتی سطح پر اس معاملے پرکوئی عملی اقدام اٹھایا گیا ہے تاہم وفاقی حکومت سمیت تینوں صوبوں کی انتظامیہ تاحال اس حوالے سے خاموش ہے، ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ منسوب حسین صدیقی نے ڈائریکٹر برٹش کونسل کو اس حوالے سے ایک خط جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امتحانی پرچوں کی سیکیورٹی مکمل طور پر برٹش کونسل کی ذمے داری ہے۔

تاہم اس ذمے داری میں ناکامی کے سبب تمام طلبا کو پریشانی کاسامنا ہے، پرچے کا آؤٹ ہونا برٹش کونسل کی انتظامیہ اور امتحانی عملے کی بدانتظامی کی دلیل ہے، پرچہ آؤٹ ہونے کا یہ عمل برٹش کونسل کے عملے کی شمولیت کے بغیرممکن نہیں ہوسکتا لہٰذا موجودہ عملے کی موجودگی میں امتحانی پرچے دوبارہ لینے کا فیصلہ برٹش کونسل کی غیرذمے دارانہ رویے کی انتہاکوظاہرکرتا ہے، جاری کیے گئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ قانون اورانصاف کے تقاضوں کے تحت طلبہ کو اس عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی، برٹش کونسل کواس سلسلے میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے پرچے دوبارہ لینے کے فیصلے کے اس راہ کو اختیارکرنے کے بجائے دیگر انداز میں اس معاملے پراقدامات کرنے چاہیے۔



ڈاکٹرمنسوب صدیقی کی جانب سے بھیجے گئے خط میں دوبارہ امتحانات لینے کے فیصلے پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دوبارہ امتحانات لینے کی صورت میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ طلبہ کی کارکردگی ان پرچوں میں انتہا ئی ناقص رہے کیونکہ طلبہ کونصاب پردوبارہ توجہ دینے میں وقت درکارہوگا، بیشتر طلبہ امتحان دینے کے بعد اپنے رشتے داروں سے ملنے اور تقریبات میں شرکت کے لیے شہرسے باہرجاچکے ہیں، امتحان کے قریب یا اس سے قبل ان طلبہ کا اپنے شہروں میں اتنی عجلت میں پہنچنا ممکن نہیں ہوگا، اس حقیقت حال کی روشنی میں دوبارہ امتحان لینے کا فیصلہ ناقابل عمل ہوگا ۔

لہذاس فیصلے پرنظرثانی کی ضرورت ہے '' ایکسپریس'' کو معلوم ہواہے کہ صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے اس خط کے بعد برٹش کونسل سندھ بلوچستان کی انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے اورخط کاجواب دینے یا نہ دینے یا خط کے متن سے کیمبرج ایگزامینیشن بورڈ کوآگاہ کرنے کے حوالے سے برٹش کونسل کی انتظامیہ تذبذب کا شکار ہے کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے برٹش کونسل سے کسی معاملے میں اس قدر سخت موقف اختیارکیا گیا ہے تاہم کراچی کے اولیول اسکولوں کے پرنسپل کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹرجنرل اسکول کایہ خط والدین اورطلبہ کے جذبات کا عکاس ہے ۔

مقبول خبریں