این ای ڈی یونیورسٹی تمام اسٹریٹ لائٹس کے ای ایس سی کی بجلی پر واپس آگئیں

سولر پینل ناکارہ ہونے کے سبب اتاردیے گئے، نئے پینل کی خریداری کیلیے رقم نہیں.


Safdar Rizvi June 18, 2013
ایچ ای سی سے کچھ سولرپینل ملے ہیں،بچت کے سبب کم لائٹس جلائی جاتی ہیں ، انتظامی افسر فوٹو: فائل

این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی میں سابق دورمیں فنڈز کی بچت اورسستی توانائی کے استعمال کے منصوبے کے تحت شمسی توانائی سے چلائی جانے والے تمام اسٹریٹ لائٹس کے ای ایس سی کی بجلی پرواپس آگئی ہیں۔

این ای ڈی یونیورسٹی کی مختلف سڑکوں پر نصب درجنوںبجلی کے پولز پرلگائے گئے ''سولر پینل'' اتاردیے گئے ہیں اورانھیں واپس کے ای ایس سی کی بجلی سے چلایاجارہاہے،کے ای ایس سی کی بجلی مہنگی ہونے اور یونیورسٹی کودرپیش مالی بحران کے سبب تمام اسٹریٹ لائٹس کا استعمال کم سے کم کیاجارہاہے جس کے سبب رات کے اوقات میں یونیورسٹی ایک بار پھر اندھیرے میں ڈوبی نظرآتی ہے، بتایاجارہاہے کہ یونیورسٹی کی سڑکوں پرنصب پولز پر لگائے گئے سولرپینل اپنی کارکردگی کی مدت پوری کرچکے تھے۔



جس کے بعدوہ ناکارہ ہوگئے اوراستعمال کے قابل نہ رہنے کے سبب انھیں اتاردیاگیاتاہم یونیورسٹی کے پاس سولرپینل کی خریداری کیلیے فنڈزنہیں جس کے سبب دوبارہ سولرپینل نہیں لگائے جاسکے اوربجلی کے کھمبوں پر دوبارہ کے ای ایس سی کی بجلی کاکنکشن دے دیاگیا، یونیورسٹی کودرپیش مالی خسارے اوربجلی مہنگی ہونے کے سبب ہرکھمبے کی لائٹ جلائی نہیں جارہی بلکہ چند کھمبوںکوچھوڑکرایک کھمبے کی لائٹ جلادی جاتی ہے،''ایکسپریس''کویونیورسٹی کے ایک افسرنے بتایاکہ یہ سولرپینل ایک نجی کمپنی کی جانب سے یونیورسٹی کودیے گئے تھے۔

جوپہلے ہی کئی سال استعمال ہوچکے تھے اوردوسال تک یونیورسٹی نے بھی انھیں استعمال کیاتاہم سولرپینل کی''لائف''ختم ہوگئی جس کے بعدانھیں اتارناپڑا، اب ایچ ای سی کی جانب سے کچھ سولرپینل ملے ہیں جنھیں لگایاجارہاہے تاہم مہنگی بجلی کی بچت کے سبب چارپول چھوڑکرایک لائٹ جلائی جاتی ہے، یونیورسٹی میں اس وقت ایوننگ پروگرام کی کلاسز نہیں ہورہی لہٰذا رات کوروشنی کی زیادہ ضرورت نہیں پڑرہی، یونیورسٹی کے افسرکے مطابق یونیورسٹی کے مرکزی دروازے پرتاحال سولرپینل سے ہی روشنی کی جارہی ہے۔

مقبول خبریں