جامعہ کراچی شعبہ انجینئرنگ کی غفلت روڈ اسٹرکچر بدحالی سے دوچار

مسکن گیٹ،سیمسٹرسیل،انرولمنٹ سیکشن ،پوسٹ آفس اورشعبہ جینیٹکس کے سامنے کی سڑکیںٹوٹ پھوٹ کاشکار.


Safdar Rizvi July 01, 2013
شیخ الجامعہ کی ہدایت کے باوجود شعبہ انجینئرنگ نے سڑکوں کی استرکاری نہیں کی ،ٹریفک جام بھی معمول بن گیا. فوٹو: فائل

جامعہ کراچی کے شعبہ انجینئرنگ کی غفلت اورلاپرواہی کے سبب یونیورسٹی کا''روڈاسٹراکچر''بدحالی سے دوچارہے۔

ٹوٹی پھوٹی سڑکیں طلبا، اساتذہ اورملازمین کیلیے حادثات کاسبب بن رہی ہیں، ایم اے پرائیویٹ کے امتحانات شروع ہونے کے بعدروزانہ کی بنیادوپرہزاروں کی تعدادمیں امیدواروں کے جامعہ کراچی آنے کے باعث ان ٹوٹیں ہوئیں سڑکوں کے سبب ٹریفک جام بھی معمول بن گیاہے،شیخ الجامعہ کی واضح ہدایت کے باوجود شعبہ انجینئرنگ ان سڑکوں کی استرکاری کوتیارنہیں، بھایانی ہائٹس سے منسلک جامعہ کراچی کے مسکن گیٹ سے یونیورسٹی کے اندرآنیوالی سڑک شدید ٹوٹ پھوٹ کاشکارہے بوائزہاسٹل،سیمسٹرسیل اورکمپیوٹرسائنس ڈپارٹمنٹ کی پرانی عمارت کی جانب سے انرولمنٹ سیکشن کوجانے والی سڑک اورانرولمنٹ سیکشن سے یونیورسٹی پوسٹ آفس کی جانب آنیوالی سڑک بھی خستہ حالی سے دوچار ہے۔

شعبہ جینیٹکس اوراے کیوخان انسٹی ٹیوٹ کے سامنے سڑک ٹوٹنے کے بعدگھڑوں میں تبدیل ہوچکی ہے تاہم8سال میں کام کیے بغیرتنخواہیں لینے کاعادی شعبہ انجینئرنگ کاعملہ اوربالخصوص افسران ان سڑکوں کی مرمت میں دلچسپی نہیں رکھتے، واضح رہے کہ جامعہ کراچی میں آئے دن بین الاقوامی کانفرنس اورورکشاپ کاانعقادہوتاہے جس میں غیرملکی ماہرین بھی انھیں سڑکوں سے گزرکرشعبہ جات پہنچتے ہیں تاہم شعبہ انجینئرنگ کوصرف یونیورسٹی کے چانسلراورگورنرسندھ کے دورے کے موقع پر سڑکوں کی استرکاری کاخیال آتاہے، یونیورسٹی کے مسکن گیٹ سے اندرآنے والی سڑک جگہ جگہ سے اکھڑچکی ہے اورروزانہ کی بنیادپرہزاروں طلبہ و طالبات اسی سڑک سے جب یونیورسٹی آتے ہیں تووہاں گھنٹوں ٹریفک جام رہتاہے جبکہ کئی بارسڑک پرموجودگھڑوں کے سبب موٹرسائیکل گرنے کے واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں۔



مزیدبراں شعبہ انجینئرنگ نے کئی حادثات کے بعد ولیکاگرائونڈاورفارمیسی کی درمیانی سڑک پراسپیڈبریکرتوبناڈالے تاہم ''رفلیکٹر''نہ لگائے جانے کے سبب رات کواندھیرے میں اسپیڈبریکرنظرنہ آنے سے بھی کئی حادثات ہوچکے ہیں جس میں ایک خاتون بھی شدیدزخمی ہوئیں تھیں تاہم شیخ الجامعہ کی واضح ہدایت کے باوجود اسپیڈبریکرپربھی ریفلیکٹرنصب نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب یونیورسٹی میں صفائی ستھرائی کی صورتحال بھی ابتری کاشکارہے، شعبہ امتحانات اورلائبریری کی درمیانی جگہ مین ہول کھلے ہوئے ہیں،شعبہ تعلقات عامہ اورملازمین یونین کے سابق دفترکے باہرگندگی کے ڈھیرلگ چکے ہیں، اس راستے سے سیکڑوں طلبا روزانہ لائبریری کارخ کرتے ہیں جبکہ تعفن کے سبب وہاں سے گزرنامحال ہے، بتایاجارہاہے کہ شعبہ انجینئرنگ کی تمام توجہ بغیرٹینڈردیے لاکھوں روپے کے آڈرجاری کرنے پرمرکوز ہے، حال ہی میں انتظامی عمارت کی خراب ہونے والی لفٹ کالاکھوں روپے کاپینل ٹینڈرکے بغیرخریدلیاگیاجبکہ 50ہزارروپے سے اوپرکی خریداری کے لیے ٹینڈرکااجرا حکومت کی جانب سے لازمی قراردیاجاچکاہے۔

مقبول خبریں